پلاسٹک کے بارے میں آگہی سیشن

تحریر: مائرہ ممتاز (ریسرچر کلایمٹ ایکشن سینٹر)

سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پلاسٹک پیکجنگ کی پیچیدگیوں کے بارے میں آگہی فراہم کرنے کے حوالے سے، تقریب کا انعقاد کیا گیا۔یہ ایک انٹریکٹو سیشن تھا جس میں طلبہ کے ساتھ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور ان کو پلاسٹک کی مختلف اقسام اور خصوصیات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سیشن میں پلاسٹک کو ریسائیکلنگ کرنے کا طریقہ اور اس کے ویسٹ کوصحیح طرح ٹھکانے لگانے کے بارے میں طالب علموں کو آگہی فراہم کی گئی۔ اس پروگرام کی آرگنائزر کلائمیٹ ایکشن سینٹر میں پلاسٹک ریسرچر مائرہ ممتاز تھیں۔
اس اہم انٹریکٹیو سیشن کے مہمان مقرر احمد شبر تھیجوپاکستان ماحولیاتی تحفظ موومنٹ کے بانی ہیں جو کہ ایک سماجی اور سیاسی ادارہ ہے جو ماحولیاتی انصاف کی وکالت کرتا ہے۔ انہوں نے گاربیج کین نام سے ایک پروجیکٹ کی بنیاد رکھی ہے۔ صاف ستھراماحول ہم سب کا حق ہیکے سلوگن کو لے کر ا انہوں نے اپنے پڑوس سے اور اپنے ارد گرد کے گھروں سے کچرا جمع کرنا شروع کیا اور اس کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے کے عمل کا آغازکر دیا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے احمد شبرنے کہا کہ دنیا کو اس شعبے کی اہمیت کااندازہو چکا ہے ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کوئی شعبہ چھوٹا یا بڑانہیں ہوتا،اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ہماری صحت اور ماحول کا بھی خیال رکھتاہے، اس میں کام کرنے والے افراد ہمارے ارد گرد کا کچرا ہمارے گھروں سے دور لے جاتے ہیں وہہماری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
احمد شبرکا کہنا تھا کہ ہر قسم کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس شعبے کے ماہر افراد سے مشورہ کیا جائے اور مقامی لوگوں کی رائے کوضرور شامل کیا جائے کیونکہ وہ زمینی حقائق سے واقف ہوتے ہیں اس طرح مسائل کا حل ڈھونڈنا انتہائی آسان اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔انہوں نیکہا کہ کہ لینڈ فل سائیڈز کو سائنسی بنیادوں پر بنا ہونا چاہیے تاکہ وہاں لائے جانے والے کچرے کو درست طریقیسے ٹھکانے لگایا جا سکے۔

پلاسٹک کے کچرے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے مختلف اقسام کی پلاسٹک کے بارے میں اور اس کی ریسائکلنگ کا طریقہ کار بھی تفصیل سے طلبہ کے سامنے پیش کیا۔انھوں نے طلبہ کو اس شعبے میں کام کرنے کی ترغیبب بھی دی اور ان کو اپنے پروجیکٹ کے بارے میں بتاتے ہوئیکہا کہ آج کی دنیا میں اس شعبہ کو بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کیوں کہ اس شعبے میں کام کرنے سے روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اس آگہی سیشن میں پلاسٹک کے بارے میں فراہم کی جانے والی معلومات طالب علموں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ پلاسٹک کی کون کون سی مختلف اقسام موجود ہیں اور اس کے کچرے کو کس طرح سے ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔

طلباء نے اس اہم سیشن میں سوال و جواب کے ذریعے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور کچرے جیسے بڑے مسئلے سے نمٹنے کے بارے میں مزید جاننے کی بھی خواہش بھی ظاہر کی۔طالب علموں کی جانب سے کیے گئے سوال و جواب سے اس امر کا اظہار بھی ہوا کہ پلاسٹک کچرے کو درست طریقے سے ٹھکانے لگانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

admin

Recent Posts

جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے

جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…

10 hours ago

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…

18 hours ago

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری…

1 day ago

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…

2 days ago

باجوڑ میں جانور اور پرندے کم ہوتے جا رہے ہیں، بڑا خطرہ سامنے آگیا

باجوڑ میں معدوم ہوتی جنگلی حیات غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی…

3 days ago

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی…

4 days ago

This website uses cookies.