یہ ڈائیو صرف نیٹ نکالنے کی نہیں، بلکہ سمندر کو زندگی لوٹانے کی جدوجہد ہے
سید خرم جمال (اسکوبا ڈائیور)
حالیہ دنوں میں تجربہ کار ڈائیورز کامران اللہ والا اور طارق شیخ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جزیرہ استولا (ہفت تلار) کے جرمن ریک پر ایک نہایت اہم کنزرویشن ڈائیو انجام دی، جس کے دوران ایک خطرناک گھوسٹ فشنگ نیٹ کو نکالا گیا جو سمندری حیات کے لیے شدید خطرہ بن چکی تھی۔
واضح رہے کہ جزیرہ استولا (ہفت تلار)، جو پاکستان کا سب سے بڑا آف شور جزیرہ ہے، اپنی منفرد سمندری حیات اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کئی پوشیدہ خطرات بھی رکھتا ہے۔
یہ ڈائیو بہترین حالات میں کی گئی، جہاں پانی کی شفافیت تقریباً 40 فٹ تک تھی۔ گھوسٹ نیٹس جہاز کے ڈھانچے کے ساتھ 16 سے 40 فٹ کی گہرائی میں پھنسی ہوئی تھیں۔
ڈائیو کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 48 فٹ رہی جبکہ کل دورانیہ 50 منٹ تھا۔اندازاً 15 سے 17 کلوگرام وزنی نیٹ پتھروں اور ملبے کے نیچے دبی ہوئی تھی، جس میں سے تقریباً 10 کلوگرام نیٹ کامیابی سے نکال لی گئی۔
گھوسٹ نیٹس ماہی گیری کا وہ سامان ہوتا ہے جو سمندر میں گم ہو جاتا ہے مگر برسوں تک مچھلیوں، کچھوؤں اور دیگر جانداروں کو پھنسا کر نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔
اس ڈائیو کے دوران مچھلیوں کے ڈھانچے (اسکیلیٹنس) بھی دیکھے گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ نیٹ ایک فعال اور مسلسل نقصان دہ خطرہ بن چکی ہے۔
نیٹ کاٹنے کے دوران ڈائیورز کے خود الجھ جانے کا شدید خدشہ موجود تھا۔ اسی وجہ سے صرف دو تجربہ کار ڈائیورز کامران اللہ والا اور طارق شیخ نے براہِ راست نیٹ نکالنے کا کام انجام دیا۔ دونوں ڈائیورز ایک دوسرے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے اور مکمل حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تھیں۔
یہ جگہ مقامی طور پر“جرمن ریک”کے نام سے مشہور ہے ۔ جرمن ریک کی وجہ شہرت، کئی سال قبل اسی ریک پر کی جانے والی ڈائیونگز کے دوران ایک لاؤنج چیئر کا دریافت ہونا ہے جس پر جرمن زبان میں تحریر موجود تھی۔
اسی دریافت کیے نتیجے میں ڈائیونگ کمیونٹی نے اس مقام کو جرمن ریک کہنا شروع کیا، اور یہ نام آج تک رائج ہے۔ تاہم اس جہاز کی اصل شناخت اور تاریخ اب تک دستاویزی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
کامران اللہ والا کے مطابق، گھوسٹ نیٹس کا مسئلہ صرف جزیرہ استولا (ہفت تلار) تک محدود نہیں۔ پورٹ قاسم کے قریب واقع ایک اور ریک، جسے ڈائیورز”ساؤتھ ریک“کہتے ہیں اور جو تقریباً 90 فٹ گہرا ہے، وہاں بھی بڑی مقدار میں نیٹس موجود دپائی گئی ہیں، جن میں مچھلیاں اور کچھوے پھنسے ہوئے پائے گئے۔
اس وقت جزیرہ استولا (ہفت تلار) کوسٹ گارڈز کی سخت نگرانی میں ہے، اور حالیہ ہفتوں میں وہاں خیمے لگانے اور کیمپنگ پر پابندی عائد کی گئی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم اس کے باوجود پلاسٹک آلودگی اور فشنگ ڈیبرس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی اور عوامی شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے۔
گھوسٹ نیٹس کی صفائی ایک خطرناک، رضاکارانہ اور اکثر نظر نہ آنے والا کام ہے، مگر سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ کاوش اس بات کی عملی مثال ہے کہ ذمہ دار ڈائیونگ کس طرح سمندری حیات کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
کیا دنیا ماحولیاتی بحران روک پائے گی؟
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان: اقوام متحدہ اور آبی بحران
ورٹیکل فارمنگ: پاکستان کے شہروں میں سبز انقلاب
کامران اللہ والا کے مطابق ”گھوسٹ نیٹس خاموش قاتل ہیں۔ جو نقصان پانی کے نیچے ہوتا ہے، وہ نظر نہیں آتا مگر ہر دن بڑھتا رہتا ہے“ ۔
یہ تحریر اجازت کے ساتھ صرف ماحولیاتی آگاہی اور تعلیمی مقاصد کے لیے شائع کی جا رہی ہے
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.