فروزاں کے مضامین

پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران: موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور ناقص پالیسیوں کے سنگین اثرات

پاکستان میں فوری اصلاحات نہ ہوئیں تو پانی کی قلت معیشت، زراعت اور شہری زندگی کو متاثر کرے گی، ماہرین کا انتباہ،

پاکستان کو تیزی سے بڑھتے ہوئے آبی بحران کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور ناقص منصوبہ بندی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ملک شدید آبی قلت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا دباؤ

درجہ حرارت میں اضافے نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار تیز کر دی ہے۔ ابتدا میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے، مگر طویل مدت میں دریا سکڑنے لگتے ہیں۔ بارشوں کا نظام بھی غیر متوازن ہو چکا ہے۔ کہیں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں، تو کہیں طویل خشک سالی دیکھنے میں آتی ہے۔

یہ صورتحال آبی ذخائر کے انتظام کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

آبادی اور شہری پھیلاؤ

پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ شہری علاقوں میں تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ کئی شہروں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔

دیہی علاقوں میں بھی آبپاشی کے پرانے طریقے پانی کے ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔

زراعت اور معیشت پر اثرات

پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے۔ پانی کی کمی براہ راست فصلوں کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ نہری نظام میں پانی کی کمی سے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خوراک کی پیداوار کم ہونے سے غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

صنعتی شعبہ بھی پانی پر انحصار کرتا ہے۔ اگر پانی کی دستیابی کم ہوئی تو صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

پالیسی اور انتظامی چیلنجز

ماہرین کے مطابق آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پانی کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے ناکافی ہیں۔ آبی ضیاع کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔

شفاف نگرانی اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

آگے کا راستہ

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ پانی کے مؤثر استعمال کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو فروغ دیا جائے۔ زرعی شعبے میں جدید آبپاشی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تباہ کاریاں، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی زمینوں کا بحران نمایاں

گلگت بلتستان میں بہار شجرکاری مہم 2026 شروع، 35 لاکھ پودے لگانے کا ہدف

عوامی آگاہی بھی اہم ہے۔ شہری سطح پر پانی کے ضیاع کو کم کرنا ہوگا۔ پالیسی سازوں، ماہرین اور عوام کے درمیان تعاون ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے۔

پاکستان کا آبی بحران صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی کے تناظر میں فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ مؤثر پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور اجتماعی شعور کے بغیر مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

admin

Recent Posts

کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، فضائی معیار مضر صحت

کراچی موسم اور فضائی آلودگی: شہر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، ایئر…

2 days ago

مائیکرو بایوم انجینئرنگ: مرجانی چٹانوں کے تحفظ کی نئی امید

مائیکرو بایوم انجینئرنگ میں سائنسدانوں کو جدید حل نظر آنے لگا، ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور…

2 days ago

خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تباہ کاریاں، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی زمینوں کا بحران نمایاں

خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ سے 406 اموات، ہزاروں ہیکٹر جنگلات تباہ، کوپ 30 میں پاکستان…

3 days ago

گلگت بلتستان میں بہار شجرکاری مہم 2026 شروع، 35 لاکھ پودے لگانے کا ہدف

گلگت بلتستان کے نگراں وزیراعلیٰ کا جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی، علیحدہ…

4 days ago

گلگت بلتستان میں سیزن کی پہلی کامیاب ٹرافی ہنٹنگ، مقامی کمیونٹی کو بڑا معاشی فائدہ

گلگت بلتستان میں ہمالیائی آئی بیکس کے قانونی شکار سے حاصل آمدن کا 80 فیصد…

5 days ago

سندھ کے جنگلات اور ٹمبر مافیا:سبز دولت ختم ہوری ہے

سندھ کے جنگلات کی تباہی کی اصل وجہ غیر قانونی کٹائی اور ناقص عملدرآمد، ٹمبر…

6 days ago

This website uses cookies.