فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی خبریں

گل پلازہ کی آگ: ایک حادثہ نہیں، سنگین ماحولیاتی جرم ہے

Smoke and debris after Gul Plaza fire highlighting environmental pollution in Karachi

گل پلازہ کی آگ محض حادثہ نہیں بلکہ سنگین ماحولیاتی جرم ہے جو کراچی کی فضا، پانی اور صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

Smoke and debris after Gul Plaza fire highlighting environmental pollution in Karachi

کراچی کے ایک بڑے شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی محض ایک عمارت کی تباہی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے انسانی جانوں، معاشی وسائل اور شہری ماحولیات کو بیک وقت متاثر کیا۔

شعلوں میں لپٹی دکانیں، زہریلے دھوئیں سے بھرا آسمان، خوف اور بے بسی کے مناظر،یہ سب چند دنوں کی خبریں نہیں بلکہ ایک طویل المدت ماحولیاتی بحران کی علامت ہیں۔

ہم ایسے واقعات کو عموماً ایک’’بدقسمت حادثہ‘‘ قرار دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید شہروں میں ہونے والی بڑی آتشزدگیاں اب عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کے سنگین ذرائع کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہیں۔

گل پلازہ کی آگ بھی اسی زمرے میں آتی ہے، جس کے اثرات ہوا، پانی، مٹی اور انسانی صحت تک پھیلتے چلے گئے۔

آگ، دھواں اور زہریلی فضا

گل پلازہ میں آگ کے دوران سب سے فوری اور خطرناک ماحولیاتی مسئلہ فضائی آلودگی کی صورت میں سامنے آیا۔

شاپنگ سینٹرز میں موجود کپڑا، پلاسٹک، مصنوعی فائبر، فرنیچر، الیکٹرانکس اور کیمیائی اشیا جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ساتھ کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز، ڈائی آکسنز، فُیورانز اورپی ایم2.5 جیسے باریک زہریلے ذرات خارج ہوتے ہیں۔

Smoke and debris after Gul Plaza fire highlighting environmental pollution in Karachi
گل پلازہ کی آگ کے بعد اٹھتا زہریلا دھواں اور ملبہ، جو کراچی کے ماحولیاتی مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے مطابق، بڑی شہری آتشزدگیاں فضائی آلودگی میں اچانک اور خطرناک اضافہ کرتی ہیں، جس کے اثرات کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) واضح کرتا ہے کہ ایسے باریک ذرات سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور قبل از وقت اموات کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں میں۔

پلاسٹک جلنے کا زہر: خاموش قاتل

ہر شاپنگ سینٹرز میں پلاسٹک کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے، جو آگ لگنے کی صورت میں ایک خاموش ماحولیاتی قاتل بن جاتی ہے۔

یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق، پلاسٹک اور مصنوعی فائبر کے جلنے سے خارج ہونے والی ڈائی آکسنز اور فُیورانز نہایت زہریلے کیمیکلز ہیں، جو انسانی جسم میں جمع ہو کر کینسر، ہارمونل خرابیوں اور اعصابی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

Smoke and debris after Gul Plaza fire highlighting environmental pollution in Karachi
گل پلازہ کی آگ کے بعد اٹھتا زہریلا دھواں اور ملبہ، جو کراچی کے ماحولیاتی مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔

اس حوالے سے امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (یو ایس ای پی اے) خبردار کرتی ہے کہ یہ زہریلے مرکبات نہ صرف ہوا بلکہ مٹی اور پانی میں بھی جذب ہو جاتے ہیں، جس سے زرعی زمین، زیرِ زمین پانی اور خوراکی نظام متاثر ہوتا ہے۔

کراچی جیسے گنجان شہر میں اس قسم کی آلودگی کے اثرات کئی گنا زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

فائر فائٹنگ، آلودہ پانی اور سمندر کا خطرہ

آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والا ہزاروں گیلن پانی ایک اور پوشیدہ ماحولیاتی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔

یہ پانی جلتے ہوئے کیمیکلز، رنگ، تیل، بیٹریز اور الیکٹرانک فضلے کے ساتھ مل کر زہریلا کیمیائی محلول بن جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق، جب یہ آلودہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے ندی نالوں اور سمندر میں داخل ہوتا ہے تو یہ آبی حیات کے لیے شدید خطرہ بن جاتا ہے۔

کراچی جیسے ساحلی شہر میں یہ آلودہ پانی بالاآخر سمندر تک پہنچ کر مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی جانداروں کی افزائش اور انسانی خوراک کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔

راکھ، ملبہ اور خطرناک فضلہ

آتشزدگی کے بعد بچ جانے والی راکھ اور ملبہ عموماً عام کچرے کی طرح ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے، حالانکہ عالمی ماحولیاتی اصولوں کے مطابق ہیزرڈس ویسٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

Smoke and debris after Gul Plaza fire highlighting environmental pollution in Karachi

اس میں بھاری دھاتیں، زہریلے ذرات اور

کیمیائی باقیات شامل ہوتی ہیں۔اقوام

متحدہ کا ماحولیاتی پروفرام اور امریکہ کی

ماحولیاتی ایجنسی دونوں اس بات پر متفق

ہیں کہ اگر اس ملبے کو سائنسی طریقے

سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ مٹی کی

زرخیزی ختم کرنے اور زیرِ زمین پانی کو

آلودہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے قانون سازی اور عمل درآمد کی شدید کمی ایک مستقل ماحولیاتی خطرہ بن چکی ہے۔

انسانی جانیں اور ماحولیاتی ناانصافی

گل پلازہ کی آتشزدگی نے ماحولیاتی ناانصافی کی ایک تلخ تصویر بھی پیش کی۔ ایسے سانحات میں سب سے زیادہ متاثر وہ طبقات ہوتے ہیں جو پہلے ہی معاشی اور سماجی طور پر کمزور ہوتے ہیں جن میں دکاندار، دوکانوں پر کام کرنے والے مزدور، فائر فائٹرز اور قریبی آبادی کے رہائشی شامل ہیں۔

عالمی ماحولیاتی مطالعات کے مطابق، آلودگی اور ماحولیاتی خطرات کا بوجھ اکثر غریب اور کمزور طبقات پر زیادہ پڑتا ہے، جبکہ پالیسی سازی میں ان کی آواز شامل نہیں ہوتی۔

یہ صورتحال ماحولیاتی انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

شہری منصوبہ بندی کی ناکامی اور موسمیاتی ربط

بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) اپنی رپورٹس میں واضح کر چکا ہے کہ شہری آتشزدگیاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جو بالواسطہ طور پر موسمیاتی تبدیلی کو تیز کرتی ہیں جب کہ بلیک کاربن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے اخراج نہ صرف مقامی بلکہ عالمی ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق، ترقی پذیر ممالک میں فائر سیفٹی، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط پالیسی فریم ورک کے تحت دیکھنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں بار بار ہونے والی آتشزدگیاں اسی پالیسی خلا کی نشاندہی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان زلزلہ 5.9 شدت

سندھ کی ساحلی تاریخ اور قدیم سمندری تہذیبوں کی نمائش

راکھ سے اٹھتا عالمی سوال

گل پلازہ کی آگ ایک مقامی سانحہ ضرور ہے، مگر اس کے ماحولیاتی اثرات ایک عالمی مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔

دنیا اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ شہری آتشزدگیاں محض حادثات نہیں بلکہ ماحولیاتی اور صحت کے بحران ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی اس حقیقت کو تسلیم کر کے فائر سیفٹی، ماحولیاتی قوانین اور شہری منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے نافذ کرے گا؟

اگر ایسا نہ ہوا تو گل پلازہ کی راکھ میں دبے ہوئے سوال مستقبل میں کہیں زیادہ بڑے اور تباہ کن سانحات کی شکل میں ہمارے سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ آگ بجھ چکی ہے، مگر اس کے چھوڑے ہوئے ماحولیاتی زخم اب بھی سلگ رہے ہیں اور ان کا جواب محض افسوس نہیں، عمل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں