فی کس قابلِ تجدید پانی میں کمی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور بدانتظامی کے باعث بڑھ رہی ہے، جس سے غذائی قلت، ہجرت، صحت کے مسائل اور آبی تنازعات کا خطرہ ہے۔
خصوصی رپورٹ
فی کس قابلِ تجدید پانی میں کمی گزشتہ دہائی میں سات فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی آبی بحران اور ممکنہ انسانی و معاشی نقصانات کی خصوصی وارننگ ہے۔
پانی کی جنگ میں بڑی خاموشی سےدنیا ایک ایسے بحران کی طرف دھکیلی جا رہی ہے جس کی کوئی سرخی نہیں بنتی، کوئی فوری جنگ نہیں چھڑتی، مگر اس کے نتائج ہر جنگ سے زیادہ تباہ کن ہیں ۔
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی دسمبر 2025 میں جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹ نے اس خاموش تباہی کو اعداد و شمار کی زبان میں بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں دنیا بھر میں فی کس قابلِ تجدید پانی کی دستیابی میں سات فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
یہ کمی محض قدرتی نہیں، یہ انسانی فیصلوں، ریاستی غفلت اور ترقی کے نام پر کی گئی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا دنیا واقعی پانی سے محروم ہو رہی ہے، یا پانی کو چند طاقتور ہاتھوں میں قید کر دیا گیا ہے؟
قابلِ تجدید پانی: ایک ختم ہوتا تصور
واضع رہے کہ ”قابل تجد یدپانی“ وہ قدرتی پانی ہے جو بارش اور قدرتی نطام کے زریعے بار بار پیدا ہوتا رہتا ہے اور انسانی استمال کے بعد دوبارہ بحال ہو جاتا ہے۔ مگر ایف اے او کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ ”تجدید“ یا پانی کی دوبارہ بحالی اب محض ایک نظریہ بنتا جا رہا ہے۔
آبادی میں بے تحاشا اضافہ، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ، صنعتی آلودگی، اور سب سے بڑھ کر موسمیاتی تبدیلی نے پانی کے قدرتی چکر کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔

فی کس پانی کی کمی اس بات کی علامت ہے کہ پانی کی تقسیم غیر منصفانہ ہو چکی ہے۔ کچھ خطے پانی میں ڈوب رہے ہیں، جبکہ کچھ پیاس سے مر رہے ہیں۔ یہ قدرت کا تضاد نہیں، یہ انسانی نظام کی ناکامی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی: بحران کا ایندھن
ایف اے او کی رپورٹ ”Aquastat Water Data Snapshot 2025“موسمیاتی تبدیلی کو پانی کی قلت کا مرکزی محرک قرار دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ کہیں طویل خشک سالی،کہیں غیر معمولی بارشیں۔
کہیں گلیشیئرز کا بے قابو پگھلاؤ،کہیں دریاؤں کا سکڑتا ہوا بہاؤ،یہ سب مظاہر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمین کا آبی توازن بگڑ چکا ہے۔
مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتیں آج بھی موسمیاتی تبدیلی کو”مستقبل کا مسئلہ“قرار دے کر ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کر رہی ہیں، جبکہ پانی کا بحران حال میں انسانوں کو بے گھر، بے روزگار اور بیمار کر رہا ہے۔
زراعت: سب سے بڑا صارف، سب سے کم اصلاح
ایف اے او کے مطابق دنیا بھر میں استعمال ہونے والے میٹھے پانی کا تقریباً ستر فیصد زرعی شعبہ ہڑپ کر جاتا ہے۔مگر اس کا بڑا حصہ ناقص اور فرسودہ آبپاشی نظام کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں پانی اب بھی کھلے کھالوں، غیر سائنسی طریقوں اور جاگیردارانہ ڈھانچوں کے رحم و کرم پر ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی غذائی نظام خود اپنے بنیادی وسیلے، یعنی پانی، کو تباہ کر رہا ہے۔ خوراک پیدا کرنے کے نام پر پانی کو اس حد تک نچوڑا جا رہا ہے کہ زمین کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچ رہا۔
