Ozone Layer
یو این نیوز
عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے کرہ ارض کے گرد اوزون کی تہہ کی طویل مدتی بحالی کے حوالے سے حوصلہ افزا رپورٹ دی ہے، جو ہمیں نقصان دہ الٹراوائلٹ (یو وی) تابکاری سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اوزون کو نقصان پہنچانے والے عناصر کلورین اور برومین کی مقدار کرہ فضائی میں کم ہو رہی ہے، جو اس تہہ کی بحالی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس عمل میں مزید پیش رفت ہو سکے۔
ڈبلیو ایم او کے جاری کردہ اوزون اور یو وی بلیٹن میں اوزون کی تہہ کی بحالی میں ہونے والی اہم پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر موجودہ پالیسیاں برقرار رہیں تو ماہرین کا کہنا ہے کہ 2066 تک قطب جنوبی کے اوپر اوزون کی تہہ 1980 کی سطح تک بحال ہو جائے گی، جب وہاں ایک بڑا شگاف دیکھا گیا تھا۔ یہ رپورٹ مونٹریال پروٹوکول اور اس کے کیگالی ترمیم کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے، جن کا مقصد اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادوں کا خاتمہ ہے۔
سیکرٹری جنرل گوتیرش نے کہا کہ کیگالی ترمیم موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ اس میں ہائیڈرو فلووروکاربونز (ایچ ایف سیز) جیسے گرین ہاؤس گیسوں کے بتدریج خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔ درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے موسمیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو 2045 تک قطب شمالی اور 2040 تک دنیا کے باقی حصوں میں اوزون کی تہہ مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔ ڈبلیو ایم او کے سائنسی مشاورتی گروپ کے سربراہ میٹ ٹلی کے مطابق، عالمی ماحولیاتی نگرانی کے پروگرام (جی اے ڈبلیو) کے تحت اوزون کی تہہ کی بحالی اور یو وی تابکاری کی نگرانی مسلسل کی جا رہی ہے، تاکہ اس عمل کی پیش رفت اور فضائی تبدیلیوں کا بغض سے جائزہ لیا جا سکے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ کی بحالی پر مختلف عوامل اثرانداز ہوں گے، جنہیں سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے تاکہ مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ڈبلیو ایم او کے بلیٹن میں حالیہ فضائی تبدیلیوں، جیسے آتش فشانی پھٹنے اور موسمی حالات میں تبدیلیوں کے اوزون کی تہہ پر اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر قطب جنوبی کے اوپر۔ بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ کرہ فضائی میں کلورین اور برومین کی مقدار میں کمی آ رہی ہے، جو اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے بڑے عناصر ہیں۔
تاہم، بلیٹن میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ فضائی تبدیلیاں کبھی کبھار اوزون کی تہہ کے شگاف کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ اوزون کی تہہ کی غیر متوقع تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
مجموعی طور پر، اگرچہ اوزون کی تہہ کی بحالی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی مکمل بحالی کے لیے مسلسل نگرانی اور مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انسانوں کی صحت اور ماحول کو یو وی تابکاری کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.