جنگوں میں انسانی جانوں کے ساتھ زمین، پانی اور فضا بھی متاثرہو رہی ہیں، جنگی صنعتیں دنیا میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
اداریہ
دنیا ابھی غزہ کی ہولناک جنگ کے زخموں سے سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ ایک اور جنگ نے عالمی ضمیر کو پھر سے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ یہ انسانیت، معیشت اور زمین کے مستقبل کے خلاف بھی لڑی جانے والی لڑائیاں ہوتی ہیں۔
بدقسمتی سے طاقت کی سیاست میں یہی حقیقت سب سے پہلے نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
جنگ جب شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے انسانی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ شہر ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ معیشتیں دہائیوں پیچھے چلی جاتی ہیں۔
لیکن اس تباہی کی ایک اور شکل بھی ہے جسے عالمی سیاست دان اور میڈیا اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ ہے ماحولیاتی تباہی۔
جدید جنگیں اور ماحولیاتی آلودگی
آج کی جنگیں صرف بارود اور گولیوں تک محدود نہیں رہیں۔ میزائلوں، ٹینکوں، جنگی طیاروں اور بھاری عسکری مشینری کے استعمال سے فضا میں کاربن اور زہریلی گیسوں کی بڑی مقدار خارج ہوتی ہے۔
جنگی صنعتیں پہلے ہی دنیا کی بڑی آلودگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ اندازوں کے مطابق عالمی فوجی سرگرمیاں ہر سال اربوں ٹن کاربن کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف جنگیں اس کوشش کو کمزور کر رہی ہوتی ہیں۔
زمین، پانی اور فضا پر اثرات
جنگی بمباری صرف انسانوں کو نہیں مارتی بلکہ زمین، پانی اور فضا کو بھی زہر آلود کر دیتی ہے۔
جنگی علاقوں میں مٹی میں بھاری دھاتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ پانی کے ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں۔ جنگلات جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
جنگ کا دوسرا محاذ: کاربن اخراج، اسلحہ سازی اور ماحولیاتی دیوالیہ پن کا عالمی بحران
کچرا اور طاقت، پیسے اور ناانصافی کا عالمی نیٹ ورک
جنگوں کی بنا پر کئی دہائیوں بعد بھی ان علاقوں کی زمین اور ماحول مکمل طور پر صحت مند نہیں ہو پاتے۔ یوں جنگ دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل پر حملہ ہوتی ہے۔
عالمی تنازعات اور ماحول
یہ مسئلہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔ مشرق وسطیٰ، یوکرین، افریقہ اور دیگر تنازعات زدہ علاقوں میں جنگوں نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس نقصان کا ازالہ شاید صدیوں میں بھی ممکن نہ ہو۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی ماحولیاتی مذاکرات میں جنگ کے ماحولیاتی اثرات پر سنجیدہ گفتگو شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ موسمیاتی کانفرنسوں میں کاربن اخراج کے اہداف طے کیے جاتے ہیں، مگر جنگی مشینری کے اخراج اور تباہی پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔
طاقت کی سیاست اور تضاد
یہ خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کا نتیجہ ہے۔
دنیا کے وہ بڑے ممالک جو موسمیاتی قیادت کے دعوے کرتے ہیں، وہی سب سے بڑے اسلحہ ساز اور اسلحہ برآمد کرنے والے بھی ہیں۔
یہ تضاد عالمی ماحولیات کی سیاست کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک طرف زمین کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کی بات کی جاتی ہے۔ دوسری طرف جنگی معیشت کو فروغ دیا جاتا ہے۔
موسمیاتی بحران کے دور میں جنگ
آج زمین ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی بحران پہلے ہی انسانی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
درجہ حرارت میں اضافہ، شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب اور خشک سالی واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ قدرتی نظام اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔
اس کے باوجود دنیا کا بڑا حصہ جنگوں کا آغاز کرنے اور جنگی تیاریوں اور طاقت کے کھیل میں مصروف ہے۔
یہ رویہ دراصل کرہ ارض کے خلاف ایک خاموش جنگ ہے۔ ایسی جنگ جس میں کوئی واضح محاذ نہیں، مگر اس کے اثرات پوری انسانیت کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماحولیات صرف سائنسی نہیں، سیاسی مسئلہ بھی
فروزاں کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی بحران کو صرف سائنسی یا تکنیکی مسئلہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔
یہ دراصل ایک سیاسی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔ جب تک دنیا جنگی معیشت اور طاقت کے موجودہ تصورات کو چیلنج نہیں کرے گی، تب تک ماحول کو بچانے کی کوششیں ادھوری رہیں گی۔
امن ہی زمین کا تحفظ
وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ جنگ اور ماحولیات ایک دوسرے سے الگ نہیں۔
امن صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے۔
اگر دنیا واقعی موسمیاتی تباہی سے بچنا چاہتی ہے تو اسے جنگی سیاست کے بجائے امن، تعاون اور مشترکہ بقا کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔
ورنہ آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور پوچھیں گی کہ جب زمین جل رہی تھی تو دنیا کے طاقتور لوگ کس جنگ میں مصروف تھے۔