پاکستان: ایک آبی ایمرجنسی، جسے ماننے سے انکار
اگر اس عالمی تصویر کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال محض تشویشناک نہیں بلکہ خطرناک حد تک مجرمانہ دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان آج دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو تیزی سے واٹر اسکارسٹی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ملک میں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد سے نیچے آ چکی ہے۔

زیرِ زمین پانی بے قابو انداز میں نکالا جا رہا ہے،دریا ؤں،ڈیموں، بیراجوں کے معاملات سیاسی تنازعات کی نذر ہو چکے ہیں،اس کے ساتھ سیلاب اور خشک سالی کی صورتحال بیک وقت قومی حقیقت بن چکے ہیں۔
ایف اے او کی رپورٹ اگرچہ عالمی ہے، مگر اس کی ہر سطر پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک فردِ جرم ہے۔ یہاں پانی پر نہ کوئی سنجیدہ پالیسی ہے، نہ مؤثر نفاذ، اور نہ ہی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جاتا ہے۔
پانی اور طاقت: ایک نیا نوآبادیاتی کھیل
رپورٹ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ پانی اب محض قدرتی وسیلہ نہیں رہا، بلکہ سیاسی اور معاشی طاقت کا ہتھیار بن چکا ہے،
بڑی کارپوریشنز پانی کے ذخائر پر قبضہ کر رہی ہیں،شہری علاقوں میں پانی ٹینکروں میں فروخت ہو رہا ہے اور غریب طبقہ ان ٹینکروں اور آلودہ ذرائع سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ی
ہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پانی کا بحران دراصل انصاف کا بحران ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس پانی ہے اور جو کمزور ہے، اس کے حصے میں پیاس آتی ہے۔
سماجی اثرات: سب سے زیادہ سزا کمزور طبقات کو
ایف اے او کی رپورٹ اس امر کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ پانی کی قلت کا سب سے بڑا بوجھ خواتین،بچے،دیہی اور پسماندہ کمیونٹیزاٹھا رہی ہیں۔
کئی علاقوں میں بچے تعلیم چھوڑ کر پانی لانے پر مجبور ہیں، خواتین کی صحت متاثر ہو رہی ہے، اور غربت مزید گہری ہو رہی ہے۔
یوں پانی کی کمی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بن چکی ہے۔
ایف اے او کی سفارشات: مگر سننے والا کون؟
ایف اے او نے اپنی رپورٹ میں واضح سفارشات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پانی کے پائیدار اور منصفانہ استعمال کی پالیسی، زرعی اصلاحات اور جدید آبپاشی،موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ منصوبہ بندی،مقامی سطح پر پانی کے انتظام میں عوام کی شمولیت جیسے اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاستیں ان سفارشات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پانی بھی ان وعدوں کی طرح ہے جو عالمی کانفرنسوں کے بعد فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں
جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ
اسلام آباد میں تیندوے کی موجودگی: شہریوں میں تشویش کی لہر
کیا دنیا ماحولیاتی بحران روک پائے گی؟
پانی کا بحران، بقا کا سوال
فی کس قابلِ تجدید پانی میں سات فیصد کمی کوئی معمولی خبر نہیں، یہ ایک ہنگامی اعلان ہے۔ یہ اعلان کر رہا ہے کہ اگر موجودہ نظام، موجودہ ترقی کا ماڈل اور موجودہ طاقت کا توازن نہ بدلا گیا تو پانی آنے والی جنگوں، ہجرتوں اور تباہی کی بنیادی وجہ بنے گا۔
ہمیں سمجھنا ہو گا کہ پانی کی کمی کوئی قدرتی آفت نہیں، انسانی جرم ہے اور ہر جرم کی طرح اس کا احتساب بھی ناگزیر ہے چاہے وہ ریاستوں کا ہو، اداروں کا ہو یا طاقتور مفادات کا۔

