ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش مگر خطرناک آفت، جو حیاتیاتی تنوع کو تباہ کر رہی ہے۔
مونا صدیقی

پاکستان کے قدرتی آبی ذخائر ایک نئے مگر خاموش ماحولیاتی خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔ حال ہی میں سکھر کے قریب ایک دھنڈ سے پکڑی گئی ایک غیر معمولی مچھلی جب کراچی فش ہاربر پہنچی تو ماہی گیروں اور ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بعد ازاں اس مچھلی کی شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر ہوئی، جو لاطینی امریکہ کی مقامی نوع ہے اور پاکستان کے آبی نظام کے لیے ایک خطرناک درانداز ثابت ہو رہی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مطابق یہ مچھلی موٹے، سخت جسم اور ہڈیوں کی پلیٹوں پر مشتمل ہوتی ہے اور دنیا بھر میں ایکویریم مچھلی کے طور پر جانی جاتی ہے، تاہم پاکستان میں یہ نادانستہ طور پر قدرتی آبی ذخائر میں داخل ہو کر سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایمازون کی مچھلی اب وسیع علاقوں میں پھیل چکی ہے، اس لیے اس کا مکمل خاتمہ یا مؤثر کنٹرول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
یہ مچھلی اُن کم از کم 26 غیر ملکی مچھلیوں کی اقسام میں شامل ہے جو گزشتہ ایک صدی کے دوران پاکستان میں متعارف ہوئیں اور بعد ازاں درانداز بن کر مقامی آبی حیات کے لیے شدید خطرہ ثابت ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقسام خوراک اور رہائش کے لیے مقامی مچھلیوں سے مقابلہ کرتی ہیں، انہیں شکار بناتی ہیں، بیماریاں پھیلاتی ہیں اور آبی مساکن کو اس طرح تبدیل کر دیتی ہیں کہ مقامی انواع کے لیے بقا مشکل ہو جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ماہی گیری کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان میں غیر ملکی مچھلیوں کا تعارف کوئی نیا عمل نہیں۔ 1928 میں خیبر پختونخوا میں براؤن ٹراؤٹ اور رین بو ٹراؤٹ متعارف کرائی گئیں۔
بعد ازاں 1960 کی دہائی میں مچھلیوں کی پیداوار بڑھانے اور آبی جڑی بوٹیوں پر قابو پانے کے لیے موزمبیق ٹلاپیا، کامن کارپ، گولڈ فش اور گراس کارپ کو قدرتی آبی ذخائر میں چھوڑا گیا۔
سن1980 کی دہائی میں سلور کارپ، بِگ ہیڈ کارپ اور مختلف اقسام کی ٹلاپیا متعارف ہوئیں۔ اگرچہ ان اقدامات کا مقصد ایکوی کلچر کو فروغ دینا تھا، مگر ان کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مطابق ٹلاپیا کی اقسام نے پاکستان کے گرم پانیوں والے قدرتی آبی ذخائر میں مقامی مچھلیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
منچھر اور کیکینجھر جھیلوں میں مچھلیوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کا براہِ راست اثر مقامی ماہی گیروں کے روزگار پر پڑا۔
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف اقسام کی کیٹ فش، بشمول نارتھ افریکن کیٹ فش اور واکنگ کیٹ فش، بھی پاکستان میں پھیل چکی ہیں، جو مقامی مچھلیوں کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔
صرف دانستہ تعارف ہی نہیں بلکہ ایکویریم تجارت میں غیر ذمہ دارانہ رویے بھی اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔
گپی، مولی اور ایمازون سیل فن کیٹ فش جیسی مچھلیاں شہروں اور قصبوں کے اطراف آبی ذخائر میں چھوڑ دی گئیں، جہاں وہ تیزی سے پھیل کر ماحولیاتی عدم توازن پیدا کر رہی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان نے اس جانب
بھی توجہ دلائی ہے کہ ریڈ بیلیڈ پاکو
جیسی انتہائی جارحانہ مچھلی کے بیج
سوشل میڈیا کے ذریعے فروخت ہوتے
رہے، اور آج یہ مچھلی سندھ اور پنجاب
میں فارمنگ کے ساتھ ساتھ قدرتی آبی
ذخائر میں بھی نظر آ رہی ہے۔
دریائے چناب کے قریب ملتان اور سندھ کے علاقے کندھ کوٹ میں اس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاکو جیسی اقسام خوراک کے وسائل پر قبضہ کر کے، آبی مساکن کو تبدیل کر کے اور مقامی مچھلیوں کو پیچھے دھکیل کر پورے آبی ماحولیاتی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مطابق درانداز مچھلیوں کا مسئلہ اب محض ماہی گیری تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ قومی حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
اسی تناظر میں ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان نے قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور ایکشن پلان کی حالیہ نظرثانی میں درانداز مچھلیوں کو ایک بڑے خطرے کے طور پر شامل کروایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ
فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا
تنظیم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی مچھلیوں کے تعارف پر سخت نگرانی کی جائے اور ایکوی کلچر و ایکویریم تجارت کے لیے مؤثر قرنطینہ نظام قائم کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ متاثر وہ کمیونٹیز ہو رہی ہیں جو جھیلوں، آبی ذخائر اور بیراجوں کے اطراف آباد ہیں۔
مقامی ماہی گیر بارہا شکایت کرتے رہے ہیں کہ درانداز مچھلیاں کم قیمت پر فروخت ہوتی ہیں اور قیمتی مقامی مچھلیوں کی جگہ لے لیتی ہیں، جس سے ان کی آمدن اور آبی ذخائر کی مجموعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش آفت پاکستان کے آبی ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
