سمعیہ خورشید، نمائندہ خصوصی کراچی
کراچی: صوبہ سندھ کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ چند روز میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات سے خطے کا موسمی پیٹرن تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے آج سے 3 مئی تک سندھ کے وسطی اور بالائی علاقوں میں ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اندرون سندھ کے کئی اضلاع شدید گرمی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ان میں جامشورو، سکھر، دادو، گھوٹکی، کشمور اور جیکب آباد شامل ہیں۔
ان علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ زیادہ پانی پئیں اور خود کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
حکام نے بچوں، بزرگوں اور حساس افراد کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ شدید گرمی ان کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ملک بھر میں موسمی رجحانات بھی تشویشناک ہوتے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کے دوران بارشیں مجموعی طور پر معمول سے کم رہیں۔ اس عرصے میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں ملک بھر میں اوسطاً 68.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ یہ مقدار معمول سے 12 فیصد کم ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گلگت بلتستان میں 21 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 16 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 14 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اس کے برعکس سندھ میں بارشیں 32 فیصد زیادہ رہیں۔ بلوچستان میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول کے قریب ہے۔
مارچ 2026 میں بارشیں معمول سے 24 فیصد زیادہ رہیں۔ اس کے برعکس فروری 2026 انتہائی خشک مہینہ ثابت ہوا۔ اس مہینے بارشوں میں 77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جنوری 2026 میں بارشیں معمول سے 19 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔
درجہ حرارت کے حوالے سے صورتحال مزید سنگین رہی۔ جے ایف ایم سیزن میں ملک کا اوسط درجہ حرارت 16.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ درجہ حرارت معمول سے 1.7 ڈگری زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گزشتہ 66 برسوں کا بلند ترین آغازِ سال ہے۔ یہ ریکارڈ 2018 کے گرم ترین سال کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
قدرت کے آخری قلعے: زمین کو بچانے کی آخری امید؟
سونے کی تلاش، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ، دریائے سندھ کا دم گھٹنے لگا
جنگی دھماکے زمین، فضا اور پانی کو کیسے تباہ کر رہے ہیں؟
ماہرین کے مطابق بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مستقبل میں کئی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان میں پانی کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی اور موسمیاتی خطرات میں اضافہ شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے فوری حکمت عملی ضروری ہے۔ مؤثر احتیاطی اقدامات بھی ناگزیر ہو چکے ہیں۔
قدرت کا تحفظ اب انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ یونیسکو کی…
موسمی تبدیلی سے متعلق اہم عالمی رپورٹ جاری، درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ اور…
آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور نازک سمندری راستہ ہے۔ یہاں ڈولفنز، مرجان اور دیگر…
جنگی دھماکے زمین، فضا اور پانی کو آلودہ اور تباہ کر رہے ہیں اور ماحولیاتی…
سونے کی تلاش سے گلگت بلتستان کے حساس ماحولیاتی نظام پر مائننگ کے بڑھتے دباؤ…
فوسل فیول کا نظام اگر تبدیل نہ ہوا تو مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی عدم…
This website uses cookies.