گلگت بلتستان میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ای کیئر پروگرام شروع
E-Care Program Launched to Tackle Climate Risks in Gilgit-Baltistan
جی بی آر ایس پی اور یو این ڈی پی کے درمیان معاہدہ، تین ہزار افراد کو براہِ راست فائدہ، بیس لاکھ افراد تک بالواسطہ اثرات
رپورٹ: تنویر احمد ، گلگت
گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام (جی بی آر ایس پی) اوراقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان نے ای کیئر پروگرام کے تحت مفاہمتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
دستخطی تقریب یو این ڈی پی کنٹری آفس، اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں جی بی آر ایس پی کے جنرل منیجر اشفاق احمد اور یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ رپریزنٹیٹو ڈاکٹر سیموئل رزک نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن (ر) مشتاق احمد، ڈپٹی چیف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ علی جبار اور دونوں اداروں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کے اہم مقاصد
ڈاکٹر سیموئل رزک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کی کمزور پہاڑی آبادیوں کو سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
ان کے مطابق سی آئی ڈی سی اے کی مالی معاونت 3.98 ملین امریکی ڈالر پر مشتمل ہے۔ اس پروگرام سے براہِ راست تین ہزار افراد مستفید ہوں گے، جبکہ اس کے بالواسطہ اثرات تقریباً بیس لاکھ افراد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ منصوبے میں صنفی مساوات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کو بھی بنیادی جزو بنایا گیا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن (ر) مشتاق احمد نے یو این ڈی پی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہاڑی خطے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے بین الاقوامی شراکت داری اور تکنیکی معاونت ناگزیر ہے۔
ماہرین اور عوام کے خدشات
ماحولیاتی اور سماجی ماہرین نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا، لیکن چند اہم سوالات بھی اٹھائے۔ ان کے مطابق ماضی میں کئی منصوبے شروع کیے گئے، مگر تسلسل، تکنیکی دیکھ بھال اور مقامی تربیت کی کمی کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
کچھ علاقوں میں نصب ابتدائی انتباہی نظام وقت کے ساتھ غیر فعال ہو گئے، یا مقامی اداروں کو ان کے مؤثر استعمال کی مناسب تربیت فراہم نہیں کی گئی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے منصوبے میں مستفید افراد کے انتخاب کا طریقہ کار، ترجیحی اضلاع اور خطرے سے دوچار وادیوں کی نشاندہی واضح ہونی چاہیے۔ نیز وسائل کی تقسیم، ڈیٹا شفافیت اور مانیٹرنگ کے نظام عوامی سطح پر سامنے لانا ضروری ہے۔
ماہرین کی سفارشات
ماہرین ماحولیات کے مطابق گلگت بلتستان جیسے حساس موسمیاتی زون میں صرف معاہدے اور اعلانات کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ:
مقامی کمیونٹی نیٹ ورکس کی تربیت
ضلعی سطح پر ریسپانس سسٹم کی مضبوطی
سائنسی ڈیٹا تک رسائی
آزادانہ نگرانی کے نظام
یہ اقدامات پائیدار تحفظ اور حقیقی موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے لازمی ہیں۔
فنڈز اور شفافیت
گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام دیہی ترقی کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ دیگر عالمی نجی ادارے (این جی اوز) کے پاس 30 سے 35 ارب روپے کے فنڈز موجود ہیں۔ عوامی حلقے ان پر تنقید کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باوجود یہ فنڈز سیمینارز، آگاہی سیشنز اور دفتری اخراجات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
عوام حکومت اور چیف سیکریٹری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ این جی اوز کے فنڈز کا آڈٹ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقی فائدہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کمیونٹیز تک پہنچ سکے۔