فروزاں ماحولیاتی رپورٹس

جنگلات: عالمی اعداد و شمار اورمقامی حقیقت

Global Forest Resources Assessment 2025 report cover showing global forest statistics and trends

جنگلات عالمی موسمیاتی تحفظ کی آخری دیوار ہیں۔ ایف اے او رپورٹ 2025 بتاتی ہے کہ جنگلات کا تحفظ مستقبل کی بقا سے جڑا ہے۔

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی بحران اب مستقبل کا اندیشہ نہیں بلکہ حال کی حقیقت بن چکا ہے۔

کہیں شدید گرمی کی لہریں معمول بن چکی ہیں، کہیں سیلاب تباہی مچا رہے ہیں اور کہیں خشک سالی زندگی کے بنیادی وسائل نگل رہی ہے۔

اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ایف اے او کی جانب سے جاری کی جانے وای تازہ ترین گلوبل فاریسٹ ریسورسیز اسسمنٹ رپورٹ 2025 محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ ایک عالمی انتباہ ہے، جو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر جنگلات کو نظرانداز کیا گیا تو موسمیاتی بقا ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

عالمی جنگلات: کمی کی رفتار کم، خطرہ برقرار

ایف آر اے 2025 کے مطابق دنیا بھر میں جنگلات کا مجموعی رقبہ اب بھی دباؤ کا شکار ہے، تاہم ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ جنگلات کے خالص نقصان کی رفتار میں ماضی کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔

یہ کمی بظاہر امید کی کرن دکھائی دیتی ہے، مگر رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ یہ پیش رفت نازک اور غیر یقینی ہے۔

دنیا کے کئی خطوں میں جنگلات کی بحالی، شجرکاری مہمات اور بہتر پالیسیوں نے مثبت اثرات دکھائے ہیں، مگر دوسری جانب ترقی پذیر ممالک میں زرعی توسیع، آبادی میں اضافہ اور کمزور حکمرانی اب بھی جنگلات کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

Global Forest Resources Assessment 2025 report cover showing global forest statistics and trends

دنیا کے کئی خطوں میں جنگلات کی بحالی

شجرکاری مہمات اور بہتر پالیسیوں نے مثبت

اثرات دکھائے ہیں، مگر دوسری جانب ترقی پذیر

ممالک میں زرعی توسیع، آبادی میں اضافہ

اور کمزور حکمرانی اب بھی جنگلات کے لیے

سنگین خطرہ ہیں۔

خاص طور پر ٹراپیکل خطے بدستور سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں قدرتی جنگلات تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔

قدرتی جنگلات بمقابلہ پلانٹیشن فارسٹ

رپورٹ کا ایک اہم مگر تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قدرتی جنگلات کے مقابلے میں پلانٹیشن فارسٹ کا تناسب بڑھ رہا ہے۔

اگرچہ صنعتی ضروریات کے لیے پلانٹیشن فارسٹ وقتی حل فراہم کر سکتے ہیں، مگر وہ قدرتی جنگلات کا نعم البدل نہیں کیوں کہ قدرتی جنگلات حیاتیاتی تنوع کا اصل مسکن ہوتے ہیں، مقامی ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں، اس کے ساتھ کاربن ذخیرہ کرنے کی زیادہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر جنگلاتی پالیسی صرف درختوں کی تعداد تک محدود رہی اور جنگلات کے معیار کو نظرانداز کیا گیا تو طویل المدتی ماحولیاتی نقصان ناگزیر ہوگا۔

Global Forest Resources Assessment 2025 report cover showing global forest statistics and trends
عالمی جنگلات کی تازہ صورتحال — ایف اے او کی رپورٹ 2025 کے مطابق جنگلات کا عالمی رقبہ اور تبدیلیاں

موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات: آخری دفاعی دیوار

یہ حقیقت اب سائنسی طور پر مسلمہ ہے کہ جنگلات موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔

ایف اے او کی تجزیاتی رپورٹ 2025کے مطابق جنگلات سالانہ اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں،عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار کو کم کرتے ہیں،سیلاب، زمینی کٹاؤ اور شدید موسم کے اثرات کو محدود کرتے ہیں۔

تاہم رپورٹ اس امر پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ جنگلات کی مسلسل تباہی عالمی کاربن بجٹ کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں پیرس معاہدے اور دیگر عالمی موسمیاتی اہداف محض دعووں تک محدود ہو سکتے ہیں۔

Global Forest Resources Assessment 2025 report cover showing global forest statistics and trends

تاہم رپورٹ اس امر پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ

جنگلات کی مسلسل تباہی عالمی کاربن بجٹ کو

شدید خطرے میں ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے

میں پیرس معاہدے اور دیگر عالمی موسمیاتی

اہداف محض دعووں تک محدود ہو سکتے ہیں۔

پاکستان: اعداد و شمار سے آگے کی کہانی

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسے میں یہ رپورٹ بالواسطہ طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے کئی اہم سوالات اٹھاتی ہے۔

پاکستان میں جنگلات کا مجموعی رقبہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی محدود ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کا جنگلاتی رقبہ عالمی معیار سے کہیں کم ہے، جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافہ، ایندھن کی ضروریات اور زمین کے استعمال میں تبدیلی جنگلات پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔

شجرکاری مہمات: کامیابی یا خود فریبی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی گئیں، جنہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔

تاہم اس رپورٹ کے مجموعی عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے
کہ کیا ہم درخت گن رہے ہیں یا جنگلات بنا رہے ہیں؟کیوں کہ اصل مسئلہ شجرکاری نہیں بلکہ قدرتی جنگلات کا تحفظ،لگائے گئے درختوں کی بقا اور مقامی اقسام (نیٹو اسپیشیز) کوفروغ دینے کے ساتھکمیونٹی کی شمولیت کا ہے۔

اگر شجرکاری محض اعداد و شمار کی حد تک رہی تو یہ ماحولیاتی بحران کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔

حیاتیاتی تنوع: خاموش بحران

پاکستان کے جنگلات نہ صرف کاربن ذخیرہ کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ بے شمار جنگلی حیات، پرندوں اور نباتات کا مسکن بھی ہیں۔

ایف آر اے 2025خبردار کرتی ہے کہ جنگلات کے خاتمے سے حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

شمالی علاقہ جات، دریائی جنگلات اور ساحلی مینگرووز پاکستان کے وہ خطے ہیں جہاں جنگلات کا تحفظ براہِ راست ماہی گیری،زراعت،مقامی روزگار اور قدرتی آفات کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہی علاقے سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔

پالیسی اور عملدرآمد: سب سے کمزور کڑی

عالمی سطح پر اس حقیقت کو تسلیمکیا جاتا ہے کہ جنگلات سے متعلق قوانین کی کمی نہیں، اصل مسئلہ عملدرآمد ہے۔

پاکستان میں بھی فاریسٹ ایکٹس، پالیسی ڈاکیومنٹس اور ماحولیاتی وعدے موجود ہیں، مگر زمینی حقیقت ان سے مختلف نظر آتی ہے۔غیر قانونی کٹائی، کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت اور وسائل کی کمی وہ عوامل ہیں جو جنگلاتی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔

رپورٹ واضح اشارہ دیتی ہے کہ بغیر شفاف نگرانی اور کمیونٹی شمولیت کے کوئی بھی پالیسی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔

گلوبل فاریسٹ ریسورسیز اسسمنٹ رپورٹ 2025 ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگلات کا مستقبل محض حکومتوں کے فیصلوں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے جڑا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں ضروری ہے کہ جنگلات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھا جائے، شجرکاری کے ساتھ قدرتی جنگلات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے،مقامی آبادی کو جنگلات کا محافظ بنایا جائے اس کے ساتھ موسمیاتی، آبی اور زرعی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے

یہ بھی پڑھیں

شہر کراچی کے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ

کیا شدید موسمیاتی انتہاؤں اور بحران کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟

انتباہ بھی، موقع بھی

یہ رپورٹ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ جنگلات اگر بچ گئے تو انسانیت کو وقت مل جائے گا، اور اگر جنگلات ہار گئے تو باقی سب جنگیں بے معنی ہو جائیں گی۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ رپورٹ ایک موقع بھی ہے کہ وہ عالمی تجربات سے سیکھ کر اپنی سمت درست کریں۔

ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ جنگلات کا تحفظ محض ماحولیاتی ایجنڈا نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی بقا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے، کیونکہ فطرت مہلت ضرور دیتی ہے، مگر ہمیشہ نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں