فروزاں ماحولیاتی خبریں

سندھ کی ساحلی تاریخ اور قدیم سمندری تہذیبوں کی نمائش

Visitors exploring the Lost Cities of the Indus Delta exhibition showcasing ancient maritime civilizations in Karachi.

یہ نمائش سندھ کی ساحلی تاریخ کو محفوظ کرنے، ماحولیاتی خطرات سے آگاہی اور انڈس ڈیلٹا کی قدیم سمندری تہذیبوں کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد ہوئی۔

سندھ کی ساحلی تاریخ اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں موجود قدیم سمندری تہذیبوں کو اجاگر کرنے والی بین الاقوامی نمائش ’’لوسٹ سیٹیز آف انڈس ڈیلٹا‘‘ عوام کے لیے ’’ٹی ڈی ایف میگنیفائی سائنس سینٹر‘‘ کراچی میں کھول دی گئی ہے۔

یہ نمائش میری ٹِم ای اے ریسرچ کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود خطرے سے دوچار سمندری ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی، تحفظ اور عوامی آگاہی ہے۔

یہ منصوبہ ڈیجیٹل ہیریٹیج ٹریل پروجیکٹ (ڈی ایچ ٹی پی) کے تحت مکمل کیا گیا، جسےبرٹش کونسل اور برطانیہ کے محکمۂ ثقافت، میڈیا اور کھیل کے اشتراک سے چلنے والے ’’کلچرل پروٹیکشن فنڈ (سی پی ایف)‘‘ کی معاونت حاصل ہے۔

سندھ کے دریائی ڈیلٹا کی گمشدہ سمندری تہذیبیں

Lost Cities of the Indus Delta

نمائش میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تھری ڈی ماڈلز، ڈیجیٹل ری کنسٹرکشن، فلمیں اور تحقیقی مواد شامل ہیں، جن کے ذریعے دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں موجود قدیم بندرگاہوں، سمندری تجارتی راستوں اور ایک وقت میں آباد شہری مراکز کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

Visitors exploring the Lost Cities of the Indus Delta exhibition showcasing ancient maritime civilizations in Karachi.

اس منصوبے کے تحت سندھ کے ساحلی

علاقوں میں موجود پانچ خطرے سے

دوچار سمندری آثارِ قدیمہ کے ہائی

ریزولوشن تھری ڈی ماڈلز تیار کیے گئے

جبکہ کراچی سے کیٹی بندر تک 30 اسکولوں کے تقریباً 1200 طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔

نمائش سے وابستہ دو ڈاکیومنٹری فلمیں — لوسٹ سٹی آف انڈس ڈیلٹا پریس اور کرسڈ واٹر — بھی تیار کی گئیں، جو ماحولیاتی تبدیلی کے ثقافتی ورثے اور مقامی آبادی پر اثرات کا احاطہ کرتی ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات کے بارے میں آگاہی کے لیے دو ڈاکیومنٹری فلمیں بھی پیش کی گئی ہیں۔

ان فلموں کو اردو، سندھی، انگریزی اور پاکستانی اشارتی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

منصوبے کے ایک اہم حصے کے طور پر ہاشم گوٹھ اور کیٹی بندر کے ماہی گیروں کو لاہری بندر میں عوامی رہنمائی (گائیڈڈ ٹوررس) کے لیے تربیت دی گئی، جس سے نہ صرف مقامی روزگار کو فروغ ملا بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مقامی شمولیت بھی ممکن ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں

جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ

جنگلات: عالمی اعداد و شمار اورمقامی حقیقت

میری ٹِم ای اے ریسرچ کی جانب سے لاہری بندر، رتوکوٹ اور جام لاسکر گوٹھ کو سندھ کلچرل ہیریٹیج (پریزیویشن) ایکٹ 1994 کے تحت محفوظ قرار دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ نمائش اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سندھ کا سمندری ماضی نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے دور میں ہماری اجتماعی شناخت اور مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں