War’s Second Front: Military Emissions, Arms Industry and the Global Climate Crisis
فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت دو بڑے بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور مسلح تنازعات۔ مگر ان دونوں کے باہمی تعلق پر عالمی سطح پر محدود بحث ہوتی ہے۔
جنگ صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتی۔ یہ ماحولیاتی تباہی بھی لاتی ہے۔ جدید تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ عسکری سرگرمیاں کاربن اخراج، زمینی آلودگی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور آبی نظام کی خرابی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
کیوٹو پروٹوکول 1997 کے مذاکرات میں عسکری اخراج کو بڑی حد تک لازمی رپورٹنگ سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ بعد ازاں پیرس معاہدے میں ممالک کو خود اختیاری بنیادوں پر اخراج رپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی۔ نتیجتاً فوجی شعبہ آج بھی مکمل شفاف نگرانی سے باہر ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار پراجیکٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع دنیا کے بڑے کاربن اخراج کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018 سے 2021 کے درمیان امریکی فوجی شعبے نے تقریباً 1.2 ارب میٹرک ٹن گرین ہاؤس گیسز خارج کیں۔
تحقیقی جریدے نیچر میں شائع تجزیات کے مطابق عالمی عسکری شعبہ مجموعی کاربن اخراج کا قابل ذکر حصہ پیدا کرتا ہے، مگر مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں۔
سائنٹسٹس فار گلوبل ریسپانسبلٹی کی 2022 رپورٹ کے مطابق عالمی فوجی شعبہ تقریباً 5.5 فیصد تک عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا ذمہ دار ہو سکتا ہے، بالواسطہ اثرات سمیت۔ اگر عسکری اخراج کو ایک علیحدہ ملک سمجھا جائے تو وہ دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کے برابر کھڑا ہو سکتا ہے۔
یوکرائن اور روس کے درمیان جاری جنگ کے ماحولیاتی اثرات پر متعدد رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یعنی یو این ای پی کی 2023 اسسمنٹ رپورٹ کے مطابق صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے بھاری دھاتیں اور زہریلے کیمیکل مٹی اور پانی میں شامل ہوئے۔
تیل کے ذخائر اور گیس انفراسٹرکچر پر حملوں سے فضائی آلودگی بڑھی۔ جنگلاتی آگ اور بارودی سرنگوں نے زرعی زمین کو طویل مدت کے لیے متاثر کیا۔
جریدہ انوائرنمینٹل پولوشن میں شائع 2023 کے ایک مطالعے کے مطابق جنگی دھماکوں سے خارج ہونے والے دھاتی ذرات زیر زمین پانی تک پہنچ سکتے ہیں۔ دی لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ نے جنگ کو صحت اور ماحول کے مشترکہ بحران کے طور پر بیان کیا ہے۔ اسی طرح انوائرنمنٹل ریسرچ میں شائع تحقیق کے مطابق عسکری سرگرمیاں عالمی کاربن بجٹ کو متاثر کرتی ہیں۔
غزہ میں جاری تنازع کے ماحولیاتی اثرات پر بھی عالمی اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور یو این ای پی کے ابتدائی جائزوں کے مطابق تباہ شدہ عمارات کے ملبے میں ایسبیسٹس، سیمنٹ ڈسٹ اور بھاری دھاتیں شامل ہیں۔
سیوریج نظام کی تباہی سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ زیر زمین پانی پہلے ہی نمکیات اور آلودگی کا شکار تھا، جو مزید خراب ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی رپورٹس شہری انفراسٹرکچر کی تباہی کو صحت اور ماحول کے دوہرے بحران سے جوڑتی ہیں۔
کنونشن آن بایولوجیکل ڈائیورسٹی کی تکنیکی رپورٹس تسلیم کرتی ہیں کہ مسلح تنازعات حیاتیاتی تنوع کے اہداف کو متاثر کرتے ہیں۔ میانمار میں جاری تنازعات کے دوران غیر قانونی جنگلاتی کٹائی پر گلوبل وٹنس کی رپورٹس موجود ہیں۔
جریدہ کنزرویشن بایولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جنگی علاقوں میں جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار بڑھتا ہے۔ محفوظ قدرتی علاقوں کی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے۔ طویل مدتی حیاتیاتی نقصان جنم لیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین یعنی یو این ایچ سی آر کی 2024 گلوبل ٹرینڈز رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جبری بے دخلی کی تعداد 110 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔
جریدہ گلوبل انوائرنمینٹل چینج کے مطابق پناہ گزین کیمپوں کے قیام سے مقامی پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔ جنگلات ایندھن کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ فضلہ کے انتظام کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یوں جنگ کے ماحولیاتی اثرات میزبان ممالک تک پھیل جاتے ہیں۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی یعنی آئی پی سی سی کی حالیہ اسسمنٹ رپورٹس میں امن، گورننس اور ماحولیاتی استحکام کے تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر عسکری اخراج کی علیحدہ اور تفصیلی درجہ بندی محدود ہے۔
اہم سوالات اب بھی باقی ہیں۔ کیا اسلحہ ساز صنعتوں کو کاربن ذمہ داری میں شامل کیا جائے گا؟ کیا جنگی نقصانات کے لیے ماحولیاتی معاوضہ طے ہوگا؟ کیا عسکری اخراج کو لازمی رپورٹنگ کا حصہ بنایا جائے گا؟
سائنسی جرنلز، اقوام متحدہ کی رپورٹس اور تحقیقی اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جنگ ماحولیاتی تباہی کا طاقتور ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف بحران: پاکستان کے لیے سنجیدہ انتباہ
بدلتا موسم، بدلتے کھیل: موسمیاتی تبدیلی سے اسپورٹس کو سنگین خطرات
جب دنیا 1.5 ڈگری ہدف کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، عسکری شعبہ بڑی حد تک شفاف احتساب سے باہر ہے۔ اگر موسمیاتی مذاکرات میں جنگی اخراج اور اسلحہ سازی کو شامل نہ کیا گیا تو عالمی اہداف ادھورے رہ جائیں گے۔
زمین کے خلاف یہ خاموش جنگ اب دستاویزی شواہد کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔
عالمی یومِ جنگلی حیات یاد دلاتا ہے کہ ادویاتی پودوں کا تحفظ پائیدار ترقی اور…
زمین کے چھن جانے کا خوف صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ماحولیاتی، معاشی اور اخلاقی…
بدلتا موسم، بدلتی حکمتِ عملی: عالمی اسپورٹس اداروں کی میچ ٹائم، وقفوں اور ہیٹ پروٹوکول…
گلگت میں اسمگلرز کو 10 لاکھ جرمانہ اور 6 ماہ قید، جنگلات کا تحفظ قومی…
ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف…
امریکی برفانی طوفان صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ…
This website uses cookies.