قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے نام پر فنڈز حاصل کرنے والی درس گاہ ہے۔
تنویر احمد، گلگت

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت نے کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا اور ایشین ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ ریسپانس نیٹ ورک کے اشتراک سے اپریل 2026 میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جسے بظاہر گلگت بلتستان جیسے حساس پہاڑی خطے کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس اعلان کے ساتھ چند سنجیدہ سوالات اور تحفظات بھی جنم لے رہے ہیں جن پر ارباب اختیار کو توجہ دینا ہو گی۔
کے آئی یو کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، کانفرنس کا مقصد گلگت بلتستان کے حساس پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا جائزہ لینا اور ان سے نمٹنے کے لیے پائیدار حکمت عملیوں پر غور کرنا ہے۔
اس مقصد کے لیے تینوں اداروں کے درمیان ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) معاہدے پر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔
اعلان کے مطابق، کانفرنس میں عالمی شہرت یافتہ ماہرین شرکت کریں گے جبکہ ایشیا میں آفات کے خطرات میں کمی اور موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے معروف شخصیت اے ڈی آر آر این کے چیئرمین/جنرل سیکریٹری تاکیشی کومینو بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔
اس حوالے سے کے آئی یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطااللہ شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں کانفرنس کے ایجنڈے، مہمانوں کی فہرست اور انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اگرچہ اس قسم کی عالمی کانفرنسیں علمی و تحقیقی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں تاہم گلگت بلتستان کے عوام اور مقامی ماہرین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی شدت سے موجود ہے کہ آیا ایسی کانفرنسسز محض بیانات، سفارشات اور اعلامیوں تک محدود رہیں گی یا واقعی ان کے نتائج زمینی سطح پر نظر آئیں گے؟
ماضی میں بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے متعدد سیمینارز اور کانفرنسوں میں موسمیاتی تبدیلی کو ایک بڑے خطرے کے طور پر تسلیم کیا گیا مگر عملی اقدامات، مقامی کمیونٹیز کی براہ راست شمولیت اور پالیسی سطح پر موثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
گلگت بلتستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کی زد میں ہے جہاں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، غیر معمولی بارشوں اور خشک سالی نے مقامی آبادی، زراعت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے
ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کانفرنس میں مقامی کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور متاثرہ کمیونٹیز کی آواز کو حقیقی نمائندگی ملے گی یا فیصلہ سازی ایک بار پھر صرف ماہرین اور ادارہ جاتی نمائندوں تک محدود رہے گی؟
یہ بھی پڑھیں
سانحہ گل پلازہ کراچی: کیسے درجنوں جانیں خاکستر ہوگئیں؟
کھرمنگ آئس اسٹوپا: موسمیاتی تبدیلی کے مقابل کسانوں کی امید
وائس چانسلر ڈاکٹر عطااللہ شاہ کا یہ مؤقف کہ کانفرنس عملی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے گی بلاشبہ حوصلہ افزا ہے مگر اس دعوے کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کانفرنس کے بعد واضح روڈ میپ، مقامی سطح پر قابل عمل منصوبے اور حکومتی اداروں کے ساتھ مضبوط رابطہ کاری بھی سامنے آئے۔

یہ امر توجہ طلب ہے کہ گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقے میں موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے کا حل صرف کانفرنس ہالز میں ہونے والی گفتگو سے ممکن نہیں۔
اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب اس عالمی کانفرنس کے نتائج کو عملی پالیسی، مقامی ضرورتوں اور زمینی حقائق سے جوڑا جائے۔
خیال رہے کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بھی ان غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے نام پر فنڈز حاصل کرنے والی درس گاہ ہے۔
