کھلے عام کچرا جلانا

تحریر: طیبہ پرویز،محسن علی

کچرا حقیقت میں ایک قیمتی وسیلہ ہے جس کو جلانا ہرگز عقلمندی کا کام نہیں

ہماری زندگی میں بہت سی چیزیں بیکاردکھائی دیتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں اس طرح کے مواد موئثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن جدید دور میں ہر استعمال شدہ شے کی کوئی نہ کوئی اہمیت نظر آتی ہے۔ بہت سے ممالک ان بوسیدہ مواد کو ماحول دوست طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان ایک سال میں تقریبا 49.6 ملین ٹن ٹھوس فضلہ پیدا کرتا ہے، جس میں سالانہ 2.4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح ویسٹ مینجمنٹ کے بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے، جس سے سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر میونسپل کچرے کو یا تو جلا دیا جاتا ہے، پھینک دیا جاتا ہے یا خالی جگہوں پر دفن کیا جاتا ہے، جس سے عام آبادی کی صحت اور بہبود کو خطرہ ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان کا تخمینہ ہے کہ ہر ہفتے 87,000 ٹن ٹھوس فضلہ پیدا ہوتا ہے، زیادہ تر بڑے میٹروپولیٹن علاقوں سے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، روزانہ 16,500 ٹن سے زیادہ میونسپل فضلہ پیدا کرتا ہے۔ شہروں میں تقریبا 60-70 فیصد ٹھوس فضلہ جمع ہوتا ہے۔

کھلے عام کوڑے کو جلانا صحت اور ماحول کے مختلف مسائل کا باعث ہے اس عمل سے ہوا میں مختلف قسم کے آلودہ ذرات مل جاتے ہیں جو صحت اور آب وہوا کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے بلیک کاربن بھی ہوا میں شامل ہوتا ہے۔ بلیک کاربن باریک ذرات کا مادہ ہے جو بنیادی طور پر عنصری کاربن(کوئلہ)پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ بہت سی چیزوں کے جلانے کا نتیجہ ہے اور ماحول کی گرمی اور فضائی آلودگی دونوں میں حصہ ڈالتا ہے۔

کچرا حقیقت میں ایک قیمتی وسیلہ ہے جس کو جلانا ہرگز عقلمندی کا کام نہیں۔ نامیاتی کچرے (سبزیوں کے چھلکے، بچا کھچا کھانا یا سبزیاں، درختوں اور پودوں کے پتے وغیرہ)کو ہم ایک اچھی قسم کی کھاد بنانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ پلاسٹک کو دوبارہ سے استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ پلاسٹک کو دوبارہ سے استعمال کرکے کرسیاں میز اور بہت سی روز مرہ استعمال کی چیزیں بنائے جا سکتی ہیں۔ کچرے کو ہم بیچ سکتے ہیں اور اس سے کچرا کمائی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

کھلے کچرے کو جلانا خطرناک ہے کیونکہ یہ نقصان دہ مادہ کااخراج کرتا ہے، بشمول پارٹکیولیٹ میٹر اور ڈائی آکسینز، اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات جو ہوا کے معیار اور صحت عامہ پر منفی اثر ڈالتے ہیں اس طرح مجموعی طور پر شہری رہنے کی اہلیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ اخراج صحت کے مسائل جیسے کہ جلد اور پھیپھڑوں کے کینسر، سانس کے مسائل، جلد کی الرجی اور دیگر عوارض اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ مزید برآں، موسمیاتی بحران میں حصہ ڈالنے والی گرین ہاس گیسیں بھی چھوڑتا ہے۔ تاہم، ان اثرات کے بارے میں کمیونٹیز میں بیداری کی کمی ہے۔

کمیونٹی کو شامل کرنا اور کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا رویے کو تبدیل کرنے اور ٹھوس فضلہ کے بہتر انتظام کے لیے پالیسی کی وکالت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اربنزم سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور رائل اکیڈمی آف انجینئرنگ کے تعاون سے ایک پروجیکٹ پر عمل پیرا ہے-اس پراجیکٹ کا مقصد شہریوں اور کارکنوں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

ان سب کے علاوہ اگر ہم کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگائیں تو بھی ہم کچرا جلانے جیسے نقصاندہ عمل کو کم کر سکتے ہیں۔

admin

Recent Posts

جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے

جنگ اور ماحولیات کا گہرا تعلق، ماہرین کا سنجیدہ انتباہ، موسمیاتی تبدیلی میں تیزی، آلودگی…

11 hours ago

پنجاب میں آلودگی: کیا فوری مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟

پنجاب میں آلودگی کا زہر ،فصلوں کی باقیات، صنعتی اخراج اور ٹرانسپورٹ کا دھواں صورتحال…

18 hours ago

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن

گلگت میں غیر قانونی لکڑی کے خلاف سخت اقدامات، چیک پوسٹس پر کارروائیاں تیز، بھاری…

1 day ago

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…

2 days ago

باجوڑ میں جانور اور پرندے کم ہوتے جا رہے ہیں، بڑا خطرہ سامنے آگیا

باجوڑ میں معدوم ہوتی جنگلی حیات غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی…

3 days ago

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی…

4 days ago

This website uses cookies.