تنویر احمد، گلگت
گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے حسینی کمیونٹی کنزرویشن ایریا میں رواں سیزن کی پہلی ٹرافی ہنٹنگ، کینڈین شکاری نے 45 انچ سینگ کے ہمالین آئی بیکس کا کامیاب شکار کیا۔
سی سی ایچ اے حسینی میں رواں سیزن کی پہلی ٹرافی ہنٹنگ کامیابی کے ساتھ کی گئی جس میں ایک کینیڈین شہری نے 45 انچ لمبے سینگ والے ہمالیائی آئی بیکس کا شکار کیا اس کامیاب شکار کو علاقے میں ضابطہ شدہ شکار کے سیزن کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف ہنزہ کے ڈی ایف او جعفر علی نے ٹرافی ہنٹنگ کے تحت ہونے والے اس شکار کی تصدیق کرتے ہوئے فروزاں ڈیجیٹل کو بتایا کہ مقامی کنزرویشن ٹیم کے تعاون سے یہ شکار تمام طے شدہ وائلڈ لائف مینجمنٹ قوانین اور ضوابط کے عین مطابق کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے کینیڈا کے شہری مسٹر لائل اینڈریو ووڈ کو موجودہ شکار سیزن کے دوران ایک ہمالیائی آئی بیکس (38 انچ یا اس سے زائد) کے شکار کا لائسنس جاری کیا تھا جس کے لئے غیر ملکی شکاری نے بارہ ہزار چھ سو پچاس 12650 امریکی ڈالرز فیس ادا کی تھی۔
اجازت نامے کے مطابق، شکار کی مدت 15 اکتوبر 2025 سے 10 اپریل 2026 تک ہوگی تاہم شکار وائلڈ سائیڈ ہنٹنگ ایکسپیڈیشنز کے ذریعے کیا گیا۔
ڈی ایف او کے مطابق شکاری نے مقررہ بگ گیم شوٹنگ لائسنس اور ٹرافی ہنٹنگ فیس جمع کروا دی تھی جبکہ شکار گلگت بلتستان وائلڈ لائف ایکٹ 1975 اور ٹرافی ہنٹنگ گائیڈ لائنز کے تحت کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق شکار کے دوران محکمانہ نمائندہ اور وائلڈ لائف گائیڈ شکاری کے ہمراہ تھے،خودکار شکار سڑک سے کم از کم ایک کلومیٹر دور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ کا مقصد نہ صرف وائلڈ لائف کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ اس کے ذریعے مقامی آبادی کو معاشی فوائد فراہم کرنا بھی ہے۔
دوسری جانب کمیونٹی کنزرویشن ہنٹنگ ایئریا(سی سی ایچ اے) حسینی کی انتظامیہ نے اس موقع پر کہا کہ پائیدار اور ذمہ دار شکار کے اصولوں پر عمل درآمد کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن نظام کا اہم حصہ ہے جس کے مثبت اثرات نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ بلکہ مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
یہ ٹرافی ہنٹ خطے کی جنگلی حیات، بالخصوص ہمالیائی آئی بیکس میں بین الاقوامی دلچسپی کا مظہر ہے۔
ماہرین کے مطابق کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی کنزرویشن پروگرامز نے علاقے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں موثر کردار ادا کیا ہے جس کے باعث غیر ملکی شکاری بھی منظم اور قانونی طریقہ کار کے تحت اس خطے کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ہنزہ میں نایاب آئی بیکس کا شکار، حکام حرکت میں
گلگت بلتستان میں دو ہفتوں کے دوران مارخور کے غیر قانونی شکار کا دوسرا واقعہ
کیا گرین پاکستان منصوبہ گلگت بلتستان میں شجرکاری کو پائیدار بنا سکے گا؟
سی سی ایچ اے حسینی کی ٹیم اور متعلقہ اداروں نے سیزن کے کامیاب آغاز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ بھی وائلڈ لائف کے تحفظ اور مقامی ترقی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرافی ہنٹنگ کے عمل کو جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت اس ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹی کو جبکہ 20 فیصد حصہ قومی خزانے میں جمع ہوتا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.