شاہ خالد شاہ جی

کلاؤڈ برسٹ اتنا خطرناک اور تباہ کن تھا کہ چند لمحوں میں پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر طرف تباہی مچادی
خیبر پختون خوا کے کے ضلع بونیر، سوات، باجوڑ، شانگلا، بٹگرام، مانسہرہ، صوابی، جنوبی وزیریستان اپر، ڈیر اسماعیل خان سمیت ببیشتر اضلاع 15 اور 16 اگست سن 2025 کو ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے کئی گاؤں کو ملیامیٹ کر دیاجس میں ضلع بونیر کے پیر بابا کے بشنوئی، صوابی کے گدون اور قبائلی ضلع باجوڑ کے ضبراڑئی سب سے زیادہ متاثر ہوئے .
یہاں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں ۔ یہ کلاؤڈ برسٹ اتنا خطرناک اور تباہ کن تھا کہ چند لمحوں میں پورے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر طرف تباہی مچادی ۔
قبائلی ضلع باجوڑ کے ہیڈکوارٹر خار سے تقریبا پچاس کلو میٹر دورتحصیل سلارزئی کے دور افتادہ پہاڑی علاقہ جبراڑئی میں رات پاکستان وقت کے مطابق 10 بج کر 20 منٹ پر ہونے والے کلاؤڈ برسٹ ( آسمانی بجلی ) گرنے کی وجہ سے تباہ کن سیلابی ریلے کا چشم دید گواہ ، پینتالیس سالہ نورفراز خان، اس نے اندوہناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے چچازاد بھائی شاہ ولی خان، دیگر رشتہ داروں سمیت کئی گاؤں والوں کے ساتھ مسجد میں اکھٹے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی جس کے بعد سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔
انھوں نے بتایا کہ میں اپنے گھر کے سامنے کچی سڑک پر موجود تھا کہ اسی دوران سڑک پر سیلابی پانی کا ریلا آنا شروع ہوگیا جس میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا ۔ لیکن اچانک اس میں بڑی مقدار میں پتھر، لکڑی اور دیگر ملبہ آیا جس نے پانی کا رخ ندی کے طرف موڑ دیا ۔
اسی دوران جب میں گھر کی طرف روانہ ہوا، گھر پہنچتے ہی میرے چچازاد بھائی شاہ ولی خان کے بیٹے نے بتایا کہ سیلاب نے ہمارے پورا گھر کوتباہ کردیا جس میں اس کی والد، والدہ، چھوٹے بھائی اور بہنیں ملبے کے نیچے دب گئے ۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
کیا پلاسٹک شاپنگ بیگزپر پابندی کی کوششیں کامیاب ہوگئیں؟
نور فراز نے کہا کہ جب ہم سب گھر والوں نے باہرآکر دیکھا تو سیلابی ریلے کاملبے نیچے اس کے گاؤں کے ایک اور گھرمیں بھی آیا تھا جس میں بھی کئی لوگ ملبے نیچے دب گئے تھے ۔
اس کے بعد ہم نے آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کو مدد کے لئے بلایا تمام لوگ بہت جلدی مدد کے لئے پہنچ گئے تھے اور امدادی کام شروع کر دیا لیکن اگر ایک طرف سیلابی ملبہ بہت زیادہ تھا تو دوسری طرف ہمارے پاس اس کو ہٹانے کے لئے مناسب اوزار بھی نہیں تھے جس کی وجہ سے ہم ملبے کے نیچے سے کسی فرد کو زندہ نہیں نکال سکے ۔

جبراڑئی کے چالیس سالہ شیرعلی کی بہن اپنی خاوند اور چار بچوں کی ساتھ اس واقع میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اسی گاؤں میں جنرل ا سٹور تھا ۔
شیرعلی نے اپنا اسٹور رات 9 بجے بند کیا اور نماز ادا کرنے کے بعد گھر چلا گیا ۔ ابھی وہ اپنے بستر پر لیٹاہی تھا کہ باہر سے شور اور نعرے کی آوازیں آنے لگیں ۔
میں ننگے پاؤں باہر آیا تو منظر بلکل بدلا ہوا تھا نہ میری بہن کا گھر تھا اور نہ میرا دوکان سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے ۔
شیر علی نے آبدیدہ ہوکر بتاکہ ہم نے اپنی بہن ان کی شوہر اور بچو ں کو نکالنے کے لئے بہت دورڑدھوپ کی لیکن ہم کچھ نہ کرسکے ۔ بڑی مقدار میں ملبہ اور پتھر گھروں کے او پر آچکے تھے، صبح سے ریسکیو اپریشن جاری ہے لیکن ابھی تک ایک بچی کی لاش ملبے کی نیچے دفن ہیں جس کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔
ضلع باجوڑ کے متاثرہ علاقے جبراڑئی سمیت ضلع بونیر کے بشنوئی کے کلاوڈ برسٹ کے متاثرہ علاقے میں 16 اگست کی صبح سویرے سے ریسکیو آپریشن شروع ہوا تھا جو ابھی تک جاری ہے جس میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، الخدمت فاؤنڈیشن، خدائی خدمت گارفاؤنڈیشن، ہلال احمر پاکستان سمیت دوسرے امدادی تنظمیں اور رضاکار حصہ لے رہے ہیں ۔ جبکہ آرمی ہیلی کاپٹر کے زریعے بھی باجوڑ کے متاثرہ علاقے میں امدادی سامان پہنچایا گیا ۔
ریسکیو اپریشن میں چار ایکسیویٹرز کے مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے ۔ ضلع باجوڑ میں ابھی تک21 افراد کے لاشیں نکالی جاچکی ہے جبکہ ایک شخص کے لاش نکالنے کے لئے کوششیں ابھی تک جاری ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ان کا لاش بھی جلد مل جائیگی۔

خیبرپختون خواہ کے تمام متاثرہ علاقوں کا پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلی خیبر پختون خوا، آئی جی ایف سی خیبر پختون خوا سمیت تمام سیاسی قائدین نے دورے کئے انہوں نے تمام غمزدہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی اور ان کا حوصلہ بڑھا یا ۔
انہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کے ورکرز کو امدادی کاموں میں بھر پور حصہ لینے کو کہا ہے۔
باجوڑ کے کلاؤڈ برست سے متاثرہ علاقوں کے ایم پی اے انور زیب خان، ایم پی اے انجینئر اجمل خان، ایم پی اے نثار باز، ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی خان، اسسٹنٹ کمسنر خار ڈاکٹر صادق علی، تحصیل چیئر مین سب ڈویژن خار حاجی سید بادشاہ اور باجوڑ کے دیگر سیاسی رہنماؤں سمیت علاقائی مشران نے دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی اور اس مشکل گھڑی میں ان کا حوصلہ بڑھایا ۔
متاثرہ علاقے کے دورے کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے باجوڑ کے حلقہ 22 سے صوبائی اسمبلی کے ممبر محمد نثارباز نے اس واقع پر گہری رنج کا اظہار کیا اور کہ میں ریسکیو اپریشن اور امدادی کاروائیوں سے مطئن ہوں کہ اتنی دوشوار گزار علاقے میں بھی رسیکیو 1122 سمیت تمام امدامی ادارے بروقت پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے اور اس پر پوار باجوڑ عمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ باجوڑ سمیت پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفات میں اضافہ ہوا ہے ۔ باجوڑ کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ خوڑوں (ندی، نالوں) کے قریب علاقوں سے محفوظ مقامات کو منتقل ہوجائیں اور درختوں کے کٹائی سے اجتناب کریں تاکہ اسی طرح کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے ۔
انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کریں اور لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی اجاگر کرنے کے لئے بھر پور مہم چلائیں تاکہ ہر فرد اس کے اثرات سے باخبر ہو سکے ۔
نور فراز کے مطابق ان کے گاؤں سمیت دوسرے گاؤں خوڑ سے کافی فاصلے پر ہیں اور یہ بلکل محفوظ تھے جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ خوڑ بھی گہرائی میں بہہ رہا تھا تو ایسی کوئی خطرے والی بات بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم احتیاطی تدابیر کرتے ہیں۔
نور فراز کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندی میں ایسا کوئی سیلاب دیکھا تھا اور نہ ہمارے آباواجداد نے ہمیں اس طرح کا کوئی واقع سنایا تھا یعنی ان کے وقتوں میں بھی اس طرح کا کوئی تباہ کن سیلابی ریلا نہیں آیاتھا ۔ بس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عذاب تھا جس نہیں اتنی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاغ کیا اور تباہی مچائی ۔
شیر علی نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ایک طرف جبراڑئی میں قمیتی انسانی جانوں کے ضیاع پر قیامت کا سماں ہے ہر انکھ اشکبار ہے ۔ دوسری طرف لوگوں کے کروڑوں روپے کے نقصانات ہوچکے ہیں ۔
ہم غریب لوگ ہیں ہمارا سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا ہے ۔ اس لئے میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے نقصانات کا جلد ازجلد ازالہ کریں تاکہ ہم دوبارہ اپنی پاؤں پر کھڑے ہو جائیں ۔
خیبر پختون خوا میں کلاؤڈ برست سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے 24 اگست 2025 کو صوبہ خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ وسیلاب کے وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر اعدادوشمار جاری کئے ہیں جس کے مطابق، صوبہ خیبر پختونخوا میں کل 406 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس میں 305 مرد،55 خواتین اور 46بچے شامل ہیں جبکہ 247 افراد زخمی ہوئے جس میں 179مرد 38 خواتین اور 30 بچے شامل ہیں۔پورے صوبے میں 5727 مویشی ہلاک ہوئے ہیں ۔
کل 577 مکانات تباہ ہوئے ہیں اور 2946 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ کلاؤڈ برست سے پورے صوبے میں 50 اسکولز مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ 239 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح دیگر املاک میں ایک مکمل تباہ ہوا ہے جبکہ 35 کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔

کلاؤڈ برسٹ کیا ہے ؟
ماہرین موسمیات کے مطابق کلاؤڈ برسٹ اچانک بادلوں کے پھٹنے کو کہتے ہیں ۔ جب کسی علاقے میں ایک گھنٹہ میں دس سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہوتی ہے تو اس کو کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے ۔
اس کلاؤڈ برسٹ کا اثر ایک کلومیٹرسے لے کر دس کلومیٹر تک کے علاقے میں ہوتا ہے ۔ کلاؤڈ برسٹ عموما زیادہ تر پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور خیبر پختون خواہ کے شمالی اضلاع میں پہاڑی علاقوں میں دیکھا جاتا ہے ۔
کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے پچھلے پانچ سالوں سے اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اس میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔
کلاؤڈ برسٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں ہو تا ہے ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ ممالک کے فہرست میں شامل ہیں اور کلائمیٹ انڈکس کے 2022 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں ساتویں نمبر پر تھا جو پھر پانچویں نمبر پر آگیا تھا ۔
پاکستان میں سیلابوں سے صوبہ گلگت بلتستان میں گلیشئر پھٹنے سے بھی سینکڑوں لوگ جابحق ہوئے تھے اوربہت سے املاک تباہ ہوئیں تھی ۔ وہاں پرسیلابوں کا یہ سلسلہ تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے ۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 31 اگست تک وقفے وقفے سے ملک بھر سمیت شمالی علاقوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے ۔ علاوہ ازیں دریاؤں کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدات دی ہے ۔
پچھلے ماہ سوات میں دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں 17 افراد کے جابحق ہونے کی بعد صوبائی حکومت نے دریائے سوات سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں دریاؤں اور ندی نالوں کے کنار ے موجود تجاوزات کو ہتانے کا کام شروع کیا تھا اور کئی بلڈنگز کو گرایا تھا تاکہ سیلابی پانی بلا روک ٹوک گزر سکیں لیکن اس آپریشن کو چند بعد بند کر دیا گیا ۔ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی و غیر سرکاری ارگنائزیشن کو لوگوں کے اگاہی کے لئے موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے کلاؤڈ برسٹ اور سیلابوں میں زیادہ نقصانات سے لوگ بچ سکیں ۔