گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی، حکمت عملی تیار کرلی، ڈائریکٹر
تنویر احمد (بیورو چیف گلگت)

گلگت بلتستان ایک بار پھر قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات کی زد میں ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال یعنی 2026 کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
ماہرین ماحولیات نے خبر دار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں کی خاموشی کے پیچھے چھپا خطرہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے جہاں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، اچانک بننے والی جھیلیں اور موسلا دھار بارشیں کسی بھی وقت تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ 2025 میں گلگت بلتستان شدید بارشوں، گلاف ایونٹس، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بری طرح متاثر ہوا تھا۔

متعدد علاقوں میں سیلابی ریلوں نے سڑکیں بہا دیں تھی، پل ٹوٹ گئے تھے، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا،کئی مقامات پر شاہراہیں بند ہوئیں اور دور دراز وادیاں کئی کئی دنوں تک ملک کے دیگر حصوں سے کٹ کر رہ گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تغیر کے باعث گلگت بلتستان میں بارشوں کا پیٹرن غیر متوقع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسی تناظر میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین کے مطابق رواں سال ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ حساس علاقوں کی نشاندہی، مشینری کی پیشگی تعیناتی اور ریسکیو ٹیموں کی تیاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ندی نالوں، کمزور ڈھلوانوں اور ان علاقوں کے قریب رہائش یا غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے جہاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ یا گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی سی غفلت بھی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات کی ابتدائی پیش گوئیوں میں بھی معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جس سے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھرا جائے اور صرف مستند ذرائع سے موصول ہونے والی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان جیسے حساس پہاڑی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔
بڑھتا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں اضافہ کر رہا ہے جس سے اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو ماضی کی تباہ کاریاں ایک بار پھر دہرائی جا سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس بار پیشگی تیاری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاہم حقیقی کامیابی عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی بحران: پاکستان کے لیے فوری پالیسی اقدام ناگزیر
خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تباہ کاریاں، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی زمینوں کا بحران نمایاں
گلگت بلتستان میں قدرت کے بدلتے تیور اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہر شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے خطرناک مقامات سے دور رہے اور ہنگامی ہدایات پر فوری عمل کرے کیونکہ ایک لمحے کی تاخیر بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے بعد قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں عوام ایک بار پھر خوف اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ جب ان علاقوں میں غیر متوقع بارشیں اور گلیشیائی جھیلیں اچانک ٹوٹتی ہیں تو کس قدر صورتحال خطرناک اور کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔
