فروزاں

غیر کنٹرول شدہ ماہی گیر بیڑا :پاکستان کے سمندری وسائل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان میں غیر کنٹرول شدہ ماہی گیر بیڑا سمندری وسائل اور حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین WWFخطرہ پیدا کر رہا ہے۔

ورلڈ فشریز ڈے، جو ہر سال 21 نومبر کو منایا جاتا ہے، ہماری بحری ماحولیاتی نظام کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کو اجا گر کرنے کی یاد دہانی کا دن بھی ہے۔

ماہی گیری کی اہمیت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ یہ دن پائیدار وسائل کے انتظام، چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والی کمیونیٹیز کے حقوق کے تحفظ، بہتر کاری حالات، اور غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ماہی گیری کے خاتمے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دنیا بھر میں ماہی گیری کے ذخائر شدیددباؤ کا شکار ہیں او اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

اب یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ فشریز یا تو زیادہ پکڑ لی گئی ہیں یا مکمل طور پر استعمال ہوچکی ہیں، جبکہ ایک تہائی سے زائد ذخائر کی حالت مسلسل بگاڑ کا شکار ہے۔

اس کی بنیادی وجوہات میں اہم آبی مساکن (ہیبی ٹاٹ) کا زوال، آلودگی، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل شامل ہیں۔

پاکستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں، ہمارے ساحلی اور گہرے سمندری علاقوں میں زیادہ تر مچھلیوں کے ذخائر حد سے زیادہ استعمال ہوچکے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ مچھلی کے اتار (لینڈنگز) میں کئی سالوں سے جمود ہے اور اب وہ کمی کی طرف جا رہے ہیں۔

بعد از پکڑ (پوسٹ ہارویسٹ) شدید نقصانات، ڈولفن، کچھوؤں اور دیگر بڑی سمندری انواع سمیت خطرے سے دوچار جانداروں کا زیادہ بائی کیچ، اور ماہی گیری کے بیڑے میں بے قابو اضافہ ان سب عوامل نے مل کرسمندری حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف–پاکستان، جو ملک کی سب سے بڑی ماحولیاتی تنظیم ہے، ماہی گیری کو قومی معیشت کا ایک اہم شعبہ قرار دیتی ہے۔ یہ شعبہ تقریباً دس لاکھ ماہی گیروں اور متعلقہ صنعتوں سے وابستہ افراد کا ذریعہ معاش ہے۔

تنظیم اپنے آغاز سے ہی ساحلی کمیونیٹیز کی سماجی و معاشی بہتری، حیاتیاتی تنوع پر ماہی گیری کے اثرات میں کمی، بائی کیچ کی روک تھام، اور پائیدار طریقوں کے فروغ کے لیے متعدد منصوبے کامیابی سے چلا رہی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف–پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق

ورلڈ فشریز ڈے ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ غیر پائیدار طریقوں اور ماہی گیر بیڑے میں بے قابو اضافے کے باعث ہمارے قدرتی مساکن اور حیاتیاتی تنوع آج سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

پاکستان کے ماہی گیری شعبے کو بہتر بنانے کے لیے اگرچہ مختلف پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں تیار کی جا رہی ہیں، لیکن ڈبلیو ڈبلیو ایف–پاکستان سمجھتا ہے کہ ایک پانچ نکاتی حکمتِ عملی فوری نافذ کرنا ناگزیر ہے“۔یہ حکمتِ عملی درج ذیل اقدامات پر مبنی ہے

ماہی گیر بیڑےکی تعداد میں کمی،کثیر روزہ ماہی گیری (ملٹی ڈے فشریز) میں کشتیوں پر مچھلی کی بہتر بعد از پکڑ ہینڈلنگ،سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر جھینگا فارمنگ کلسٹرز کا قیام،غیر استعمال شدہ وسائل کی پائیدار دریافت کے لیے ایکسپلورٰیٹری فشنگ کا آغاز،سمندری خوراک کی مصنوعات میں تنوع۔

یہ بھی پڑھیں

کوپ30 حتمی اعلامیہ میں تاخیر: اختلافات برقرار

ہنزہ میں نایاب آئی بیکس کا شکار، حکام حرکت میں

معظم خان نے کہا کہ ان اقدامات سے پیداوار میں اضافہ، برآمدات میں بہتری، اور ساحلی ماہی گیر برادریوں کی سماجی و معاشی حالت میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔

اس حکمتِ عملی پر مؤثر عملدرآمد سے سمندری خوراک کی پیداوار اور برآمدات دونوں میں اضافہ ہوگا، جو 1,001 کلومیٹر طویل پاکستانی ساحل کے ساتھ رہنے والی کمیونیٹیز کی ترقی کے لیے اہم ہے۔

ہمارے ساحلی اور گہرے سمندری علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ کچھ نقصان دہ ماہی گیری کے طریقے، غیر کنٹرول شدہ ماہی گیر بیڑا بالخصوص شمالی بحیرہ عرب کے انتہائی متنوع حیاتیاتی تنوع کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔

admin

Recent Posts

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…

18 hours ago

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان اور پانی کا بحران

سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…

2 days ago

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی رپورٹ کا سنگین انتباہ

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…

3 days ago

کراچی میں سردی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 9 ڈگری تک گر گیا

کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…

3 days ago

ایمازون کی مچھلی پاکستان تک کیسے پہنچی؟

ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…

4 days ago

فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا

پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…

5 days ago

This website uses cookies.