فروزاں

ہنزہ میں 39 انچ سینگوں والا آئی بیکس شکار

بالائی ہنزہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی کی فلاح، قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ ہو رہا ہے۔

خیبر کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریا میں ہمالین آئی بیکس کا شکار امریکی شہری لوئس ویسلے بریلینڈ نے کیا۔ انہوں نے 39 انچ لمبے سینگ والے ہمالین آئی بیکس کے شکار کے لئے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اجازت نامے کے تحت مقررہ قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے ٹرافی سائز نر ہمالین آئی بیکس کا لائسنس حاصل کیا تھا۔

محکمہ وائلڈ لائف ہنزہ کے رینج فارسٹ آفیسر اکرام گوہر نے فروزاں ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ شکار خیبر ہاور ہاؤس سے متصل نالہ میں موجودہ شکار سیزن کے دوران گزشتہ روز کیا گیا جس میں وائلڈ سائیڈ ہنٹنگ ایکسپیڈیشنز کے ذریعے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

شکار سے قبل شکاری نے بگ گیم شوٹنگ لائسنس فیس کی مد میں مبلغ 13100 امریکی ڈالرز ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ فیس جمع کرائی جبکہ شکار کے دوران گلگت بلتستان وائلڈ لائف پریزرویشن ایکٹ 1975 اور ٹرافی ہنٹنگ گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ شکار شاہراہ قراقرم سے ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر کیا گیا ۔ شکار کے دوران وہ خود بطور سرکاری نمائندہ شکاری کے ہمراہ موجود رہے، جبکہ مقامی کمیونٹی کے اعزازی وائلڈ لائف آفیسر اور وائلڈ لائف گائیڈ نے بھی نگرانی کے فرائض انجام دیئے۔

گلگت بلتستان میں مقامی کمیونٹی کی اس شمولیت نے شکار کے عمل کو شفاف اور قواعد کے مطابق بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اکرام گوہر کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود، قدرتی وسائل کے تحفظ اور جنگلی حیات کے پائیدار انتظام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 30 فیصد حکومت کے خزانے میں جمع ہوتا ہے ۔

اس پروگرام کے نتیجے میں نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کو فروغ مل رہا ہے جبکہ مقامی آبادی کو براہ راست معاشی فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بالائی ہنزہ میں سیزن کی پہلی ہمالیائی آئی بیکس بیکس ٹرافی ہنٹنگ

محکمہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈویژن ہنزہ۔نگر نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کا یہ عمل مکمل طور پر قانونی، شفاف اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انجام دیا گیا، اور آئندہ بھی کمیونٹی کنٹرولڈ ہنٹنگ ایریاز میں شکار کو مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت یقینی بنایا جاتا رہے گا۔


خیال رہے کہ بالائی ہنزہ کے علاقے حسینی میں بھی گزشتہ غیر ملکی شکاری نے ٹرافی ہنٹنگ کے تحت 43 انچ لمبے سینگ والے ہمالیائی آئبیکس کا کامیاب شکار کیا تھا۔

admin

Recent Posts

اسموگ بحران: پالیسی موجود مگر عملدرآمد بڑا چیلنج، ملک امین اسلم

ملک امین اسلم نے کہا کہ اسموگ سے نمٹنے کیلئے پالیسی اور ٹیکنالوجی موجود ہے…

46 minutes ago

باجوڑ میں جانور اور پرندے کم ہوتے جا رہے ہیں، بڑا خطرہ سامنے آگیا

باجوڑ میں معدوم ہوتی جنگلی حیات غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی…

1 day ago

موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟

موسمیاتی سفارتکاری: کوپ 28 میں ماحولیات، معیشت اور سیاست کے متضاد مفادات آمنے سامنے، عالمی…

2 days ago

زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟

زیرِ زمین پانی میں مسلسل کمی، ذخائر سکڑنے لگے، پانی کی سطح خطرناک حد تک…

3 days ago

انٹارکٹک میں جانور تیزی سے کیوں ختم ہورہے ہیں؟

انٹارکٹک میں خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، پینگوئن اور فر سیل کی بقا برف کے…

5 days ago

صیحہ سے صُور تک: کیا آواز واقعی تباہی لا سکتی ہے؟

صیحہ کیا ہے؟ کیا یہ محض آواز ہے یا تباہ کن توانائی کی لہر؟ قرآن…

5 days ago

This website uses cookies.