ای پی آئی سندھ اور یونیسیف کی جانب سے کراچی میں خسرہ و روبیلہ ویکسینیشن مہم پر میڈیا بریفنگ — 21.5 ملین بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر۔
ماریہ اسمعیل
ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن (ای پی آئی) سندھ نے یونیسیف کے تعاون سے کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں خسرہ اور روبیلہ سے بچاؤ کی قومی ویکسینیشن مہم کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا۔ اس مہم کا باقاعدہ آغاز 17 نومبر 2025 کو ہوا جو 29 نومبر تک صوبہ سندھ میں جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق سندھ بھر میں 80 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان بھر میں یہ مہم 96 ملین بچوں تک پہنچنے کا بڑا اقدام ہے۔
ماہرینِ صحت: “ویکسین نہ لگانا بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے”
: ماہرین صحت نے بریفنگ میں بتایا کہ
چھ6 ماہ سے پانچ 5 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو خسرہ اور روبیلہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگانا ضروری ہیں۔
خسرہ (میزلز) ایک نہایت متعدی وائرل بیماری ہے جو بخار، کھانسی، ناک بہنے، سرخ آنکھوں اور پورے جسم پر پھیلنے والے دانوں کا سبب بنتی ہے۔
خسرہ نمونیا، دماغ کی سوزش (انسیفلائٹس) اور موت جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق خسرہ سے اموات کی شرح کم ہونے کے باوجود ہر سال تقریباً 140,000 بچے خسرے سے جانیں گنواتے ہیں، جن میں اکثریت 5 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔
ای پی آئی سندھ کے ایڈیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل رضا شیخ نے ویکسینیشن مہم کی کامیابی میں میڈیا کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ
میڈیا صرف ایک پیغام رساں نہیں ہے، یہ زندگیاں بچانے میں شراکت دار ہے۔
ہر درست کہانی اور ہر مثبت پیغام بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے میں مدد کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین میں ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں میڈیا کی موثر آگاہی سے دور کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سہیل رضا شیخ نے واضح کیا کہ
سندھ امیونائزیشن اینڈ ایپیڈیمکس کنٹرول ایکٹ 2023 کے تحت بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا لازمی ہے۔
سیکشن 9 کے مطابق ٹیکہ کاری سے انکار یا رکاوٹ ڈالنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ قانون پاکستان میں پہلی بار بچوں کی لازمی ویکسینیشن کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تقریب میں ای پی آئی سندھ اور یونیسیف کے عہدیداران نے شرکت کی، جن میں شامل تھے
ڈاکٹر سہیل رضا شیخ ، ایڈیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی سندھ
ڈاکٹر ارسلان میمن ، ایم اینڈای آفیسر، ای پی آئی سندھ
ڈاکٹر محبوب، صوبائی سرویلنس آفیسر
ڈاکٹر زید بن عارف، امیونائزیشن آفیسر، یونیسیف سندھ
میڈیا کے نمائندگان، ایچ سی ڈبلیو نمائندے، اور کوریج ٹیمیں
سن2023 میں سندھ میں خسرہ کے 3,800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
سن2024 میں ویکسینیشن بہتر ہونے کے باوجود روبیا کیسز میں اضافہ دیکھا گیا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق خسرہ کا وائرس 90٪ تک لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے اگر وہ ویکسینیٹڈ نہ ہوں۔
ماہرین نے زور دیا کہ
خسرہ و روبیلہ کا صرف ایک ہی مؤثر تحفظ، بروقت ویکسینیشن ہے۔
ویکسین بالکل محفوظ ہے اور عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور وزارت صحت کی تصدیق شدہ ہے۔
بچوں کو اسکول، پارک، کھیل کے میدانوں اور ہسپتالوں میں وائرس کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
وادی شمشال میں اپینڈسائٹس کیسز کا اصل سبب سامنے آگیا
والدین اپنی قریبی ای پی آئی سنٹر، موبائل ٹیم یا اسکول میں لگنے والی ٹیم کے ذریعے بچوں کو لازمی ٹیکے لگوائیں۔
زمین کے چھن جانے کا خوف صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی…
بدلتا موسم، بدلتی حکمتِ عملی: عالمی اسپورٹس اداروں کی میچ ٹائم، وقفوں اور ہیٹ پروٹوکول…
گلگت میں اسمگلرز کو 10 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید، جنگلات کا تحفظ قومی…
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف…
امریکی برفانی طوفان صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ…
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی،…
This website uses cookies.