چپورسن زلزلہ کے 48 گھنٹے بعد مرکزی شاہراہ بحال کردی گئی، امدادی سامان ارسال، نقصانات کا فضائی سروے مکمل، جی بی ڈی ایم اے کی رپورٹ
تنویر احمد، گلگت

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) نے ضلع ہنزہ کی بالائی وادی چپورسن میں 19 جنوری 2026 کو آنے والے شدید زلزلے سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زلزلے نے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ متعدد مکانات منہدم ہو گئے، مویشی خانے اور دکانیں متاثر ہوئیں، جبکہ سخت سرد موسم میں کئی خاندان بے گھر ہو گئے۔

نقصانات کا تخمینہ
جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہنزہ نے مشترکہ سروے مکمل کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- 139 کچے مکانات جزوی متاثر
- 33 مکانات مکمل تباہ
- 91 مویشی خانے جزوی متاثر
- 41 مویشی خانے مکمل تباہ
- 7 مویشی ہلاک
- 18 دکانوں کو نقصان
ان نقصانات سے مقامی آبادی کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
فوری امدادی کارروائیاں
زلزلے کے فوراً بعد جی بی ڈی ایم اے، ڈی ڈی ایم اے ہنزہ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز اور فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس نے مشترکہ امدادی آپریشن شروع کیا۔
22 جنوری کو ایف سی این اے کی خصوصی ٹیم متاثرہ علاقے پہنچی اور ابتدائی امداد تقسیم کی گئی، جس میں شامل تھا:
3 ہزار لیٹر کیروسین آئل، 15 خیمے، 100 گرم ملبوسات کے سیٹ اور 100 راشن پیکٹس۔
بڑے پیمانے پر ریلیف
27جنوری تک متاثرہ خاندانوں کو مزید امدادی سامان فراہم کیا گیا۔:
215 سرمائی خیمے، 250 فوڈ پیکٹس، 650 کمبل، 250 حفظان صحت کٹس، 300 کیروسین ہیٹرز، 45 کچن سیٹس، پانی کی بوتلیں اور دودھ کے کارٹن دیے گئے۔
ادارے کے مطابق شدید سرد موسم میں یہ امداد متاثرین کے لیے عارضی سہارا ثابت ہوئی۔

سڑکوں کی بحالی اور فضائی جائزہ
زلزلے سے مرکزی سڑک کئی مقامات پر بند ہو گئی تھی۔ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے تعاون سے 48 گھنٹوں کے اندر سڑک کو آخری گاؤں تک بحال کر دیا گیا، جس سے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔
فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی سروے بھی کیا تاکہ نقصانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں
ملک میں موسم قدرے ٹھنڈا، بارشیں معمول سے زیادہ
دیامر میں شدید برفباری، مکان کا واچ ٹاور منہدم، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق
حکومتی دورہ اور آئندہ اقدامات
وزیر داخلہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور اعلیٰ حکام کے ہمراہ متاثرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے بروقت امداد اور بحالی کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق علاقے کو باقاعدہ طور پر آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور محکمہ موسمیات تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں۔ انہی رپورٹس کی بنیاد پر بحالی، تعمیر نو اور ممکنہ نقل مکانی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
طویل المدتی بحالی
جی بی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ برادریوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اگلے مرحلے میں طویل المدتی بحالی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔
