فروزاں فروزاں کے مضامین ماحولیاتی رپورٹس

مائیکرو بایوم انجینئرنگ: مرجانی چٹانوں کے تحفظ کی نئی امید

Microbiome Engineering Offers New Hope for Coral Reef Survival in Pakistan and Globally

مائیکرو بایوم انجینئرنگ میں سائنسدانوں کو جدید حل نظر آنے لگا، ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حدت سے عالمی مرجان کو 90 فیصد تک خطرہ

مرجانی چٹانیں زمین کے حساس ترین مگر حیاتیاتی تنوع سے بھرپور ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ نظام ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حد سے زیادہ ماہی گیری کے باعث تیزی سے زوال کا شکار ہیں۔ سائنسدان اب مائیکرو بایوم انجینئرنگ کو ایک جدید حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ مرجان کی مضبوطی بڑھائی جا سکے۔ اس میں پاکستان کے مکران ساحل کے ساتھ موجود مرجانی چٹانیں بھی شامل ہیں۔

تیزی سے سکڑتا ہوا عالمی نظام

مرجانی چٹانیں تقریباً 22 لاکھ 80 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ سمندری سطح کے صرف 0.09 فیصد حصے پر موجود ہیں مگر عالمی سمندری حیاتیاتی تنوع کے 25 فیصد سے زائد کو سہارا دیتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق 1950 کی دہائی سے مرجان سے وابستہ ماحولیاتی خدمات میں تقریباً 50 فیصد کمی آ چکی ہے۔

I بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی 2019 رپورٹ میں مرجانی چٹانوں کو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار سمندری نظام قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اگر عالمی حدت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود بھی رکھا جائے تو 2050 تک 90 فیصد مرجان ختم ہو سکتے ہیں۔

اگر درجہ حرارت 2 ڈگری تک پہنچا تو نقصان 99 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی مرجانی چٹانوں پر دباؤ

پاکستان میں مرجانی چٹانیں بلوچستان کے مکران ساحل کے قریب واقع ہیں۔ ان میں استولا جزیرہ، چرنا جزیرہ، گوادر، جیوانی اور اورماڑہ شامل ہیں۔

یہ چٹانیں رقبے میں چھوٹی مگر معاشی اور ماحولیاتی لحاظ سے اہم ہیں۔ یہ ماہی گیری، ساحلی تحفظ اور سیاحت کو سہارا دیتی ہیں۔ بحیرہ عرب میں درجہ حرارت میں اضافہ ان کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

مائیکرو بایوم انجینئرنگ کیا ہے؟

روایتی تحفظی اقدامات محدود کامیابی حاصل کر سکے ہیں۔ اسی لیے محققین مائیکرو بایوم انجینئرنگ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس تکنیک کا مقصد مرجان کے ساتھ جڑے مائیکرو آرگینزمز میں تبدیلی کر کے ان کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

مرجان دراصل “ہولو بایونٹس” ہوتے ہیں۔ یہ مختلف مائیکروبیل کمیونٹیز کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں جو غذائی اجزاء، مدافعتی نظام اور درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ مائیکرو بایوم میں معمولی تبدیلی بھی مرجان کی بقا کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔

زیر غور طریقوں میں پروبائیوٹک علاج، بیکٹیریوفیج تھراپی اور صحت مند مرجان سے متاثرہ مرجان تک مائیکرو بایوم کی منتقلی شامل ہیں۔

عالمی معاشی اہمیت

اقوام متحدہ موسمیات پروگرام کے مطابق مرجانی چٹانیں سالانہ تقریباً 2.7 کھرب ڈالر مالیت کی اشیاء اور خدمات فراہم کرتی ہیں۔ یہ خوراک، ساحلی دفاع اور سیاحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو چند دہائیوں میں زیادہ تر مرجانی نظام ختم ہو سکتے ہیں۔

اخلاقی اور سائنسی چیلنجز

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مائیکرو بایوم میں تبدیلی غیر متوقع نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔

نئے مائیکروبز کا تعارف سمندری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے سخت سائنسی جانچ، مسلسل نگرانی اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے آگے کا راستہ

ماہرین کے مطابق پاکستان کو تحقیق، پائلٹ منصوبوں اور ضابطہ جاتی نگرانی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ سرکاری اداروں، تحقیقی مراکز اور ساحلی کمیونٹیز کے درمیان تعاون کلیدی ہوگا۔ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ مرجانی چٹانوں کی اہمیت کو سمجھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

چین کی آب گاہیں: ماحولیاتی بحالی کا ایک جامع ماڈل؟

دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟

صحت مند مرجانی چٹانیں ماہی گیری، سیاحت اور ساحلی تحفظ کو مضبوط بناتی ہیں۔

جدید سائنسی اقدامات سے پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور معاشی استحکام دونوں کو یقینی بنا سکتا ہے۔

مائیکرو بایوم انجینئرنگ مرجانی چٹانوں کے تحفظ کے لیے ایک امید افزا راستہ پیش کرتی ہے۔

سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ مائیکروبیل کمیونٹیز کو بہتر بنا کر مرجان کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے۔

محتاط اور ضابطہ شدہ جدت ہی پاکستان اور دنیا کے لیے پائیدار مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں