ڈاکٹر طارق ریاض

مار خور اس لیے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے کہ اسے اپنی رہائش گاہوں، فطری ماحول اور غذائی ضروریات سے محروم کر دیا گیا ہے۔

مارخور، جو ایک خوبصورت اور طاقتور پہاڑی بکرا ہے، پاکستان کا قومی جانور ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔ یہ جنگلی بکرا گلگت، بلتستان، چترال اور ہنزہ جیسے شمالی پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں نے مارخور کو ان انواع میں شامل کر رکھا ہے جو ناپیدگی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مارخور کے قدرتی مساکن، اس کا فطری ماحول اور غذائی وسائل بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ جانور آج بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر سال عالمی سطح پر مارخور کا دن منایا جاتا ہے تاکہ اس نایاب جانور کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس سال اس دن کا پیغام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

خطرات جو مارخور کو درپیش ہیں

:مارخور کو ختم کرنے والے بڑے خطرات درج ذیل ہیں

قدرتی مساکن کی تباہی، جن میں درختوں کی کٹائی، سڑکوں کی تعمیر اور انسانی مداخلت شامل ہیں

غیر قانونی شکار، جس میں قیمتی سینگ، لذیذ گوشت اور ادویاتی استعمال کی غرض شامل ہے

ماحولیاتی تبدیلیاں، جو مارخور کے قدرتی ماحول کو تیزی سے بدل رہی ہیں

شہری آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، جو جنگلات اور چراگاہوں کو ختم کر رہا ہے

زراعت کی توسیع، جو قدرتی زمین کو فصلوں کی کاشت کے لیے تبدیل کر رہی ہے

مارخور کی فطری اور حیاتیاتی خصوصیات

مارخور کا سائنسی نام کاپرا فلکونری ہے، اور یہ گھاس پھونس کھانے والا جانور ہے۔ اس کا تعلق “بوویڈائے” خاندان سے ہے۔ لفظ “مارخور” فارسی اور پشتو کے الفاظ سے مل کر بنا ہے، جس کا مطلب سانپ کھانے والا ہے، حالانکہ یہ محض ایک روایت ہے۔

یہ جانور بلند پہاڑی علاقوں میں رہنا پسند کرتا ہے جہاں شاہ بلوط، چلغوزہ اور سرو کے درخت پائے جاتے ہیں۔ موسم بہار اور گرمیوں میں یہ گھاس اور جڑی بوٹیاں کھاتا ہے، جبکہ سردیوں میں افزائش نسل کرتا ہے۔ ایک مادہ عام طور پر ایک یا دو بچے جنتی ہے، اور یہ جانور چھوٹے ریوڑوں کی صورت میں رہتے ہیں۔

تحفظ کے لیے ضروری اقدامات

:مارخور کو بچانے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں

جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور پہاڑوں پر درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگائی جائے

ایسے مخصوص علاقے قائم کیے جائیں جہاں مارخور کو بلا خوف و خطر رہنے، چرنے اور نسل بڑھانے کی مکمل آزادی حاصل ہو

غیر قانونی شکار پر سخت جرمانے اور سزائیں دی جائیں، جن پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہو

مقامی افراد کو اس جانور کے تحفظ کی مہم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ خود اس کے محافظ بنیں

تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ نئی نسل میں قدرتی ورثے سے محبت پیدا ہو

سوشل میڈیا، ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مارخور کے تحفظ کا پیغام ہر فرد تک پہنچایا جائے

مارخور صرف ایک جانور نہیں بلکہ پاکستان کی قدرتی پہچان اور حیاتیاتی تنوع کی علامت ہے۔ اگر اس کی بقاء کو اب بھی نظر انداز کیا گیا تو یہ خوبصورت مخلوق صرف کہانیوں اور تصویروں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ہمیں فوری طور پر سنجیدہ، مؤثر اور مسلسل کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ ہم مارخور کو اس دھرتی کا مستقل باشندہ بنا سکیں۔

admin

View Comments

  • These are in fact fantastic ideas in about blogging.
    You have touched some good points here. Any way keep up wrinting.

Recent Posts

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…

19 hours ago

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان اور پانی کا بحران

سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…

2 days ago

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی رپورٹ کا سنگین انتباہ

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…

3 days ago

کراچی میں سردی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 9 ڈگری تک گر گیا

کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…

3 days ago

ایمازون کی مچھلی پاکستان تک کیسے پہنچی؟

ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…

4 days ago

فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا

پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…

5 days ago

This website uses cookies.