فروزاں کے مضامین

سانحہ گل پلازہ کراچی: کیسے درجنوں جانیں خاکستر ہوگئیں؟

گل پلازہ کراچی کی ہولناک آگ نے بدعنوانی اور ناقص بلڈنگ سسٹم کو بے نقاب کر دیا۔ دھواں، بند ایمرجنسی راستوں اور ناقص فائر سیفٹی نے سانحہ کو شدید بنا دیا

سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔

استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز (گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔

کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیرقانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا ضیاع آپ کے سامنے ہے۔

اس پلازہ کی کہانی آج سے 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے، مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

گیا یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-1/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیاء کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔

استغاثہ کے مطابق، پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔

اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔

سال 2008 ، جنوری 5 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔

، تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔

سن2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی۔

بالاآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی، عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔

سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟

ذرائع بتارہے ہیں کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔

ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔

یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھالا ہوچکا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق 17 سے 18 جنوری 2026 کے درمیانی رات 10 بج کے 15 منٹ پر آگ لگنے کی شروعات ہوئی تھی، 10 بج کر 12 منٹ پر آگ کے شعلے اٹھے اور 10 بج کر 18 منٹ پر آگ پھیلنا شروع ہوگئی جس سے گل پلازہ راکھ ہوگیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں بھڑکنے والی آگ سے 82 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک فائر فائٹر فرقان (عمر 25 سال) دورانِ ڈیوٹی شہید ہوا اور 100 سے زائد زخمی ہوئے اور گل پلازہ کے 16 دروازوں میں سے صرف دو دروازے کھلے تھے اور گل پلازہ کی آگ بجھانے میں تقریبا 1.4 ملین گیلن پانی کا استعمال ہوا کراچی واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ سیل کے مطابق یہ پانی شہر کے 7 مختلف ہائیڈرنٹ سے سپلائی کیا گیا تھا۔

اس آگ کو بجھانے میں 16 فائرٹینڈرز، واٹر بوزرز اور سنارکلز نے حصہ لیا اور یہ آگ بجھانے کا عمل 36 گھنٹے جاری رہا، گل پلازہ مارکیٹ انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے سے تقریبا 15 ارب مالیت کا نقصان ہوا۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر8/2026ضلع سٹی تھانہ نبی بخش میں درج کر دیا گیا، اس مقدمے میں پلازہ کی یونین اور مالک کو شامل تفشیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق، گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔

ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔

نقشے کے مطابق، اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا۔

جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔

دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 266 میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولت موجود ہونے کا انکشاف ہوا۔

آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ سامنے آگیا۔

یکم جنوری 2024 کی آڈٹ رپورٹ پر 2026 میں بھی عمل نہیں کروایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آئی آئی چندر یگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا، 3 اہم شاہراہوں کی 266 میں سے صرف 6 عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولت موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے جو کہ متعلقہ اداروں کی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

گل پلازہ کراچی میں آگ: بدعنوانی اور ناقص بلڈنگ سیفٹی کی وحشتناک حقیقت بے نقاب

گل پلازہ کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے میں واقع ہے، جہاں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی نے ایک بار پھر پورے نظام کو بے نقاب کر دیا ہے۔

چند گھنٹوں میں درجنوں دکانیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں، کروڑوں روپے کا سامان جل گیا اور سینکڑوں تاجر سڑکوں پر آگئے۔

یہ کوئی عام حادثہ نہیں بلکہ سنگین غفلت، نااہلی اور مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔

حقائق واضح طور پر بتاتے ہیں کہ فائر سیفٹی انتظامات ناکافی یا مکمل طور پر غیرفعال تھے، ریسکیو اور فائر بریگیڈ کو بروقت اور مؤثر رسائی حاصل نہ ہو سکی، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس اور انسپیکشن کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔

گل پلازہ کی آگ کے ماحولیاتی اثرات اور نقصانات سے متعلق ویڈیو رپورٹ دیکھیں

https://www.facebook.com/reel/3403275886486254

یہ بھی پڑھیں

گل پلازہ کی آگ: ایک حادثہ نہیں، سنگین ماحولیاتی جرم ہے

گل پلازہ میں اگ لگنے کے اصل ذمہ داران عمارت کی انتظامیہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، کے ایم سی اور فائر بریگیڈ اور وہ تمام ادارے جنہوں نے بغیر مکمل حفاظتی انتظامات کے ایسی عمارت کو چلنے کی اجازت دی، یہ آگ نہیں لگی، یہ پورا نظام جل کر سامنے آ گیا ہے۔

اگر قوانین پر سنجیدگی سے عمل ہوتا، باقاعدہ انسپیکشن ہوتا اور فائر ایگزٹ حقیقت میں قابلِ استعمال ہوتا تو آج سینکڑوں خاندان بے روزگار نہ ہوتے۔

کیا کراچی میں انسانی جان اور محنت کی کمائی کی کوئی قدر ہے، کبھی گل پلازہ، کبھی ملینیم مال، کبھی آر جے مال، کبھی کوپریٹو مارکیٹ، کبھی لیاقت آباد مارکیٹ اور کبھی بلدیہ فیکٹری یا ہر سانحے کے بعد صرف انکوائری کمیٹیاں بنا کر معاملہ ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں۔

ایک طرف عدالتوں کے بدلتے فیصلے اور دوسری طرف اداروں کے اندرونی تضادات، دباؤ، فون کالز اور مقدمات کا انجام تک نہ پہنچنا ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جہاں خلاف قانون کام معمول اور انسانی جانوں کا تحفظ ثانوی بن جاتا ہے.

admin

Recent Posts

چین کی آب گاہیں: ماحولیاتی بحالی کا ایک جامع ماڈل؟

چین کا تجربہ پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ پاکستان مخصوص قوانین اور…

9 hours ago

شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے تحقیق اور کمیونٹی ریزیلینس کا آغاز

شدید گرمی کے اثرات پر آئی بی اے کراچی اور الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے درمیان…

10 hours ago

ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے

ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی…

1 day ago

دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟

پاکستان کی آب گاہیں تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، وجہ شہری پھیلاؤ، آلودگی اور…

2 days ago

قراقرم یونیورسٹی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے…

4 days ago

نِپاہ وائرس: سندھ میں ہیلتھ الرٹ، خطرہ کتنا سنگین؟

نِپاہ وائرس کے کیسز پڑوسی ملک میں سامنے آنے کے بعد سندھ بھر میں ہیلتھ…

6 days ago

This website uses cookies.