فروزاں ماحولیاتی خبریں

اسلام آباد میں تیندوے کی موجودگی: شہریوں میں تشویش کی لہر

اسلام آباد کے گنجان علاقے میں دیکھا گیا تیندوا، ماہرین کے مطابق تیندوا انسان دوست نہیں، احتیاط ضروری

تیندوا کبھی بھی انسان دوست جانور نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ اسی لیے احتیاط ضروری ہے۔ماہرین کا مشورہ

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی فرحین العاص) گزشتہ شب اسلام آباد کے گنجان آباد علاقے میں تیندوا دیکھا گیا۔ جس کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ جبکہ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تیندوا کبھی بھی انسان دوست جانور نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ اس کی فطرت کے خلاف ہے،اسی لیے احتیاط ضروری ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ تیندوا انسانی موجودگی سے ہم آہنگ ہوچکا ہے۔ اسی لیے اب ہمیں بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

تیندوے کا  دائرۂ حرکت 20–30 مربع کلومیٹر

پوسٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تیندوے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی قدرتی حیات ہیں۔ رات کے اوقات کار میں مسکن کے لحاظ  سے تیندوے کا  دائرہ نقل وحرکت 20–30 مربع کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔

جس کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ ایک عام انسان کیسے جنگلی جانور کے رویئے کا تعین کرسکتا ہے؟

وائلڈ لائف حکام نے شہریوں سے اپیل بھی کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ صورتحال میں افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

تیندوے سے بچاو کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز(ایس او پیز)

اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ حکام کے مطابق تیندوے زیادہ تر رات کے وقت متحرک ہوتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رات کے اوقات میں ان کے مسکن سے دور رہیں۔

ایس او پیزکے مطابق اگر کسی علاقے میں تیندوے کی نقل و حرکت دیکھی جائے تو شہری گھبراہٹ، چیخ و پکار یا بھاگنے سے اجتناب کریں کیونکہ اچانک حرکات جانور کو مشتعل کر سکتی ہیں اور بھاگنے کی صورت میں تیندوا 50 سے 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آپ کا پیچھا کرسکتا ہے۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تیندوا آپ کے سامنے آجائے تو ایسی صورت میں ساکن ہوکر وہی کھڑے ہوجائیں۔ اور آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا جائے،جانور کو اشتعال نہ دلایا جائے اور کسی قسم کی ویڈیو یا تصویر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

ایس او پیز کے مطابق دن کے وقت پولٹری، مویشیوں اور دیگر جانوروں کو محفوظ رکھا جائے، جبکہ رات کے وقت گھروں میں نگرانی کا خاص انتظام کیا جائے۔

تیندوے کی چھلانگ لمبائی میں تقریباً 6.5 میٹر

 یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تیندوے کی چھلانگ لمبائی میں تقریباً 6.5 میٹر اور بلندی میں 3.5 میٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس لیے فاصلہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

وائلڈلائف حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مارگہ ہلز نیشنل پارک اور اس کے اطراف میں ہرن، جنگلی سور، خارپشت اور بھونکنے والے ہرن جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو تیندوے کی قدرتی خوراک ہیں۔

:یہ بھی پڑھیں

پاکستان کی نوجوان آبادی: مستقبل کا فیصلہ آج ہوگا

ڈیم: کیا پاکستان کے لیے سیلابی متبادل حل ہے؟

انہی جانوروں کی موجودگی کی وجہ سے تیندوے شہری آبادی کے قریب آ جاتے ہیں۔یاد رہے کہ تیندوا آئی یو سی ین کی ریڈ لسٹ میں شامل ایک خطرے سے دوچار جانور ہے اور اس کی عمر عموماً 10 سے 14 سال ہوتی ہے۔

تیندوے کی شہر میں موجودگی انسانی عادت پذیری  نہیں

وائلڈ لائف کو کور کرنے والے صحافی آصف محمود نے کہا کہ تیندوے کی شہری علاقوں میں موجودگی کو کسی بھی صورت انسانی عادت پذیری نہیں کہا جا سکتابلکہ یہ قدرتی مسکن کے خاتمے، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی شکار کی کمی کا نتیجہ ہے کے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کے قریب آنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ایسے حالات میں شہریوں کو دفاع یا خود جانوروں کا سامنا کرنے کی ترغیب دینا خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ سوچ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور ضلعی انتظامیہ بروقت ریسکیو آپریشن کریں جبکہ متاثرہ علاقوں کی عارضی بندش اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی یقینی بنائیں۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

https://www.facebook.com/share/r/18CgM3dg6u

یہ عارضی مسئلہ نہیں

 چونکہ ایسے واقعات تقریباً ہر سال سامنے آتے ہیں اس لیے انہیں عارضی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک مستقل ماحولیاتی چیلنج تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو بھی غیر ضروری نقصان سے بچایا جا سکے۔

ماہر وائلڈ لائف صفوان شہاب احمدکے مطابق جنگلی جانوروں، خصوصاً تیندوے کی حرکات و سکنات فطری طور پر ناقابل پیش گوئی (ہائیلی اینڈ پریڈکٹیبل) ہوتی ہیں۔ تاہم شہری ماحول میں یہ فطری نظام شدید متاثر ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، مصنوعی روشنیاں، ہارنز اور مسلسل شور ایک ایسی کنٹینیوس سائزمیٹک ایکٹیویٹی پیدا کرتے ہیں جسے جانور اپنے پاؤں کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔

یہ کیفیت اس کے لیے غیر فطری اور اذیت ناک ہے، کیونکہ اس کی ارتقائی تاریخ میں نہ مصنوعی روشنی کا تصور تھا اور نہ ہی اسٹیل، ٹائروں اور مسلسل شور جیسی آوازوں کا۔

شہری شور جنگلی جانوروں کے لیے کہیں زیادہ دباؤ

صفوان شہاب احمد کا کہنا ہے کہ چند سیکنڈ کا زلزلہ بھی انسان کے دماغ پر بوجھ ڈالتا ہے۔ ایسے میں مسلسل ٹریفک اور شہری شور جنگلی جانوروں کے لیے کہیں زیادہ دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ سرگرمیاں مارگلہ ہلز تک پھیل چکی ہوں۔

ماہر وائلڈ لائف نے کہاکہ شہر میں موجود آوارہ کتے اور بلیاں،ہر طرف پھیلا ہوا گھریلو اور پولٹری ویسٹاور پکوانوں کی تیز خوشبوئیں جانور کی حسِ شامہ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

یہ تمام عوامل اس کے رویے کو مزید غیر متوازن بنا دیتے ہیں۔ 

صفوان شہاب کے مطابق ایسے ماحول میں یہ دعویٰ کرنا کہ جانور کسی مخصوص سیکٹر تک محدود رہے گاغیر سائنسی سوچ ہے کیونکہ جب جنگلی جانور شہری حدود میں داخل ہوتا ہےٓ تو وہ نقشوں اور سیکٹرز سے ناواقف ہوتا ہے اور گھبراہٹ میں بے ترتیب حرکت کرتا ہے۔

تیندوا ایک شکاری اور گوشت خور درندہ ہے

ان کامزیدکہنا تھاکہ شہری علاقوں میں بچوں، خواتین اور عوامی ردِعمل، چیخ و پکار اور خوف کی فضا بھی جانور کو اشتعال دلا سکتی ہے۔جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔

چونکہ تیندوا ایک شکاری اور گوشت خور درندہ ہے۔ اس کا رویہ فطری طور پر غیر متوقع ہوتا ہے اور اسے اسی تناظر میں سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

ایک عام آدمی اس کے رویہ کو نہیں سمجھ سکتاکیونکہ وہ اس سے نمٹنے کی تربیت سے ناوافق ہے۔
ماہرین زور دیتے ہیں کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدات ناگزیر ہیں۔

انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری

اس ضمن میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سول انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پولیس، رینجرز، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور ڈیبلو ڈیبلو ایف پاکستان جیسے اداروں کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت آن بورڈ لے۔

ماہرین کی مدد سے جانور کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشہ ورانہ انداز میں اسے محفوظ طریقے سے شہری حدود سے نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ کسی ممکنہ خونی حادثے سے بچا جا سکے۔

واضح رہے گزشتہ شب اسلا م آباد کے گنجان آباد علاقے ایچ 10 میں یونی ورسٹی کے گرلز ہوسٹل کے نزدیک ایک تیندوا دیکھا گیا تھا۔

اسلام آباد والڈ لائف بورڈ کے مطابق ٹیم نے اطلاع موصول ہونے پر متعلقہ علاقے کا دورہ کیا اور مکمل سرچ آپریشن کیا۔معائنے کے دوران جانور کی موجودگی کے کچھ آثار سامنے آئے

تاہم، احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے میں گشت جاری رکھا گیا ہے اور عوام کی حفاظت اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیم کی جانب سے ٹریپر بھی نصب کیا گیا۔

عوام سے گزارش ہے کہ پُرسکون رہیں، غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ضرورت پڑنے پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں