China’s wetland restoration programs combine law, technology, and community participation.
وردہ اعتصام (بیجنگ)
آب گاہیں زمین کے “گردے” کہلاتی ہیں، اور چین اب انہی گردوں کی پیوند کاری کے ایک وسیع اور پیچیدہ عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ کہانی صرف اعداد و شمار کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ماحولیاتی سوچ میں بنیادی تبدیلی کی ہے، جو ترقی میآب گاہیں زمین کے “گردے” کہلاتی ہیں، اور چین اب انہی گردوں کی پیوند کاری کے ایک وسیع اور پیچیدہ عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ کہانی صرف اعداد و شمار کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ماحولیاتی سوچ میں بنیادی تبدیلی کی ہے، جو ترقی میں “سبز” کو مرکزی مقام دے رہا ہے۔
1980 کی دہائی تک چین نے اپنے قدرتی آب گاہوں کا تقریباً 60 فیصد کھو دیا تھا۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ زرعی توسیع، شہر کاری اور صنعتی ترقی تھی۔ یہ نقصان محض رقبے کا نہیں، بلکہ ماحولیاتی استحکام، حیاتیاتی تنوع، اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کی صلاحیت کا نقصان بھی تھا۔
آج صورتحال بدل چکی ہے۔ چین کا آب گاہ تحفظ قانون (2016) محض کاغذی کارروائی نہیں، بلکہ ایک طاقتور قانونی اوزار ہے۔ اس کے تحت 10,000 سے زیادہ افراد اور ادارے آب گاہوں کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پکڑے جا چکے ہیں۔
چین کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار بھی متاثر کن ہیں:
57.7 فیصد آب گاہیں حفاظتی دائرے میں
2012 تا 2022 تک 467،400 ہیکٹر رقبے کی بحالی
64 رامسر سائٹس
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار کس معیار کی بحالی کی عکاسی کرتے ہیں؟ فیلڈ اسٹڈیز بتاتی ہیں کہ چین نے عمل درآمد کے طریقوں میں اہم تبدیلی لائی ہے۔ مثال کے طور پر، “سرخ لائن” پالیسی محض نقشے پر لائن نہیں بلکہ ماحولیاتی علاقوں میں کسی بھی نئی تعمیراتی منصوبے پر خودکار پابندی عائد کرتی ہے۔
چین کا “اسپونج سٹی” منصوبہ آب گاہ بحالی کا سب سے جدید اور بااثر نظام ہے۔ 30 سے زائد شہروں میں یہ نظام قدرتی آب گاہیں، مصنوعی جھیلیں اور زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے والے ڈھانچوں کو مربوط نیٹ ورک میں جوڑتا ہے۔ نتیجہ؟ شنگھائی میں سیلابی رقبے میں 20 فیصد کمی اور زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ۔
یہ انجینئرنگ اور ماحولیات کا ایسا امتزاج ہے جو عالمی شہری منصوبہ بندی کے لیے رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔
چین کی آب گاہ پالیسی اب صرف داخلی معاملہ نہیں رہی۔ پاک-چین اقتصادی راہداری کے تحت، چین وسطی ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو آب گاہ بحالی کی ٹیکنالوجی اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ “ماحولیاتی ڈپلومیسی” چین کے عالمی ماحولیاتی کردار کو نئی شکل دے رہی ہے۔
ت2030 تک 60 فیصد آب گاہ تحفظ کا ہدف ایک قابل تعریف مقصد ہے
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جس میں متنوع آب گاہیں، جھیلیں اور دریائی نظام شامل ہیں۔ تاہم آبادی میں اضافہ، صنعتی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ قیمتی آبی وسائل خطرات کا شکار ہیں۔
چین کا تجربہ پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ پاکستان مخصوص قوانین اور نیشنل آب گاہ پالیسی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر کے آب گاہوں کے تحفظ میں بہتری لا سکتا ہے۔
چین نے ایکو-کمپینسیشن ماڈل اپنایا ہے، جس میں آب گاہوں کے تحفظ میں حصہ لینے والوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی مقامی آبادیوں کو شامل کر کے تحفظ اور معاشی فوائد دونوں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
چین نے جدید ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ امیجری، ڈرونز اور آٹومیٹک مانیٹرنگ سسٹمز سے آب گاہ کی صحت کی نگرانی کی ہے۔ پاکستان کے تحقیقی ادارے اور جامعات اسی طرح کے نظام قائم کر سکتے ہیں۔
چین نے رامسر کنونشن کے تحت اہم آب گاہ سائٹس کو تسلیم کروانے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں بھی 19 رامسر سائٹس موجود ہیں، جن میں بہتر انتظام کی ضرورت ہے۔
علاقائی تعاون کے تحت پاکستان اور چین مشترکہ ماحولیاتی منصوبے شروع کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
عوامی شعور بڑھانے کے پروگرام
پائیدار سیاحت، جیسے کینجھر جھیل اور ہنزہ ویلی میں ماحول دوست سیاحت
آبی انتظام کے جدید طریقے، اسپونج سٹی ماڈل کے مطابق پاکستانی شہروں کے لیے ڈھالنا
یہ بھی پڑھیں
ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے
دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟
چین کے تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ مضبوط سیاسی عزم، قانونی فریم ورک، جدید سائنس اور مقامی شمولیت کے ذریعے قدرتی آبی وسائل مؤثر طریقے سے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان ان اسباق سے فائدہ اٹھا کر پاک-چین اقتصادی راہداری کے تحت ماحولیاتی تحفظ کے مشترکہ منصوبے نافذ کر سکتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کو بہتر بنائیں گے بلکہ خطے میں پانی کی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف قوت مدافعت کو بھی مضبوط کریں گے۔
شدید گرمی کے اثرات پر آئی بی اے کراچی اور الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے درمیان…
ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی…
پاکستان کی آب گاہیں تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، وجہ شہری پھیلاؤ، آلودگی اور…
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے…
گل پلازہ کراچی کی ہولناک آگ نے بدعنوانی اور ناقص بلڈنگ سسٹم کو بے نقاب…
نِپاہ وائرس کے کیسز پڑوسی ملک میں سامنے آنے کے بعد سندھ بھر میں ہیلتھ…
This website uses cookies.