فروزاں فروزاں کے مضامین وائلڈ لائف

عالمی یومِ جنگلی حیات 2026: ادویاتی پودوں کا تحفظ، صحت اور معیشت کا عالمی چیلنج

عالمی یومِ جنگلی حیات یاد دلاتا ہے کہ ادویاتی پودوں کا تحفظ پائیدار ترقی اور حیاتیاتی تنوع کی ضمانت ہے، جدید دواسازی کی صنعت بھی محتاج

ہر سال 3 مارچ کو منایا جانے والا ورلڈ وائلڈ لائف ڈے یعنی عالمی یومِ جنگلی حیات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلی حیات صرف شیروں، ہاتھیوں اور نایاب پرندوں تک محدود نہیں۔ پودے بھی قدرتی ورثے کا بنیادی ستون ہیں۔

سال 2026 میں اس دن کی توجہ ادویاتی اور خوشبودار پودوں پر مرکوز کی گئی ہے۔ یہ وہ سبز خزانہ ہے جس پر انسانی صحت، دیہی معیشت اور عالمی حیاتیاتی تنوع کا بڑا حصہ انحصار کرتا ہے۔

اس رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ادویاتی پودے کیوں اہم ہیں، انہیں کیا خطرات لاحق ہیں اور پاکستان اس عالمی مکالمے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

ادویاتی پودا کیا ہے؟

ادویاتی پودے کی کوئی ایک متفقہ تعریف موجود نہیں۔ تاہم صدیوں سے دنیا بھر کی تہذیبیں پودوں کو علاج، غذا اور روحانی مقاصد کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں۔ یونانی طب، آیورویدک نظام، طبِ چینی اور مقامی دیسی طریقہ علاج سب پودوں پر مبنی علم کا حصہ ہیں۔

آج جدید دواسازی کی صنعت بھی پودوں سے حاصل شدہ کیمیائی مرکبات پر انحصار کرتی ہے۔ کاسمیٹکس، پرفیوم، غذائی سپلیمنٹس اور گھریلو مصنوعات میں بھی ان کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ قدرتی مصنوعات کی عالمی طلب نے اس شعبے کو اربوں ڈالر کی معیشت میں بدل دیا ہے۔

عالمی تحفظِ حیات کا بدلتا زاویہ

ماضی میں جنگلی حیات کے تحفظ کی توجہ زیادہ تر جانوروں پر رہی۔ اب عالمی ادارے تسلیم کر رہے ہیں کہ پودوں کے بغیر حیاتیاتی تنوع کا تصور مکمل نہیں۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر یعنی آئی یو سی این کے ماہرین کے مطابق ہزاروں کمیونٹیز اور فارماسیوٹیکل صنعت پودوں سے حاصل شدہ ادویات پر انحصار کرتی ہیں۔

اسی طرح کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن اینڈینجرڈ اسپیشیز آف وائلڈ فونا اینڈ فلورا یعنی سائٹس کے تحت بھی پودوں کی بین الاقوامی تجارت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ اعتراف ہے کہ عالمی تجارت میں شامل نایاب انواع میں بڑی تعداد پودوں کی ہے۔

Today, the modern pharmaceutical industry also relies on chemical compounds derived from plants.
آج جدید دواسازی کی صنعت بھی پودوں سے حاصل شدہ کیمیائی مرکبات پر انحصار کرتی ہے۔

30 ہزار اقسام: استعمال اور خطرات

تحقیقی اداروں کے مطابق تقریباً 30 ہزار پودوں کی اقسام ادویاتی یا خوشبودار مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ رائل بوٹینک گارڈن اور آئی یو سی این کے ماہرین نے عالمی ڈیٹا بیس تیار کیے ہیں جو ان انواع کو دستاویزی شکل دیتے ہیں۔

تاہم یہ سبز خزانہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ زرعی توسیع، زمین کے استعمال میں تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور غیر پائیدار طریقے سے جنگلی پودوں کی کٹائی ان کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، خاص طور پر پہاڑی اور دلدلی ماحولیاتی نظام میں۔

پاکستان میں شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی خطے قیمتی جڑی بوٹیوں کا مسکن ہیں۔ مگر غیر منظم کٹائی، اسمگلنگ اور موسمیاتی تغیر ان کی بقا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

جٹامانسی: ایک علامتی مثال

ہمالیائی جڑی بوٹی نارڈوسٹاچس جٹامانسی، جسے جٹامانسی یا سپائیک نارڈ کہا جاتا ہے، اس مسئلے کی نمایاں مثال ہے۔ آیورویدک اور دیگر روایتی نظامِ علاج میں اس کی خوشبودار جڑیں قیمتی سمجھی جاتی ہیں۔

چونکہ جڑ ہی قابلِ استعمال حصہ ہے، اس لیے کٹائی پورے پودے کو ختم کر دیتی ہے۔ آئی یو سی این کی سرخ فہرست میں اسے شدید خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ نیپال اور بھارت میں اس کی تجارت پر پابندیاں اور نگرانی کا نظام نافذ ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں تحفظ اور معاش ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ دیہی آبادیوں کی روزی روٹی بھی انہی جڑی بوٹیوں سے وابستہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا دباؤ

موسمیاتی تبدیلی ادویاتی پودوں کے لیے ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور شدید موسمی واقعات پہاڑی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔

پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے اور گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مخصوص بلندیوں پر اگنے والی کئی انواع خطرے میں ہیں۔ اگر ماحولیاتی حدود بدل گئیں تو بعض اقسام ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہیں۔

Approximately 30,000 plant species are used for medicinal or aromatic purposes.
تقریباً 30 ہزار پودوں کی اقسام ادویاتی یا خوشبودار مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

صارفین اور کمپنیوں کی ذمہ داری

قدرتی مصنوعات کی بڑھتی طلب کے ساتھ شفافیت اور اخلاقی ذمہ داری بھی اہم ہو گئی ہے۔ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن، ٹریفک اور آئی یو سی این کے تعاون سے تیار کردہ آن لائن پلیٹ فارم وائلڈ چیک کمپنیوں اور صارفین کو یہ جانچنے میں مدد دیتا ہے کہ کٹائی پائیدار ہے یا نہیں۔

اسی طرح فیئر وائلڈ اسٹینڈرڈ جیسے سرٹیفیکیشن نظام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سپلائی چین ماحولیاتی اور سماجی اصولوں پر پوری اترے۔

پاکستان میں جڑی بوٹیوں کی برآمدات کے لیے شفاف ٹریس ایبلٹی سسٹم متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ عالمی منڈی میں مسابقت کے ساتھ تحفظ کے تقاضے بھی پورے ہوں۔

پاکستان کے لیے پالیسی نکات

پاکستان ادویاتی پودوں کے تحفظ اور معاشی فوائد میں توازن قائم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے قومی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے۔ مقامی جڑی بوٹیوں کی اقسام اور مقدار کو دستاویزی شکل دی جائے۔ مقامی آبادیوں کو پائیدار کٹائی کی تربیت دی جائے۔

جامعات اور تحقیقی اداروں کو نباتاتی تحقیق اور ویلیو ایڈیشن کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کے خلاف مؤثر نگرانی کی جائے۔ پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو قومی موسمیاتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

سبز ورثہ، مشترکہ ذمہ داری

عالمی یومِ جنگلی حیات کا پیغام واضح ہے۔ پودے محض خام مال نہیں بلکہ حیاتیاتی نظام کی بنیاد ہیں۔ ادویاتی پودے صحت، دیہی معاش اور عالمی معیشت سے جڑے ہیں، مگر ان کی بقا خطرے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں 75ویں پاکستان سالانہ پھولوں کی نمائش 2026، سی ویو پر رنگوں کی بہار

زمین کے چھن جانے کا خوف، 1 ارب انسان عدم تحفظ کا شکار

اگر غیر پائیدار استعمال جاری رہا تو نایاب انواع کے ساتھ روایتی علم بھی ختم ہو جائے گا۔ پاکستان جیسے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ملک کے لیے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور موقع بھی۔

درست پالیسی، مقامی شمولیت اور عالمی معیارات کی پیروی سے سبز خزانے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ادویاتی پودوں کا تحفظ صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں۔ یہ صحت، انصاف اور پائیدار ترقی کا تقاضا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں