فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی خبریں

موسمیاتی تبدیلی سے لڑتی بلوچستان کی خواتین فرنٹ لائن پر

Rural women in Balochistan walking long distances to collect water due to climate change and drought

بلوچستان کی دیہی خواتین موسمیاتی تبدیلی کے سخت اثرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ پانی کی قلت، خشک سالی اور غربت کے باوجود ان کی جدوجہد جاری ہے۔

Rural women in Balochistan walking long distances to collect water due to climate change and drought

میں عرصہ دراز سے ایک بین الاقوامی ادارے کے کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس سلسلے میں مجھے بلوچستان کے مختلف اضلاع، بشمول لسبیلہ، میں فیلڈ ورک کے لیے جانا پڑتا ہے۔

وہاں میں لوگوں سے ملتا ہوں، ان کے مسائل کو سمجھتا ہوں اور کمیونٹی موبلائزیشن و سوشل موبلائزیشن کے مختلف طریقے بروئے کار لاتا ہوں۔

ہر ملاقات ایک نیا سبق دیتی ہے، ہر قصہ ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے، اور بہت سی ایسی کہانیاں سامنے آتی ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

اسی دوران مجھے رحیمہ بلوچ جیسی خواتین کی زندگیوں کا سامنا ہوا۔ صبح کے وقت وہ اپنے بچوں کو سوتا چھوڑ کر خالی مٹکے اٹھا کر پانی کے لیے نکل پڑتی ہیں۔ لیاری، بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کبھی پانی کا کنواں قریب ہوتا تھا، مگر پچھلے چند سالوں میں خشک سالی اور بارشوں کی کمی نے کنویں اور دیگر پانی کے ذرائع سوکھا دیے ہیں۔

Rural women in Balochistan walking long distances to collect water due to climate change and drought
بلوچستان کے دیہی علاقوں میں خواتین موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے باعث روزانہ کئی کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔

پانی کے لیے روزانہ کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا رحیمہ کے لیے معمول بن چکا ہے۔ راستے میں وہ سوچتی ہیں کہ اگر پانی آسانی سے ملتا تو وہ زیادہ وقت اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے دیگر کاموں میں صرف کر سکتیں۔

واپسی پر وہ اپنے شوہر کو فصلوں کی خراب حالت دیکھ کر پریشان پاتی ہیں۔ بلوچستان میں شدید گرمی اور خشک سالی نے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار متاثر کی ہے۔ پچھلے سال آنے والے سیلاب نے بھی کئی گھروں کو تباہ کر دیا تھا۔

خیمہ بستیوں میں رہنے والی خواتین کے لیے نہ مناسب خوراک تھی، نہ صاف پانی، نہ طبی سہولت، نہ تحفظ۔ رحیمہ بلوچ کی کہانی صرف ایک فرد کی جدوجہد نہیں بلکہ بلوچستان اور پورے پاکستان کی دیہی خواتین کی وہ عام داستان ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال 2026 کا تھیم”Give To Gain“ہے، جس کا مطلب ہے”دیں تاکہ پائیں“۔ اگر ہم خواتین کو مواقع، تعاون، علم اور وسائل دیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

بلوچستان جیسے خطوں میں یہ تھیم زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں کی خواتین موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث بلوچستان میں درجہ حرارت میں اضافہ، خشک سالی، بارشوں کا بے قاعدہ ہونا، اور شدید طوفان عام ہو گئے ہیں۔ دیہی خواتین نہ صرف گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں بلکہ کھیتی باڑی، مویشی پالنے، پانی اور ایندھن جمع کرنے جیسے کاموں میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ جب موسم بدلتا ہے تو ان کی زندگی سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔

Rural women in Balochistan walking long distances to collect water due to climate change and drought
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات نے بلوچستان کی دیہی خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جہاں پانی، خوراک اور تحفظ کے لیے روزانہ ایک نئی جدوجہد جاری ہے۔

دیہی بلوچستان میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے پانی کے ذخائر کم ہو گئے ہیں اور خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے۔ اس اضافی مشقت کا اثر ان کی صحت، توانائی اور بچوں کی دیکھ بھال پر پڑتا ہے۔

جنگلات میں کمی کے باعث ایندھن کے لیے لکڑی جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے خواتین کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔

قدرتی آفات کے دوران بھی خواتین کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں جب کبھی شدید طوفان یا سیلاب آتے ہیں، تو خیمہ بستیوں میں خواتین کو رازداری، تحفظ، خوراک اور صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے طبی سہولت نہ ہونا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ یہاں بھی Give To Gain کا فلسفہ قابلِ عمل ہے،اگر خواتین کو تعلیم، وسائل اور تحفظ فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کی حفاظت اور بحالی میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔

شدید گرمی، غذائی قلت اور بیماریوں میں اضافہ بلوچستان کی خواتین کی صحت اور تعلیم کو متاثر کرتا ہے۔ اکثر گھروں میں خواتین سب سے پہلے اپنے بچوں اور خاندان کی ضروریات پوری کرتی ہیں، جس سے ان کی تعلیم اور ذاتی ترقی پیچھے رہ جاتی ہے۔ Give To Gain اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ جب خواتین کو صحت، تعلیم اور معاشی مواقع دیے جائیں تو وہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

تعلیم یافتہ، صحت مند اور بااختیار عورت پورے خاندان اور کمیونٹی کے لیے مضبوط ستون بنتی ہے۔ رحیمہ بلوچ جیسی خواتین، جو روزانہ پانی، خوراک اور تعلیم کے لیے جدوجہد کرتی ہیں، وہ خود موسمیاتی تبدیلی کے حالات میں ماہر بھی بن سکتی ہیں۔ بلوچستان کی خواتین ماحول دوست اقدامات، درخت لگانے، صاف توانائی اپنانے اور اپنے گھروں میں پائیداری کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

جب ہم Give To Gain کے تحت خواتین کو تعلیم، تربیت، قرضے اور وسائل فراہم کرتے ہیں، تو ہم صرف انہیں فائدہ نہیں پہنچا رہے بلکہ پورے معاشرے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر نوجوان ماحولیاتی کارکن Greta Thunberg اس بات کی مظبوط دلیل ہیں کہ خواتین اور لڑکیاں ماحولیاتی تحریک کی قیادت کر سکتی ہیں۔

بلوچستان میں بھی بہت سی خواتین سماجی اور ماحولیاتی تنظیموں کے ذریعے مقامی سطح پر تبدیلی لا رہی ہیں۔ جدید زرعی طریقے، پانی کے بہتر استعمال اور متبادل توانائی کے ذرائع ان کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

رحیمہ بلوچ جیسی ہزاروں خواتین کی کہانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب خواتین کو برابر مواقع، تعلیم، صحت اور تحفظ فراہم کیا جائے، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری کمیونٹی اور معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج

گلگت بلتستان الرٹ: معمول سے زیادہ بارشیں، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ

سن2026 کا تھیم“Give To Gain”ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کو مواقع دینا صرف انصاف نہیں بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی سرمایہ کاری بھی ہے۔ جب خواتین مضبوط ہوں گی، معاشرہ مضبوط ہوگا، اور ہم موسمیاتی بحران کے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا ہی پائیدار ترقی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

رحیمہ بلوچ کی کہانی صرف ایک مثال ہے، بلوچستان اور پورے ملک کی لاکھوں خواتین کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم دیں تو سب کچھ پائیں گے، نہ صرف ذاتی بلکہ عالمی سطح پر بھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں