محمود عالم خالد
سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا کے ان چند بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے جو جنگوں، سیاسی کشیدگی اور سفارتی بحرانوں کے باوجود بھی اب تک قائم رہے۔
سن1960میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ کے چھ بڑے دریاؤں کی تقسیم کا ضامن ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے متنازعہ آبی منصوبوں، یکطرفہ اقدامات اور معاہدے کی تشریح میں من مانی نے اس معاہدے کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔
اسی پس منظر میں اقوام متحدہ کے مختلف فورمز، ماہرین کی رپورٹس اور انسانی و ماحولیاتی دستاویزات میں پاکستان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا ایک اہم سفارتی اور اخلاقی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت، مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کے حصے میں آئے جب کہ مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کے لیے مختص کیے گئے۔
بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف محدود، غیر استعمالی اور تکنیکی نوعیت کے منصوبوں کی اجازت دی گئی۔
یہ معاہدہ اس اصول پر قائم تھا کہ نچلے دریا کے ملک (Lower Riparian State) کے حقوق کو تحفظ دیا جائے، کیونکہ پانی کے بہاؤ پربالادست ملک کی گرفت براہِ راست انسانی بقا سے جڑی ہوتی ہے۔
گزشتہ دہائی میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبہ،رتلے ڈیم،دیگر ڈیزائن اور پانی کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق منصوبے پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہیں۔
پاکستان کا مموقف ہے کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہیں،پانی کے قدرتی بہاؤ میں مداخلت کی جا رہی ہے،ڈیٹا شیئرنگ اور شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
پاکستان کے یہ خدشات صرف تکنیکی نہیں بلکہ زرعی، ماحولیاتی اور انسانی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ اقوام متحدہ سندھ طاس معاہدے کا براہِ راست ثالث نہیں، تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندگان ، سرحدی آبی وسائل پر کام کرنے والے ادارے،ماحولیاتی تبدیلی اور آبی سلامتی سے متعلق رپورٹس میں یہ اصول بارہا دہرایا گیا ہے کہ سرحدی دریاؤں پر یکطرفہ کنٹرول نچلے دریا کے ممالک کے لیے انسانی بحران پیدا کر سکتا ہے“۔“
یہ اصول اقوام متحدہ کے بین الاقوامی آبی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے سے ہم آہنگ ہیں، اور بالواسطہ طور پر پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے پانی کو ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کر رکھا ہے۔ پاکستان نے اپنے موقف میں مسلسل اس نکتے پر زور دیا ہے کہ پانی کی دستیابی براہِ راست خوراک، صحت اور روزگار سے جڑی ہے۔
پاکستان کی 90 فیصد زراعت دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کنٹرول کروڑوں افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان سندھ طاس معاہدے کو محض ایک تکنیکی دستاویز نہیں بلکہ انسانی تحفظ کا فریم ورک سمجھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی رپورٹس کے مطابق ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، پانی کی موسمی دستیابی غیر یقینی ہو رہی ہے اس کے ساتھ شدید سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایسے میں اگر سرحدی دریاؤں پر سیاسی دباؤ یا ذخیرہ اندوزی کی جائے تو اس کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔
اقوام متحدہ کے متعدد تجزیاتی فورمز میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ”پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے“۔
پاکستان کا موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی کمزوری یا یکطرفہ خلاف ورزی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
پانی کا بحران مستقبل کی جنگوں کی بنیاد بن سکتا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر عالمی برادری کو تشویش لاحق ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی آبی قوانین کے مطابق سرحدی دریاؤں کا استعمال منصفانہ اور معقول ہونا چاہیے،کسی بھی ملک کو دوسرے کو نقصان پہنچانے کا حق حاصل نہیں،معلومات کی شفاف فراہمی اور باہمی مشاورت لازم ہے۔
یہ تمام اصول پاکستان کے موقف کو مضبوط بناتے ہیں اور بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے فورمز میں اس اصولی تائید کے بعد پاکستان کے لیے چند اہم امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
آبی سفارتکاری کو ماحولیاتی سفارتکاری سے جوڑا جائے،انسانی حقوق کے زاویے سے پانی کے مسئلے کو اجاگر کیا جائے،عالمی ماہرین اور تھنک ٹینکس کے ساتھ شواہد پر مبنی مکالمے کو فروغ دیا جائے۔
اس کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی موسمیاتی حساس تشریح کو پرزور انداز میں اجاگر کیا جائے۔یہ حکمتِ عملی پاکستان کے کیس کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ آج صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ بین الاقوامی قانون کی ساکھ،انسانی حقوق کے تحفظ،ماحولیاتی انصاف اور خطے کے پائیدار امن کا امتحان بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ طاس معاہدہ: مرزا اور ایوب کی آبی کشمکش
پاکستان پانی کے محاصرے میں: خطرات اور بحران
اقوام متحدہ کے اصولی موقف اور ماحولیاتی و انسانی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پانی جیسے حساس وسیلے کو طاقت کے بجائے قانون، انصاف اور تعاون کے ذریعے منظم کیا جانا چاہیے۔
اگر سندھ طاس معاہدے کو کمزور کیا گیا تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ دنیا بھر میں سرحدی دریا¶ں کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر دے گا۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.