فروزاں ماحولیاتی خبریں ماحولیاتی رپورٹس

خطرہ بڑھتا جا رہا ہے: جنوبی ایشیا اور پاکستان میں ایس ڈی جیز کی ناکامی کا خدشہ

South Asia and Pakistan at Risk of Missing SDGs

خطرہ واضح ہے: پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو آنے والی نسلیں موسمیاتی بحران اور ترقیاتی ناکامیوں کا حساب مانگیں گی


جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کے اہداف خطرے میں ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے اکونومک اینڈ سوشل کمیشن فار ایشیا اینڈ دی پیسیفک (ایس کیپ) کی ایشیا اینڈ دی پیسیفک ایس ڈی جی پروگریس رپورٹ 2026 نے اس صورتحال پر سنجیدہ تشویش ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا 2030 تک 88 فیصد پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ یہ خطہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کا مسکن ہے، اس لیے اس ناکامی کے اثرات بھی وسیع ہوں گے۔

پاکستان کی صورتحال جنوبی ایشیا کی مجموعی تصویر پیش کرتی ہے۔

پاکستان: ترقی اور تباہی ساتھ ساتھ

پاکستان کی صورتحال جنوبی ایشیا کی مجموعی تصویر پیش کرتی ہے۔

ایک طرف بجلی تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ موبائل نیٹ ورک پھیلا ہے۔ صحت کے کچھ اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔

دوسری طرف موسمیاتی آفات میں اضافہ ہوا ہے۔ پانی کی قلت بڑھ رہی ہے۔ زرعی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ عدم مساوات بھی بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ جس واضح تضاد، یعنی “اسٹارک کانٹراڈکشن” کی نشاندہی کرتی ہے، وہ پاکستان میں نمایاں ہے۔ وہی ترقیاتی ماڈل، جسے کامیابی سمجھا گیا، اب ماحولیاتی مسائل کی شکل میں نقصان پہنچا رہا ہے۔

موسمیاتی بحران: مشترکہ چیلنج

رپورٹ کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں ہو رہی بلکہ اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی ایشیا کا عالمی اخراج میں حصہ کم ہے، مگر اثرات زیادہ شدید ہیں۔

پاکستان میں 2022 اور اس کے بعد آنے والے سیلابوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ کراچی، جیکب آباد اور ملتان میں شدید گرمی کی لہریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھل رہے ہیں، جس سے گلوف (جی ایل او ایف) کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

یہ صورتحال صاف پانی اور زمینی حیات کے اہداف کے لیے سنگین خطرہ ہے

اس کے باوجود فوسل فیول سبسڈیز جاری ہیں، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کی رفتار سست ہے۔

پانی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران

رپورٹ کے مطابق ریڈ لسٹ انڈیکس میں کمی حیاتیاتی تنوع کی تیزی سے تباہی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان میں دریائے سندھ کا ماحولیاتی بہاؤ کمزور ہو چکا ہے۔ ڈیلٹا سکڑ رہا ہے۔ مینگرووز دباؤ کا شکار ہیں۔ زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں۔

یہ صورتحال صاف پانی اور زمینی حیات کے اہداف کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پالیسی ردعمل اب بھی غیر مربوط اور کمزور ہے۔

شہری کمزوری اور بڑھتے خطرات

رپورٹ شہروں کی کمزور مزاحمت پر زور دیتی ہے۔

کراچی، ڈھاکہ اور دہلی جیسے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں، مگر ماحولیاتی منصوبہ بندی کے بغیر۔

پاکستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسیاں موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

نتیجتاً سیلاب، اربن فلڈنگ اور ہیٹ اسٹریس نہ صرف انسانی جانوں بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سماجی ترقی: حقیقت مختلف

رپورٹ کے مطابق خطے میں غربت میں کمی آئی ہے۔ صحت کے کچھ اشاریے بہتر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں زچہ و بچہ کی اموات میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

مگر مسائل برقرار ہیں۔ آمدنی میں عدم مساوات موجود ہے۔ مزدوروں کے حقوق کمزور ہیں۔ غیر رسمی روزگار عام ہے۔ نوجوانوں کے لیے باوقار روزگار کے مواقع کم ہیں۔

تعلیم میں داخلہ بڑھا ہے، مگر سیکھنے کے نتائج بہتر نہیں ہوئے۔

صنفی مساوات اور ڈیٹا کی کمی

رپورٹ ڈیٹا گیپس کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتی ہے، خاص طور پر صنفی مساوات اور انصاف کے شعبوں میں۔

پاکستان میں خواتین کی نمائندگی محدود ہے۔ صنفی بنیاد پر موسمیاتی اثرات کا ڈیٹا بھی ناکافی ہے۔

جب معلومات مکمل نہ ہوں تو مؤثر اور منصفانہ پالیسی سازی مشکل ہو جاتی ہے۔

آخری پانچ سال: فیصلہ کن مرحلہ

سال2030 تک صرف پانچ سال باقی ہیں۔

رپورٹ کا واضح پیغام ہے: انکریمنٹل چینج ول ناٹ سفائس (جزوی تبدیلی کافی نہیں ہوگی)۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا کو فوری طور پر اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

موسمیاتی انصاف کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ فوسل فیول پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ پانی، خوراک اور ماحول کو قومی سلامتی کے برابر اہمیت دینا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی بارش الرٹ: کراچی بارش کی نئی پیشگوئی، مغربی لہر کے باعث سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع

جنگ کا ماحولیاتی چہرہ: عالمی میڈیا کیا جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو مکمل طور پر بیان کر رہا ہے؟

مستقبل کا سوال

سندھ کے سیلاب زدہ علاقے اور بلوچستان کے خشک کنویں ایک ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔

کیا ترقی صرف سڑکوں، بجلی اور جی ڈی پی کا نام ہے؟
یا اس میں انسانی وقار اور قدرتی توازن بھی شامل ہے؟

یہ رپورٹ صرف ایک انتباہ نہیں۔ یہ ایک آخری موقع ہے۔

اگر اب بھی سمت نہ بدلی گئی تو آنے والی نسلیں ہم سے جواب مانگیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں