اسلام آباد(نمائندہ خصوصی فرحین العاص) پاکستان اس وقت اپنی آبادیاتی تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ جہاں نوجوان آبادی ملک کے مستقبل کا سب سے بڑا اثاثہ بھی ہے۔ اور چیلنج بھی۔
یہ بات نیشنل ڈیٹا فار ڈیولپمنٹ سمپوزیم 2025 کے دو روزہ افتتاحی اجلاس میں ماہرین اور پالیسی سازوں نے کہی۔
جس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)اور حکومتِ نیدرلینڈز کے اشتراک سے کیا گیا۔
یو این ایف پی اے پاکستان کے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر لوائے شبانہ نےکہا کہ پاکستان اپنی آبادیاتی ساخت میں ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جہاں ملک یا تو نوجوان آبادی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یا اس موقع کو کھو بھی سکتا ہے۔
اگر درست، بروقت اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کو پالیسی سازی کی بنیاد نہ بنایا گیا۔ تو یہ آبادیاتی موقع ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا محض اعداد و شمار نہیں۔ بلکہ انسانی وقار، جواب دہی اور عملی زندگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ درست ڈیٹا ہمیں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔ اور انہیں کن بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ ڈیولپمنٹ انڈیکس وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر نوجوانوں سے متعلق پالیسیوں کی تیاری اور جانچ کے لیے مضبوط شواہد فراہم کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان کی اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس انڈیکس کو محض شماریاتی مشق نہیں۔ بلکہ پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی اور نوجوانوں کی طویل المدتی بااختیاری کا ایک اسٹریٹجک آلہ سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوں سے متعلق نتائج کو قومی ترجیحات میں لانے پر بات کی۔ اور پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ کرنے پر بھی زور دیا۔
:یہ بھی پڑھیں:
ڈیم پالیسی: کیا سندھ کے دریا اور زرخیز زمین خطرے میں ہیں؟
صاف پانی کے حصول میں سولر کا کلیدی کردار ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی ترقیاتی منصوبہ بندی اب کوئی انتخاب نہیں۔ بلکہ م¶ثر حکمرانی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کمزور ڈیٹا نظام کوکمزور کردیتا ہے۔ اور خاص طور پر صوبائی و مقامی سطح پر، پالیسیوں کے اثرات کو محدود کر دیتے ہیں۔-
جس کے نتیجے میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کے ساتھ عدم مساوات اور محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ڈیٹا ڈیش بورڈز شفافیت اور بہتر فیصلوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم مختلف اداروں میں تعریفوں اور طریقہ کار کے فرق کے باعث پالیسی ردِعمل میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یوتھ ڈیولپمنٹ انڈیکس سرکاری اعداد و شمار کے ساتھ مل کر جواب دہی کے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے چیف شماریات دان ڈاکٹر نعیم ظفر نے مختلف شعبوں کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اورکہا کہ نوجوان آبادی پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہے-
اس لیے تفصیلی، معیاری اور قابلِ موازنہ ڈیٹا ضروری ہے- جو انسانی اور سماجی سرمائے کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔
تقریب کے دوران ڈیٹا فار ڈیولپمنٹ پر مبنی ایک دستاویزی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
اختتامی کلمات میں سیدہ فاطمہ بتول نے نوجوانوں کی ترقی کو قومی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے کسی ایک ادارے کے بجائے مربوط اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
سمپوزیم کے افتتاحی اجلاس کے بعد مزید تین سیشن منعقد ہوئے۔
پہلے سیشن کے مہمانِ خصوصی وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکریٹری اویس منظور سمرا تھے- جبکہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے خصوصی خطاب کیا۔
دوسرے سیشن میں پاکستان کے شماریاتی نظام کی ازسرِنو تشکیل، ادارہ جاتی جدید کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر گفتگو ہوئی-
تیسرے سیشن میں ڈیٹا فار ڈیولپمنٹ کے تحت تیار کی گئی نئی تحقیقی و علمی مصنوعات پیش کی گئیں- جن میں نوجوانوں پر مرکوز تحقیق کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.