پاکستان کی آب گاہیں تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، وجہ شہری پھیلاؤ، آلودگی اور ناقص پالیسی ہے، نتیجہ سیلاب، ہیٹ ویوز اور ماحولیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
محمود عالم خالد

دنیا بھرمیں دو 2 فروری کو آب گاہوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، مگر یہ دن پاکستان میں عموماً چند سرکاری بیانات، تصویری تقاریب اور ماحول دوست نعروں تک محدود رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آب گاہیں کسی ایک دن کی محتاج نہیں ۔
وہ روزانہ مر رہی ہیں۔ اور یہ موت خاموش ضرور ہے، مگر قدرتی نہیں۔
یہ ایک منصوبہ بند غفلت، ریاستی بے حسی اور ترقی کے نام پر کی جانے والی ماحولیاتی بے دخلی کا نتیجہ ہے۔
آب گاہیں محض جھیلیں، دلدلیں، مینگرووز یا نالے نہیں ہوتیں۔ یہ زمین کے گردشی نظام کا وہ حصہ ہیں جو پانی کو ذخیرہ بھی کرتا ہے، صاف بھی کرتا ہے، درجہ حرارت کو قابو میں رکھتا ہے اور انسان و فطرت کے درمیان ایک حفاظتی دیوار بھی بناتا ہے۔
مگر پاکستان میں یہی آب گاہیں سب سے پہلے قربان کی جاتی ہیں،کبھی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے، کبھی سڑکوں کے لیے، اور کبھی اس لیے کہ وہ کاغذی منصوبہ بندی میں نظر ہی نہیں آتیں۔
پاکستان: پانی کا ملک یا پانی کا قاتل؟
یہ ایک تلخ سچ ہے کہ پاکستان خود کو دریاؤں، ساحلوں اور جھیلوں کا ملک کہتا ہے، مگر عملی طور پر پانی کے نظام کو سب سے زیادہ نقصان بھی ہم اور ہمارے ادارے پہنچا رہے ہیں۔
دریائے سندھ کا ڈیلٹا سکڑ رہا ہے، مینگرووز کٹ رہے ہیں، قدرتی نالے کنکریٹ میں دفن ہو چکے ہیں، اور جھیلیں یا تو سوکھ رہی ہیں یا سیوریج کے تالاب بن چکی ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی آب گاہیں ہمیں سیلاب سے بچاتی ہیں، ہیٹ ویوز کے اثرات کم کرتی ہیں، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرتی ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتی ہیں،مگر قومی ترقیاتی بیانیے میں ان کی کوئی قیمت مقرر ہی نہیں کی گئی۔
ہم آب گاہوں کو اس وقت یاد کرتے ہیں جب پرندے غائب ہو جائیں، ماہی گیر بے روزگار ہو جائیں، یا سیلاب شہر میں داخل ہو جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تب تک بہت دیر نہیں ہو چکی ہوگی؟
قانون موجود، عمل نظر انداز
پاکستان رامسر کنونشن کا دستخط کنندہ ہے۔ کاغذوں میں ہمارے پاس تحفظِ آب گاہوں کے قوانین بھی ہیں، فہرستیں بھی، اور ذمہ دار ادارے بھی۔
مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین کی حیثیت ایک فائل سے زیادہ نہیں۔
کیا کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو کبھی اس بنیاد پر روکا گیا کہ وہ کسی آب گاہ کو نقصان پہنچا رہا ہے؟
کیا کسی ہاؤسنگ اسکیم کو کبھی یہ کہہ کر منسوخ کیا گیا کہ وہ قدرتی نالے پر بنی ہے؟
کیا کسی ادارے کو کبھی جواب دہ ٹھہرایا گیا کہ اس نے ایک جھیل کو سیوریج ڈمپ میں بدل دیا؟
ان سوالوں کے جواب خاموشی ہیں،اور یہی خاموشی اصل جرم ہے۔
شہری منصوبہ بندی: فطرت کے بغیر شہر
کراچی، لاہور، اسلام آباد یا پشاور، پاکستان کے کسی بڑے شہر کو دیکھ لیں، شہری منصوبہ بندی میں پانی کے قدرتی راستے، دلدلی زمینیں یا سیلابی میدان کہیں نظر نہیں آتے۔

شہر ایسے بنائے جا رہے ہیں جیسے زمین ایک مردہ سطح ہو، جس پر کچھ بھی تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بارش آتے ہی شہر ڈوب جاتا ہے، گرمی پڑتے ہی درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے، اور ہر چند سال بعد ہم ایک نئی ’’قدرتی آفت‘‘ کا ماتم کرتے ہیں،حالانکہ وہ آفت قدرت کی نہیں، ہماری اپنی پیدا کردہ ہوتی ہے۔
آب گاہوں کو شہری منصوبہ بندی سے خارج کرنا دراصل شہری بقا کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
مگر یہ حقیقت ہمارے ملک کے کسی بھی ماسٹر پلانز میں کہیں درج نہیں۔
ہیٹ ویوز، سیلاب اور آب گاہیں: ایک نظر انداز ربط
پاکستان میں ہیٹ ویوز اب معمول بن چکی ہیں۔ مگر پالیسی ساز اب بھی انہیں صرف صحت کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ اگر شہروں میں قدرتی آب گاہیں، سبز میدان اور مینگرووز موجود ہوتے تو کیا ہیٹ ویوز کی شدت یہی رہتی؟
آب گاہیں قدرتی کولنگ سسٹم ہیں۔
یہ نمی کو برقرار رکھتی ہیں، درجہ حرارت کو متوازن کرتی ہیں اور گرم ہوا کو جذب کرتی ہیں۔
مگر ہم نے انہی قدرتی نظاموں کو ختم کر کے کنکریٹ کے جنگل کھڑے کر دیئے اور پھر اے سی، ہیٹ ایکشن پلان اور ایمرجنسی الرٹس سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہی گیر، کسان اور وہ لوگ جو شمار نہیں کئے جاتے
اس حوالے سے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں آب گاہوں کی تباہی کا سب سے بڑا بوجھ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو کبھی پالیسی میز پر بیٹھے ہی نہیں جب کہ ماہی گیر، کسان، چرواہے، اور ساحلی و دریائی کمیونٹیزان سب کی زندگیاں براہِ راست پانی سے جڑی ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ جب جھیل مر جاتی ہے تو صرف پرندے نہیں مرتے، روزگار بھی مرتا ہے۔

جب مینگرووز کٹتے ہیں تو صرف درخت نہیں گرتے، ساحلی بستیاں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔
مگر ان نقصانات کو نہ تو قومی حساب کتاب میں شامل کیا جاتا ہے اورنہ ترقی کے اشاریوں میں۔
عالمی دن، مقامی منافقت
ہر سال یوم آب گاہ کے دن لاکھوں ،کروڑوں کا فنڈ حاصل کرنے والی تنظیمیں اور ادارے پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقریبات منعقد کرتے ہیں، پوسٹر چھاپتے ہیں، سیمینار کرتے ہیں اور بچوں سے تقاریر کرواتے ہیں۔
مگر اسی دن یا اس کے فوراً بعد کسی نہ کسی شہر میں کوئی آب گاہ خاموشی سے ختم کر دی جاتی ہے،اس تباہی کی کوئی خبر نہیں بنتی۔
یہ دن ہمیں یاد دہانی کا نہیں بلکہ احتساب کا دن بنانا ہو گا۔
یہ دن سوال کرنے لیے ہونا چاہیے کہ پچھلے سال کتنی آب گاہیں بچائی گئیں؟ کتنی بحال کی گئیں؟ اور کتنی ترقی کے نام پر قربان کی گئیں؟
اب سوال یہ ہے: مشقبل کیسا ہوگا ؟
پاکستان کو اب آب گاہوں کے مسئلے کو ’’ماحولیات کا ذیلی موضوع‘‘سمجھنے کی عیاشی ترک کرنا ہوگی۔
یہ مسئلہ پانی، خوراک، صحت، موسمیاتی تبدیلی اور شہری بقا،سب کا مرکز ہے۔
ہمیں ان کے تحفظ کے لیے ہر ترقیاتی منصوبے میں آب گاہوں کو ماحولیاتی آڈٹ رپورٹ کا حصہ بنانا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں
قراقرم یونیورسٹی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس
کھرمنگ آئس اسٹوپا: موسمیاتی تبدیلی کے مقابل کسانوں کی امید
شہری ماسٹر پلانز میں قدرتی پانی کے نظام کو بنیادی حیثیت دینا ہو گی، تباہ شدہ آب گاہوں کی بحالی کو بجٹ کا حصہ بنانے کے ساتھ اس کے لیے ٹائم فریم طے کرنا ہو گا اور سب سے بڑھ کر، اداروں کو جواب دہ بنانا ہو گا۔
کیوں کہ پاکستان میں آب گاہیں قدرتی طور پر نہیں مر رہیں،انہیں مارا جا رہا ہے۔
اگر ہم فطرت کو جواب دہ نہ بنایا، تو وہ ہمیں ضرور جواب دے گی او ر یہ حقیقت ہے کہ فطرت سے کھلواڑ کرنے کا جواب ہمیشہ سخت ہوتا ہے، موسمیاتی تبدیلی اسی کا جواب ہے۔
