Athletes battle extreme heat during endurance events, highlighting the urgent need for heat risk assessments and health-focused sports policies.
فروزاں خصوصی رپورٹ
دنیا بھر میں کھیل ہمیشہ موسم سے وابستہ رہے ہیں۔ مگر اب موسمیاتی تبدیلی کھیلوں کے نظام کو ازسرنو تشکیل دے رہی ہے۔ یہ محض اثر نہیں۔ یہ وجودی چیلنج ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں کرکٹ، فٹ بال، ٹینس، میراتھن اور سائیکلنگ جیسے آؤٹ ڈور کھیل شدید گرمی سے متاثر ہوئے۔ یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ٹورنامنٹس کے دوران کھلاڑیوں کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور اعصابی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
نتیجتاً عالمی اسپورٹس اداروں نے میچ ٹائم، وقفوں اور ہیٹ پروٹوکول پر نظرثانی کی۔ اب سوال یہ ہے: کیا ہر میچ کھیلنا ضروری ہے، اگر قیمت انسانی صحت ہو؟
ترقی یافتہ ممالک میں اس سوال پر تحقیق، ڈیٹا اور پالیسی سازی جاری ہے۔ پاکستان میں یہ بحث ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔
بدلتا موسم کراچی، لاہور، ملتان اور بہاولپور سمیت کئی شہروں میں گرمی کا دورانیہ بڑھا چکا ہے۔ فروری یا مارچ سے اکتوبر تک ہیٹ اسٹریس معمول بن چکا ہے۔
اس کے باوجود اسکول ٹورنامنٹس، ضلعی کرکٹ میچز اور فٹ بال لیگز بغیر کسی ہیٹ رسک اسیسمنٹ کے منعقد ہوتے ہیں۔
عالمی سطح پر ویٹ بلب گلوب ٹمپریچر (WBGT) جیسے سائنسی پیمانے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ پیمانہ شدید گرمی میں انسانی جسم پر پڑنے والے دباؤ کو جانچتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) بڑے ایونٹس میں گرمی، فضائی آلودگی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کے خطرات کو ایونٹ مینجمنٹ کا حصہ بنا رہا ہے۔ پاکستان میں کھلاڑی آج بھی محض احساسِ گرمی پر انحصار کرتے ہیں۔
نتیجہ خاموش ہے۔ نوجوان کھلاڑی کھیل چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی رپورٹ درج نہیں ہوتی۔
موسمیاتی تبدیلی نے بارش کے پیٹرن کو غیر متوقع بنا دیا ہے۔ کئی ممالک نکاسی آب، جدید ڈرینیج سسٹم اور متبادل شیڈولنگ سے اس چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
پاکستان میں بارش اب بھی انتظامی بحران ہے۔
بدلتا موسم اور لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں ایک گھنٹے کی شدید بارش پورا دن ضائع کر دیتی ہے۔ کرکٹ اسٹیڈیمز کی آؤٹ فیلڈ اور پچ متاثر ہوتی ہیں۔ فٹ بال اور ہاکی گراؤنڈز میں نکاسی آب کا فقدان پرانا مسئلہ ہے، مگر اب زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔
کئی میدان بارش کے بعد ہفتوں قابلِ استعمال نہیں رہتے۔ یہ کھیلوں کی نرسری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
عالمی سطح پر جنگلاتی آگ اور اسموگ کھیلوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں فضائی آلودگی مستقل بحران بن چکی ہے۔
لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں سردیوں کے دوران آؤٹ ڈور کھیل صحت کا خطرہ بن جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں، دل اور برداشت پر اثر پڑتا ہے۔
کوئی واضح اسپورٹس ہیلتھ اسٹینڈرڈ موجود نہیں۔ ایونٹس منسوخ کرنے کے قواعد بھی مبہم ہیں۔ یہاں کھیل خطرے کے ساتھ جینے کا نام بن چکا ہے۔
دنیا میں برف کم ہو رہی ہے۔ ونٹر اسپورٹس سکڑ رہے ہیں۔ اولمپکس کے لیے موزوں مقامات محدود ہو رہے ہیں۔
گلگت بلتستان، چترال اور سوات قدرتی طور پر موزوں علاقے ہیں۔ مگر برف باری کا پیٹرن غیر یقینی ہو چکا ہے۔ انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔ موسمیاتی ڈیٹا کو اسپورٹس پلاننگ سے جوڑا نہیں گیا۔
دنیا ونٹر اسپورٹس بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان ممکنہ مواقع کھو رہا ہے۔
دنیا کے ساحلی شہروں میں سمندر کی سطح میں اضافہ اسپورٹس انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ ہے۔ کراچی میں یہ خطرہ زیادہ شدید ہے۔
کئی اسپورٹس کمپلیکس ساحلی یا نشیبی علاقوں میں ہیں۔ طوفانی بارشیں اور سمندری لہریں بڑھ رہی ہیں۔ اربن پلاننگ میں کھیلوں کو ماحولیاتی زاویے سے نہیں دیکھا گیا۔
ساحلی کھیل، سیلنگ، بیچ فٹ بال اور واٹر اسپورٹس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
دنیا میں کھیل اب کلائمیٹ ایکشن کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسٹیڈیمز میں توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال پر کام ہو رہا ہے۔ اخراج کم کرنے کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ کھلاڑیوں کی صحت کے لیے پروٹوکول بن رہے ہیں۔
پاکستان کی اسپورٹس پالیسی اب بھی ماضی میں کھڑی ہے۔ کھیلوں کو نہ موسمیاتی خطرہ سمجھا گیا ہے، نہ حل کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان میں کھیل اب محض کھیل نہیں رہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور بدلتا موسم کھیلوں کو دو حصوں میں تقسیم کرچکا ہے۔
ایک وہ ممالک جو ایڈاپٹ کر رہے ہیں۔ دوسرے وہ جہاں کھیل سکڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی حدت کا فیصلہ کن دور: زمین کے لیے آخری انتباہ
نیا سال 2026 اور بڑھتی گرمی: جنوبی ایشیا اور پاکستان کو درپیش سنگین موسمیاتی خطرات
اگر کھیلوں کو زندہ رکھنا ہے تو ہیٹ ویوز کو اسپورٹس رسک تسلیم کرنا ہو گا۔ بارش اور سیلاب کو ایونٹ پلاننگ میں شامل کرنا ہو گا۔ فضائی آلودگی کو معمول کہنا بند کرنا ہو گا۔ اسپورٹس کو موسمیاتی پالیسی سے جوڑنا ہو گا۔
ورنہ آنے والی نسلیں فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ کو ایسے یاد کریں گی جیسے ہم برفانی گلیشیئرز کو یاد کرتے ہیں۔ ایک کھوئی ہوئی حقیقت کے طور پر۔
گلگت میں اسمگلرز کو 10 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید، جنگلات کا تحفظ قومی…
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف…
امریکی برفانی طوفان صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ…
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی،…
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی کو صرف دستاویز ی نہیں بلکہ فعال نظام…
عالمی حدت کے باعث گزشتہ 11برس جدید انسانی تاریخ کے گرم ترین سال رہے، سمندر…
This website uses cookies.