فروزاں ماحولیاتی خبریں

ہنزہ زلزلہ: بالائی علاقوں میں 5.5 شدت کے جھٹکوں سے نقصان، خوف کی فضا

Hunza Earthquake: 5.5 Magnitude Tremors Cause Damage in Upper Areas

ہنزہ زلزلہ سے چپورسن اور مسگر میں مکانات متاثر، لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند، مکین گھروں سے نکل آئے، کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے

Glacier melting and flood risk in Gilgit Baltistan as authorities issue high alert for natural disasters in 2026

ملک کے شمالی علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اور جمعہ کی صبح آنے والے زلزلے نے گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی بالائی وادی چپورسن اور مسگر کو شدید متاثر کیا۔

متعدد مکانات، سڑکیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ خوفزدہ مکین گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔

زلزلے کی تفصیلات اور شدت

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلے کا مرکز لوپغار پاس کے قریب تھا۔

27 مارچ کی صبح تقریباً 2 بج کر 3 منٹ پر 5.5 سے 5.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد کئی چھوٹے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔

جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ زلزلہ ”ارتھ کویک سوارم“ نوعیت کا ہے، یعنی ایک ہی مقام پر مسلسل چھوٹے بڑے جھٹکوں کا سلسلہ۔

جھٹکوں کی شدت اور خدشات

زلزلے کی گہرائی کم تھی، جس کے باعث جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس ہوئے۔

چپورسن ویلی اور اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو کمزور عمارتوں سے دور رہنے اور مزید جھٹکوں کی صورت میں کھلی جگہ پر جانے کی ہدایت کی ہے۔

According to the Geological Survey of Pakistan and the Pakistan Meteorological Department, this earthquake is of the “earthquake swarm” type, meaning a series of continuous small and large tremors occurring in the same location.
جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ زلزلہ ”ارتھ کویک سوارم“ نوعیت کا ہے، یعنی ایک ہی مقام پر مسلسل چھوٹے بڑے جھٹکوں کا سلسلہ۔

چپورسن اور مسگر میں صورتحال

چپورسن وادی میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں، جس سے رہائش غیر محفوظ ہو گئی۔

لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چپورسن جانے والی مرکزی سڑک مکمل بند ہو گئی، جس سے علاقہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا۔

دوسری جانب مسگر میں بھی پہاڑوں سے ملبہ گرنے اور گرد و غبار کے بادل اٹھنے کی اطلاعات ہیں۔

مسگر روڈ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی جبکہ گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔

متاثرین کی مشکلات اور مطالبات

مقامی افراد کے مطابق مسلسل جھٹکوں کے خوف سے لوگ گھروں میں واپس نہیں جا رہے۔

متاثرہ خاندان کھلے میدانوں، خالی جگہوں اور سبزیوں کے ٹنلز میں عارضی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ شدید سردی نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے خیموں، کمبلوں اور خوراک کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

Several houses, roads, and other properties were damaged. Frightened residents were forced to leave their homes and stay out in the open.
متعدد مکانات، سڑکیں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ خوفزدہ مکین گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے۔

امدادی کارروائیاں اور بحالی کا عمل

انتظامیہ کے مطابق زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

مسگر روڈ کو عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے جبکہ چپورسن ویلی کی سڑک کھولنے کے لیے بھاری مشینری روانہ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں طوفانی بارش سے تباہی، 18 ہلاکتیں

ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال کرنے اور نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

جانی نقصان نہیں، مگر معاشی اثرات

اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد مویشیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ مقامی آبادی کے لیے بڑا معاشی نقصان ہے کیونکہ علاقے کے لوگ مویشیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

So far, no human casualties have been reported; however, there are reports of several livestock being killed or injured.
اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد مویشیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عوام کے لیے ہدایات

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

یہ علاقہ زلزلوں کے لحاظ سے حساس ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

حکومتی اقدامات کا مطالبہ

علاقہ مکینوں نے گلگت بلتستان حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر حکام متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں، سڑکوں کی مستقل بحالی یقینی بنائیں اور متاثرین کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں