فروزاں ماحولیاتی رپورٹس

دریاؤں میں آلودگی سے زمین کی ٹوٹتی سانسیں، خطرہ بڑھ رہا ہے

Pollution in Rivers Is Choking the Earth’s Lifelines, The Threat Is Increasing

دریاؤں میں آلودگی، ڈیموں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں قدرتی دریائی نظام متاثر، سندھ ڈیلٹا بڑا ماحولیاتی مسئلہ

ہر سال 14 مارچ کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ڈے آف ایکشن فار ریورز یعنی دریاؤں کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف دریاؤں کی اہمیت بیان کرنا نہیں بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا بھی ہے کہ انسانی ترقی کے نام پر زمین کی قدیم آبی شریانیں تیزی سے کمزور ہو رہی ہیں۔

یہ دن پہلی مرتبہ 1997 میں برازیل کے شہر کوریٹیبا میں منعقد ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کے بعد منایا جانا شروع ہوا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے ماحولیاتی کارکنوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دریاؤں کے تحفظ کے لیے ایک عالمی تحریک ضروری ہے۔

تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد آج یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا دنیا نے واقعی کچھ سیکھا ہے، یا دریا صرف عالمی دنوں، سیمیناروں اور سرکاری بیانات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

دریا: تہذیبوں کی بنیاد

انسانی تاریخ دراصل دریاؤں کی تاریخ ہے۔ قدیم مصر کی تہذیب دریائے نیل کے کنارے پروان چڑھی، میسوپوٹیمیا کی تہذیب دجلہ اور فرات کے درمیان آباد ہوئی جبکہ برصغیر کی عظیم وادیٔ سندھ تہذیب دریائے سندھ کے کنارے پھلی پھولی۔

دریا صرف پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ زندگی کا تسلسل ہیں۔ یہ زمین کے آبی چکر کو متوازن رکھتے ہیں، زرخیز مٹی فراہم کرتے ہیں، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں اور کروڑوں انسانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

عالمی ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق دنیا کی تقریباً نصف آبادی کسی نہ کسی شکل میں دریاؤں کے نظام پر انحصار کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین ماحولیات دریاؤں کو زمین کی زندہ شریانیں قرار دیتے ہیں۔

مگر یہی شریانیں اب کمزور ہو رہی ہیں۔

ترقی کی قیمت: دریا کی قربانی

انسانی ترقی کی موجودہ کہانی ایک تضاد سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف انہی وسائل کو تباہ کیا جا رہا ہے جو انسانی بقا کی بنیاد ہیں۔

دنیا کے بیشتر دریا اس وقت تین بڑے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 80 فیصد گندا پانی بغیر صفائی کے دریاؤں میں شامل ہو جاتا ہے۔

صنعتی فضلہ، پلاسٹک، زرعی کیمیکل اور شہری گندے پانی نے کئی بڑے دریاؤں کو شدید آلودگی کا شکار بنا دیا ہے۔ جو دریا کبھی زندگی کا ذریعہ تھے، آج کئی مقامات پر بیماریوں اور زہریلے مادوں کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈیموں کی سیاست

گزشتہ صدی میں دنیا بھر میں ہزاروں بڑے ڈیم تعمیر کیے گئے۔ ان منصوبوں نے توانائی اور آبپاشی کے مسائل کو کسی حد تک حل کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو بھی متاثر کیا۔

ماہرین کے مطابق دنیا کے صرف ایک تہائی بڑے دریا اب بھی قدرتی انداز میں آزادانہ بہہ رہے ہیں جبکہ باقی دریا مختلف منصوبوں کے ذریعے کنٹرول ہو چکے ہیں۔

ڈیموں کی وجہ سے مچھلیوں کی ہجرت رک جاتی ہے، دریا کے ڈیلٹا سکڑ جاتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلی نے دریاؤں کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کہیں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، کہیں بارشوں کے پیٹرن تبدیل ہو رہے ہیں اور کہیں دریا خشک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ایک عالمی تحقیق کے مطابق 1970 کے بعد سے میٹھے پانی کے جانداروں کی آبادی میں 80 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہ کمی زمینی اور سمندری ماحولیاتی نظاموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔

یہ اعداد و شمار دراصل ایک واضح ماحولیاتی انتباہ ہیں۔

Several rivers in Pakistan have become victims of industrial and urban pollution. The Ravi and Chenab rivers are contaminated by industrial waste, while the Indus River delta is being devastated by water scarcity.
پاکستان کے کئی دریا صنعتی اور شہری آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ دریائے راوی اور چناب صنعتی فضلے سے آلودہ، دریائے سندھ کا ڈیلٹا پانی کی کمی سے تباہ

پاکستان: دریاؤں کا ملک مگر پانی کا بحران

پاکستان کا وجود خود دریاؤں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ملک کا زرعی نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں جہلم، چناب، راوی اور ستلج پر منحصر ہے۔

سندھ طاس کا آبپاشی نظام دنیا کے سب سے بڑے نہری نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کی تقریباً 90 فیصد زراعت اسی نظام کے پانی پر قائم ہے۔

یہ دریا نہ صرف معیشت بلکہ حیاتیاتی تنوع کے لیے بھی اہم ہیں۔ دریائے سندھ میں پائی جانے والی انڈس ڈولفن دنیا کی نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفن میں شمار ہوتی ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے دریا بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

پاکستان میں دریاؤں کا المیہ

پاکستان کے کئی دریا صنعتی اور شہری آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور دیگر صنعتی مراکز کا فضلہ براہِ راست دریائے راوی اور دریائے چناب میں شامل ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پانی اور زمین کا مکالمہ:’’میں چمن میں خوش نہیں ہوں‘‘نمائش میں ماحولیاتی یادداشت کی کہانی

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ

دریائے راوی کی مثال اس بحران کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ دریا جو کبھی پنجاب کی ثقافتی اور ماحولیاتی علامت تھا، آج کئی مقامات پر آلودہ نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

پانی کی بڑھتی قلت

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ آبادی میں اضافہ، غیر مؤثر آبپاشی نظام اور موسمیاتی تبدیلی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو پاکستان شدید آبی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے دریاؤں کا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ سندھ ڈیلٹا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ماضی میں دریائے سندھ کا پانی بڑی مقدار میں ڈیلٹا تک پہنچتا تھا جس سے مینگرووز کے جنگلات اور ماہی گیری کا نظام قائم تھا۔

اب دریا کے بہاؤ میں کمی کے باعث سمندری پانی اندر تک داخل ہو رہا ہے۔ اس عمل کو ماہرین سی واٹر انٹروژن کہتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو چکی ہے۔

دریا اور ماحولیاتی انصاف

دریاؤں کا مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔

دنیا بھر میں دریا کی آلودگی اور تباہی کا سب سے زیادہ اثر ان کمیونٹیز پر پڑتا ہے جو معاشی طور پر کمزور ہوتی ہیں، جیسے کسان، ماہی گیر اور دیہی آبادی۔

پاکستان میں بھی دریا کے کنارے آباد کمیونٹیز موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور پانی کی قلت کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہی ہیں۔

دریا بچانے کی عالمی تحریک

دنیا بھر میں مختلف تنظیمیں دریاؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ کئی ممالک میں دریا صفائی مہمات، دریا بچاؤ تحریکیں اور ماحولیاتی قوانین کے ذریعے ان آبی وسائل کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

14 مارچ کو منایا جانے والا عالمی دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اگر دریا ختم ہو گئے تو انسانی ترقی کا موجودہ ماڈل بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔

پاکستان کے لیے راستہ کیا ہے؟

پاکستان میں دریاؤں کے تحفظ کے لیے صرف پالیسی بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔

ان اقدامات میں صنعتی فضلے کے اخراج پر سخت نگرانی، شہری گندے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کا تحفظ، سندھ ڈیلٹا کے لیے ماحولیاتی پانی کی فراہمی، دریا کے کناروں پر شجرکاری اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی شامل ہیں۔

اس کے ساتھ سب سے اہم عنصر عوامی شعور ہے۔ جب تک معاشرہ دریا کو صرف پانی کا ذریعہ سمجھتا رہے گا، اس کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا۔

خاموش ہوتی شریانیں

دریا زمین کی سانسیں ہیں۔ جب یہ بہتے ہیں تو زمین زندہ رہتی ہے اور جب یہ کمزور ہوتے ہیں تو پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

14 مارچ کا عالمی دن ہمیں ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ کیا ہم دریا کو صرف وسائل سمجھتے رہیں گے یا انہیں زندگی کی بنیاد مان کر ان کا تحفظ کریں گے۔

اگر انسانی ترقی کا موجودہ ماڈل اسی طرح دریاؤں کو ختم کرتا رہا تو ممکن ہے مستقبل کی نسلیں دریا کو صرف نقشوں اور تاریخ کی کتابوں میں ہی دیکھ سکیں۔

اور تب شاید ہمیں احساس ہو کہ دریا صرف پانی نہیں تھے بلکہ ہماری تہذیب کی زندگی تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں