فروزاں

دیامر میں شدید برفباری، مکان کا واچ ٹاور منہدم، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق

دیامر میں برفباری حادثہ: وادی تانگیر میں شدید بارش اور برفباری سے مکان منہدم، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق، 2 بچے زخمی۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی وادی تانگیر کے گاؤں لُرک میں گزشتہ شب شدید برفباری اور موسلا دھار بارش کے باعث ایک تین منزلہ رہائشی مکان کا واچ ٹاور منہدم ہونے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہو گئے۔ دیامر پولیس کنٹرول روم کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ شب پیش آیا ہے۔

جس میں فضل رحیم نامی شخص کے گھر میں لگا واچ ٹاور بارش اور برفباری کی وجہ سے اچانک منہدم ہو گیا۔

جس کے نتیجے میں گھر میں موجود سوئے ہوئے افراد انعام اللہ ولد فضل رحیم، کلیم اللہ ولد فضل رحیم، حسینہ دختر فضل رحیم اور راجعون زوجہ فضل رحیم ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے جبکہ دو بچے عرفان اللہ ولد صاحب اور مدیحہ دختر فضل رحیم زخمی ہو گئے ہیں۔

دیامر کی وادی تانگیر میں شدید برفباری کے بعد مکان کا واچ ٹاور منہدم، 4 افراد جاں بحق۔

کنٹرول روم کے مطابق جیسے ہی واقعے کی اطلاع پولیس اور محکمہ صحت کو ملی دونوں اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ایمبولینس سمیت ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور ملبے سے لاشیں نکال لی گئی جبکہ اس سے قبل مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی بچوں کو ملبے سے نکالا تھا۔

ریسکیو آپریشن میں مقامی لوگوں، پولیس اور صحت کے عملے نے تقریباً ایک گھنٹے کی کوششوں کے بعد ملبے تلے دبے افراد کو نکالا۔

مقامی لوگ اور ریسکیو ٹیم ملبے سے زخمی بچوں کو نکالتے ہوئے۔

زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ٹی ایچ کیو ہسپتال تانگیر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو خطرے سے باہر بتایا ہے۔

حکام کے مطابق موسمیاتی شدت اور برفباری کے باعث علاقے میں رہائشی مکانات خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں اور انتظامی حکام نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے مزید برفباری اور بارش کی پیشگوئی کے پیش نظر علاقہ مکینوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گل پلازہ کی آگ: ایک حادثہ نہیں، سنگین ماحولیاتی جرم ہے

ضلع ہنزہ کی وادی چپورسن آفت زدہ کیوں قرار دی گئی؟

نگران وزیر اعلٰی گلگت بلتستان جسٹس(ر) یار محمد اور نگران وزیر داخلہ ساجد علی بیگ نے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغام میں واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی ظاہر کی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرے اور زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔

admin

Recent Posts

چین کی آب گاہیں: ماحولیاتی بحالی کا ایک جامع ماڈل؟

چین کا تجربہ پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ پاکستان مخصوص قوانین اور…

10 hours ago

شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے تحقیق اور کمیونٹی ریزیلینس کا آغاز

شدید گرمی کے اثرات پر آئی بی اے کراچی اور الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے درمیان…

11 hours ago

ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے

ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی…

1 day ago

دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟

پاکستان کی آب گاہیں تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، وجہ شہری پھیلاؤ، آلودگی اور…

3 days ago

قراقرم یونیورسٹی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے…

4 days ago

سانحہ گل پلازہ کراچی: کیسے درجنوں جانیں خاکستر ہوگئیں؟

گل پلازہ کراچی کی ہولناک آگ نے بدعنوانی اور ناقص بلڈنگ سسٹم کو بے نقاب…

5 days ago

This website uses cookies.