فروزاں

اسلام آباد کے جنگلات: کٹائی، تضاد اور سائنسی حقیقت

اسلام آباد کے جنگلات میں کٹائی، شہری پھیلاؤ اور سائنسی حقائق پر مبنی تحقیقی رپورٹ، جو ماحولیاتی تضاد اور سبزہ کے مستقبل کو آشکار کرتی ہے۔

اسلام آباد کو پاکستان کا سب سے سرسبز، منصوبہ بند اور خوبصورت شہر سمجھا جاتا ہے، مگر حالیہ برسوں میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی، تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور ماحولیاتی دباؤ نے اس تصور کو سنجیدہ سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔

خاص طور پر پیپر ملبری درختوں کی کٹائی نے عوامی سطح پر تشویش، سائنسی حلقوں میں بحث اور سرکاری اداروں کے لیے وضاحت پر وضاحت جاری کرنے کا دروازہ کھول دیا ہے۔۔

ڈیٹا کیا کہتا ہے؟

گلوبل فاریسٹ واچ کے ڈیٹا کے مطابق 2020 میں اسلام آباد میں 7.9 ہزار ہیکٹر رقبے پر قدرتی جنگلات موجود تھے جو شہر کے کل رقبے کا 9 فیصد بنتے ہیں۔

اسلام آباد میں درختوں کے غلاف کا نقصان

سن2001 سے 2024 کے دوران 14 ہیکٹرپر درختوں کا غلاف ختم ہوا جس کے نتیجے میں 77 فیصد نقصان مستقل جنگلاتی کٹاؤ کی وجہ سے ہوا جو کہ 2000 کے درختوں کے غلاف کے رقبے کا 0.45 فیصد  بنتا ہے، اور اس سے 5.5  سی او ٹو ای کے برابر اخراج ہوا۔

درختوں کے غلاف کے نقصان کے اسباب

درختوں کے غلاف کے نقصان کے اسباب کی بات کی جائے تو اسلام آباد میں  2001 سے 2024 کے دوران، درختوں کے غلاف کے نقصان کا 77فیصد حصہ اُن علاقوں میں ہوا جہاں بنیادی وجہ مستقل جنگلاتی کٹاؤ تھی۔

عارضی وجوہات

لکڑی کی کٹائی : 1 ہیکٹر سے کم

جنگلاتی آگ: 2.0 ہیکٹر

مستقل وجوہات

مستقل زرعی زمین: 5.0 ہیکٹر

آبادیاں اور انفراسٹرکچر: 4.0 ہیکٹر

درختوں کے غلاف میں مجموعی تبدیلی

اس حوالے سے درختوں کے غلاف میں مجموعی تبدیلی کی بات کی جائے تو اسلام آباد میں 2000  سے 2020 کے دوران، درختوں کے غلاف میں 460 ہیکٹر 4.0فیصدکا خالص اضافہ ہوا۔

اسی عرصے میں اسلام آباد میں 710 ہیکٹر رقبے پر درختوں کا غلاف بڑھا، جو پاکستان میں درختوں کے کل اضافے کا 0.61 فیصد  ہے۔

اسلام آباد میں درختوں کا غلاف

سال 2000 میں، اسلام آباد کے کل رقبے کا  4.0 فیصد  حصہ ایسا تھا۔ جہاں درختوں کی چھتری 30فیصد سے زیادہ تھی جس میں

درختوں کا غلاف:  3.1 ہزار ہیکٹر

دیگر زمینی غلاف:  81 ہزار ہیکٹر

سال2020میں

قدرتی جنگلات 7.9 ہزار ہیکٹر

غیر قدرتی درختوں کا غلاف 170 ہیکٹر

دیگر زمینی غلاف 76 ہزار ہیکٹر

سال1976 سے 2016 پر محیط تحقیق

ریسرچ گیٹ پر شائع تحقیق جس کا موضوع ’’اسلام آباد کی شہری منظر کی ماحولیاتی حرکیات کی نگرانی: چار دہائیوں (1976-2016) کا جائزہ‘‘کے مطابق

سال1976  سے 2016 پر محیط سائنسی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ شہری آبادیاں 3.31 فیصد سے بڑھ کر 18.80 فیصد ہو گئیں۔ جبکہ بڑے جنگلات مسلسل کم اور تقسیم ہوتے گئے۔


اس تحقیق میں 1976، 1990، 2000، 2010 اور 2016 کے لیے سیٹلائٹ تصاویر استعمال کر کے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں زمینی غلاف پرہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق آبادی اور آبادیاں مسلسل بڑھتی رہیں، اور 2000 سے 2010 کے دوران سب سے زیادہ سالانہ اضافہ 8.79 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

اسی عرصے میں 40 فیصد سے زیادہ چھتری والے جنگلات میں 1976 سے 2016 کے دوران سالانہ 0.81 فیصد کمی، جبکہ 40 فیصد سے کم چھتری والے جنگلات میں سالانہ 0.77 فیصد کمی دیکھی گئی۔

جنگلاتی تقسیم کے تجزیے

جنگلاتی تقسیم کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ 500 ایکڑ سے بڑے کور جنگلات 1976 میں 65.41 فیصد تھے۔ جو 2016 میں کم ہو کر 40.29 فیصد رہ گئے۔

اس کے برعکس پیچ جنگلات 1976 میں2.46 فیصد سے بڑھ کر 2016 میں4.54 فیصد ہو گئے۔

پرفوریٹڈ جنگلات 1976 میں 35.21 کلومیٹرتھے، 2000 میں بڑھ کر 41.79 کلومیٹر ہوئے۔ تاہم 2016 میں کم ہو کر 22.74 کلومیٹر رہ گئے۔

جبکہ ایج  جنگلات میں 1976 سے 2000 تک معمولی اضافہ اور 2016 میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

زمینی غلاف میں مجموعی تبدیلی کے مطابق آبادیاں 3.31 فیصد سے بڑھ 18.80 فیصد ہو گئیں۔ 40 فیصد سے زیادہ درختی چھتری 182.87 کلومیٹر سے کم ہو کر 132.27 کلومیٹر رہ گئی۔ جبکہ 40 فیصد سے کم درختی چھتری 417.03 کلومیٹر سے گھٹ کر 306.53 کلومیٹر ہو گئی۔

مٹی اور پانی کے رقبے میں پورے عرصے کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ تاہم کوئی نمایاں مستقل تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

مجموعی طور پر تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ 1976 سے 2016 کے دوران اسلام آباد میں شہری پھیلاؤ تیزی سے بڑھا۔

جنگلاتی رقبہ مسلسل کم اور تقسیم شدہ ہوتا گیا۔ بڑے جنگلاتی بلاکس ٹوٹ کر چھوٹے حصوں میں تبدیل ہو گئے۔

جس کےنتیجے میں ماحولیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی خدمات شدید متاثر ہوئیں۔

اسلام آباد کے جنگلات کی صورت حال اور پیپر ملبری کی کٹائی کا معاملہ

اسلام آباد کے جنگلات کی صورت حال اور پیپر ملبری کی کٹائی کے حوالے سے ماہرین صفوان شہاب، ڈاکٹر اعجاز، ڈاکٹر پرویز امیر اور ڈاکٹر نعیم پرویز اس بات پر متفق ہیں کہ پیپر ملبری ایک غیر مقامی درخت ہے۔

مگر اس کی کٹائی مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں اور فوری متبادل شجرکاری کے بغیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق 29,115 پیپر ملبری درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اور 40,000 سے زائد مقامی درخت لگائے گئے ہیں۔ جن کی سروائیول ریٹ 90 فیصد بتائی جاتی ہے۔ ن

نتیجتاً ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی بقا درختوں کے دانشمندانہ تحفظ اور سائنسی منصوبہ بندی میں ہے، نہ کہ محض کٹائی یا نمائشی شجرکاری میں

سی ڈی اے کا مؤقف

اس حوالے سے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں پیپر ملبری درختوں کی کٹائی کسی اچانک یا غیر منصوبہ بند اقدام کا نتیجہ نہیں۔

بلکہ یہ عمل سپریم کورٹ کے فیصلوں اور وزیراعظم کی ہدایات کے تحت ایک طے شدہ ماحولیاتی پالیسی کے طور پر لیا گیا۔

سی ڈی اے کے مطابق پیپر ملبری ایک غیر مقامی اور صحت کے لیے مضر درخت ہے۔ جس کا پولن شہری آبادی میں الرجی اور سانس کی بیماریوں کا ایک بڑا سبب بنتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک 29,115 پیپر ملبری درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ 40,000 سے زائد مقامی اور ماحول دوست درخت لگائے گئے ہیں۔ جن میں بڑے سائز کے پودے شامل ہیں۔ جن کی سروائیول ریٹ تقریباً 90 فیصد بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سیلاب اور قیمتی سانپ کیا پاکستان کی وائلڈ لائف ریسکیو کے لیے تیار ہے؟

قدرت اور جنگلی حیات کو اسمگلنگ سے خطرہ لاحق اپنی پہچان کھو رہا ہے؟

اسلام آباد میں سکڑتی سردی: کیا دارالحکومت اپنی پہچان کھو رہا ہے؟

سی ڈی اے اس پورے عمل کو ایک منصوبہ بند ماحولیاتی اصلاح قرار دیتا ہے۔ جس کا مقصد شہری صحت، مقامی حیاتیاتی تنوع اور طویل مدتی ماحولیاتی توازن کی بحالی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کی رائے

تاہم ماہرینِ ماحولیات سی ڈی اے کے اس مؤقف سے جزوی اتفاق کرتے ہیں۔ اور اس پر اہم سائنسی تحفظات بھی پیش کرتے ہیں۔

دو دہائیوں سے زائد ماحولیات کے شعبے سے وابستہ ماہر ماحولیات صفوان شہاب کے مطابق پیپر ملبری واقعی ایک مضر یا حملہ آور انواع ہے۔ اور گزشتہ تیس برس سے اس کو مرحلہ وار ختم کرنے کی سفارش کی جاتی رہی ہے۔

مگر مسئلہ کٹائی نہیں بلکہ بغیر منصوبہ بندی اور بغیر فوری متبادل کے کٹائی ہے۔

ان کے مطابق اگر پیپر ملبری کی جگہ فوری طور پر بڑے سائز کے مقامی درخت نہ لگائے جائیں۔ تو پرندوں کی نیسٹنگ، فیڈنگ اور روسٹنگ سائٹس ختم ہو جاتی ہیں۔

جس سے شہری ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی علاقے کو ایک سال یا اس سے زائد عرصے کے لیے خالی چھوڑ دیا جائے۔ تو ایسی کٹائی پر تنقید سائنسی طور پر جائز ہے۔

ڈاکٹر اعجاز کی رائے

اسی تناظر میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور انسٹیٹیوٹ آف اربنزم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر اعجاز وضاحت کرتے ہیں۔ کہ پیپر ملبری کو 1960 کے بعد اسلام آباد میں متعارف کرایا گیا۔

اور ایک وقت میں یہ شہر کے 60 سے 70 فیصد درختوں پر مشتمل ہو گیا۔ جس کے باعث مقامی اقسام کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔

 ان کے مطابق شہری علاقوں میں اس درخت کی شرح 70–75 فیصد تک رہی ۔جبکہ دیہی علاقوں میں نسبتاً کم رہی۔

ڈاکٹر اعجاز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ پیپر ملبری کچھ صنعتی فوائد رکھتا ہے۔

مگر اس کے ماحولیاتی اور صحت کے نقصانات خصوصاً پولن الرجی اس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور مقامی درخت جیسے کچنار اور چیڑ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ مالی اعتبار سے بھی زیادہ مؤثر ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ پودا چین سے یہاں لایا گیا تھا اور شہریوں میں اس سے ہونی والی الرجی کی قوت مدافعت نہیں تھی۔

پولن سے متاثرہ خاتون

پولن الرجی (Pollen Allergy) پیپر ملبری کا سب سے سنگین مسئلہ ہے، جو شہر میں بسنے والے افراد کو شدید اثر انداز کرتا ہے۔

اسلام آباد میں  طویل عرصے سے رہائش پذیر ایک خاتون کا سالانہ تجربہ یہ بتاتا ہے۔ کہ ہر موسمِ بہار میں پولن الرجی کے حملے شدت اختیار کر لیتے ہیں۔

آسیہ(فرضی نام) جو ایک گھریلو خاتون ہیں کے مطابق

ہر برس بہار کے ماہ میں انہیں پولن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اکثر دوا کے بغیر آرام نہیں آتا۔

ان کی آنکھوں میں جلن، نزلہ اور سانس کی مشکلات روز کا معمول بن جاتی ہیں۔ اور اب بچے بھی اس سے تھوڑا بہت متاثر ہو رہے ہیں۔

ایک خاندان کے سربراہ، جو ایک نجی ملازم ہیں، کہتے ہیں کہ

یہ مشکل وقت ہوتا ہے۔ جب موسمِ بہار آتا ہے۔ اور ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا شہر سبز نہیں، بلکہ پولن کی سرسبزی سے بھرپور ہو چکا ہے جس سے ہمارے بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پولن کے نقصانات کے حوالے سے 2013 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی تھی جس کا موضوع’’پیپر ملبری کے معاشی اور ماحولیاتی اخراجات و فوائد: اسلام آباد کا ایک کیس اسٹڈی تھا‘‘۔

اس تحقیق کے مطابق اسلام آباد میں 1960 کی دہائی کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ اس درخت کی شاخیں اور پتوں کا پولن ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے، جو لوگوں میں شدید الرجی کا سبب بنتا ہے۔ پیپر ملبری کے فوائد سے زیادہ اس کے ماحولیاتی اور صحت پر منفی اثرات واضح ہیں۔

بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے اثرات

بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے اثرات کے حوالے سے سینئر ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز امیر اس بحث میں ایک اور اہم سائنسی پہلو شامل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق کسی بھی درخت کی اچانک اور بڑے پیمانے پر کٹائی درجہ حرارت میں 4 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے اور بارشوں میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

خاص طور پر ایسے شہر میں جہاں پہلے ہی جنگلاتی تقسیم بڑھ چکی ہو۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پیپر ملبری کو ختم کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔

مگر یہ عمل مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں پر، سیٹلائٹ ڈیٹا، اور عوامی شمولیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق اصل مسئلہ درخت لگانا نہیں بلکہ ان کی بقا اور دیکھ بھال ہے، جس میں پاکستان مجموعی طور پر کمزور رہا ہے۔

ڈاکٹر نعیم پرویز کی رائے

ادھر30 سالہ تجربہ رکھنے والے ماہر ماحولیات ڈاکٹر نعیم پرویز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد ابتدا میں اتنا سرسبز نہیں تھا۔ جتنا آج دکھائی دیتا ہے۔

بلکہ یہ سبزہ بڑی حد تک سی ڈی اے اور فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کی ماضی کی شجرکاری کا نتیجہ ہے۔ تاہم بعد ازاں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، ہاؤسنگ سوسائٹیز، سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی توسیع نے اس سبزے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔

ان کے مطابق اگرچہ شجرکاری مکمل طور پر رکی نہیں۔ مگر شہری پھیلاؤ کے مقابلے میں اس کی رفتار ناکافی رہی۔

وہ مستقبل میں الیکٹرک بسوں اور الیکٹرک گاڑیوں کو فضائی آلودگی کم کرنے کی ایک مثبت سمت قرار دیتے ہیں۔ مگر جنگلات کے بغیر یہ اقدامات ناکافی ہوں گے۔

سی ڈی اے کا مؤقف انتظامی اور قانونی بنیادوں پر مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پیپر ملبری ایک ماحولیاتی مسئلہ ہے۔

تاہم ڈیٹا، سائنسی تحقیق (1976–2016) اورگلوبل فاریسٹ واچ کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اسلام آباد پہلے ہی جنگلاتی کمی اور شدید تقسیم کا شکار ہے۔

ایسے میں اگر کٹائی متبادل، نگرانی اور شفافیت کے بغیر کی جائے تو یہ ماحولیاتی بحالی کے بجائے مزید نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

’’اسلام آباد کی حالیہ سیٹلائٹ امیج شہری پھیلاؤ، سبزہ میں کمی اور ماحولیاتی توازن کے بگاڑ کی ایک ہولناک مگر ناقابلِ تردید تصویر پیش کرتی ہے ایسی تصویر جو شہر کی بقا اور مستقبل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے‘‘۔

admin

Recent Posts

کنراج میں صاف پانی کا بحران

کنراج میں صاف پانی کا بحران انسانی صحت، تعلیم اور بقا کے لیے سنگین خطرہ…

2 days ago

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…

3 days ago

سندھ طاس معاہدہ، پاکستان اور پانی کا بحران

سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…

4 days ago

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی رپورٹ کا سنگین انتباہ

پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…

5 days ago

کراچی میں سردی کی شدت برقرار، درجہ حرارت 9 ڈگری تک گر گیا

کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…

5 days ago

ایمازون کی مچھلی پاکستان تک کیسے پہنچی؟

ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…

6 days ago

This website uses cookies.