مائرہ ممتاز (سی اے سی)
کراچی، ایک شہر جو نہ ڈوبنے کو تیار ہے، نہ جلنے کو، نہ بیچے جانے کو، 2025 میں مظلومیت کی علامت کے بجائے مزاحمت اور عوامی عزم کی نمائندگی کر رہا ہے۔
یہ شہر کسی وقتی موسمیاتی’’ہنگامی صورتحال‘‘کا شکار نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی،ماحولیاتی اورموسمیاتی حملے کی زد میں ہے۔
ساحلی پٹی پر قبضہ،ختم ہوتیدریا، زہر آلود فضا، زمین کا عسکری و کمرشل استعمال اور آبادیوں کی بے دخلی یہ واضح کرتے ہیں کہ یہاں پیش آنے والے سیلاب، شدید گرمی اور بیماریوں کے اثرات قدرتی آفات نہیں بلکہ فوسل سرمایہ داری، نوآبادیاتی لوٹ مار اور ریاستی و کارپوریٹ گٹھ جوڑ کے مظاہر ہیں۔
یہ سچائی کلائمیٹ امپیریلزم کے حقیقی چہرے کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان عالمی اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے، مگر سب سے زیادہ نقصان اسی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
گلوبل نارتھ کے مسلط کردہ قرضوں کے بوجھ کے تحت عوام وہ بحران سہہ رہے ہیں جس کی پیداوار میں وہ شریک نہیں۔
سیلاب، بے دخلی، بھوک اور شدید گرمی حادثات نہیں بلکہ نوآبادیاتی استحصال، کارپوریٹ لالچ اور ترقیاتی ماڈل کے وہ نتائج ہیں جو زمین، پانی اور انسان کو صرف قابلِ استعمال شے سمجھتا ہے۔
عالمی طاقتیں نہ صرف ایکوسائیڈ میں ملوث ہیں بلکہ فلسطین میں نسل کشی کی صورت میں بھی یہ مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کلائمیٹ مارچ 2025 اسی پس منظر میں ایک مضبوط آواز کے طور پر سامنے آیا۔
یاسر حسین، ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر کا مارچ کے حوالے سے کہنا ہے کہ، کلائمیٹ مارچ 2025 ایک اہم سالانہ ماحولیاتی سرگرمی ہے جس میں شہر اور اس کی کمیونٹیز کی نظر کوانداز کرنے کے خلاف عوام کی آواز کو بلند اور واضح انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ان کامزید کہنا تھا کہ اس سال کمیونٹی لیڈرز، شہری، ماہی گیر، مزدور یونینز، کسان گروپس، طلبہ اور نوجوانوں نے حصہ لیا اور جامع و مؤثر ماحولیاتی کارروائی کا مطالبہ کیا، تمام لوگ اس میں شامل تھے چاہے شہری سیلاب کی زد میں ہو یا شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہوں۔
اس کا مطلب ہے سبز توانائی، برقی نقل و حمل، اور جدید نکاسی آب اور کوڑا کرکٹ کے نظام میں پائیدار ماحولیاتی نظام کے خواہاں۔
!اسی لیے ہم مارچ کرتے ہیں
مارچ کے مطالبات واضح اور غیر متزلزل ہیں کہ تمام غیر ملکی قرضے منسوخ کیے جائیں اور گلوبل نارتھ سے موسمیاتی زرِ تلافی حاصل کی جائے،قرض نہیں، خیرات نہیں، بلکہ نقصان، تباہی اور چرائے گئے مستقبل کا معاوضہ دیا جائے اور انصاف میں تاخیر موسمیاتی تشدد کے مترادف ہے۔
گذشتہ سالوں میں سیلاب میں بہہ جانے والے خاندان، گجر نالہ، اورنگی نالہ، ملیر، مجاہد اور واحد کالونیوں میں مٹائی گئی بستیاں، جانوں کے ضیاع، روزگار کی تباہی اور گھروں کی مسماری پر فوری اور منصفانہ معاوضے، کرایہ سپورٹ، محفوظ متبادل رہائش اور طویل المدتی بحالی لازمی ہیں تاکہ متاثرین باعزت زندگی گزار سکیں۔
آفات سے نمٹنے کے نظام میں کرپشن اور نااہلی کی گرفت واضح ہے۔ این ڈی ایم اے جیسے اداروں کو مکمل طور پر سول ماہرین کے ماتحت اور شفاف عوامی نگرانی میں لایا جانا چاہیے۔
ماحولیاتی تباہی جرم ہے اور اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا ہوگا۔عدالتی نظام اور حکومت سے انصاف اور ریلیف کی امید رکھی گئی تھی، مگر حالیہ آئینی ترامیم کے بعد نظام خود انتشار کا شکار ہے۔
بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب اور دنیا بھر کے مظلوم لوگوں کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور جب وہ انصاف اور محفوظ و صحت مند ماحول کا حق مانگتے ہیں تو ان کی آواز دبائی جاتی ہے۔
مارچ میں کراچی کی ترقی کے نام پر ہونے والی ایکوسائیڈ کے خاتمے کے لیے، پورٹ قاسم میں کوئلے کے منصوبے، تھر کوئلہ، ملیر ایکسپریس وے، غیر قانونی بحریہ ٹاؤن تعمیرات، زمین کی بھرائی اور تباہ کن ساحلی منصوبے مسترد کیے گئے۔
مقررین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمار اورڈی ایچ اے کی توسیع بند ہونی چاہیے، دریاؤں کو بحال کیا جائے۔
زرعی زمین محفوظ بنائی جائے، سندھ ڈیلٹا کو نیچر ریزرو قرار دیا جائے اور مینگرووز کو پہلی حفاظتی دیوار کے طور پر بچایا جائے۔
منصفانہ منتقلی (جسٹ ٹرانزیشن) کے لیے سستی قابلِ تجدید توانائی، فوسل فیول کا تیز رفتار خاتمہ، فوری 50 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف، پبلک ٹرانسپورٹ، صاف توانائی کی صنعت، الیکٹرک گاڑیاں اور ای بائیکس میں سرمایہ کاری لازمی ہے۔
وژن ایک کار فری کراچی کا ہے، جہاں صاف ہوا، بجلی اور پانی سب کے بنیادی حقوق ہوں۔
غذائی خودمختاری کے لیے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کی زرعی ماحولیات پر مبنی حمایت، مقامی بیج بینکوں کا تحفظ، جی ایم او اور کیمیائی زراعت کا خاتمہ، روایتی ڈیری نظام کو مضبوط کرنا، سرکاری نامیاتی فوڈ مارکیٹس کا قیام، اور زمین کی منصفانہ و مساوی تقسیم لازمی ہیں۔
ماحولیاتی بحران میں ملوث کارپوریشنز کو بے نقاب کرنا، بائیکاٹ کرنا، انہیں ادائیگی پر مجبور کرنا، سنگل یوز اور پٹرولیم بیسڈ پلاسٹک پر پابندی، 100 فیصدری سائیکلنگ نافذ کرنا اور متبادل اشیاء کو سبسڈی دینا ضروری ہے۔
خواتین، خواجہ سرا، بچے، معذور افراد، طلبہ، مزدور، ماہی گیر اور حاشیے پر موجود برادریوں کو ریلیف، تحفظ اور طویل المدتی بحالی میں مرکزی حیثیت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں
فلم آئٹم :کیا خواتین کی ہراسانی کے خلاف ایک مضبوط آواز ہے؟
پاکستان اور برطانیہ کا گرین کمپیکٹ: 35 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ
فی کس قابلِ تجدید پانی میں 7٪ کمی: آبی بحران کی وارننگ
سب سے بڑھ کریہ کہ، زندگی کے لیے جدوجہد جاری ہے،سیلاب، گرمی، بھوک، بے دخلی اور زہر کے خوف کے بغیر جینے کا حق، صحت مند ماحول، دریاؤں، مینگرووز، ڈیلٹاز اور سمندروں کے تحفظ کا حق ملنے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
کراچی قربانی کا میدان نہیں، زندگیاں ضمنی نقصان نہیں، مستقبل فروخت کے لیے نہیں۔
کلائمیٹ جسٹس ناؤ! سب کو جینے دو!۔۔۔
!اس سال کا تھیم: جینے دو!۔۔۔کراچی کو صاف کرو!۔۔۔سندھ ڈیلٹا کو بہنے دو
محکمہ جنگلی حیات ہر سال ایسے جنگلی جانوروں کی ٹرافی ہنٹنگ کا لائسنس جاری کرتا…
سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کا پانی کا بحران اقوام متحدہ کے اصولوں، انسانی حقِ…
پاکستان پانی بحران کے دہانے پر: اے ڈی بی کی اے ڈبلیو ڈی او-2025 رپورٹ…
کراچی کا موسم اور فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، سرد اور خشک موسم…
ایمازون کی مچھلی پاکستان کے آبی نظام اور ماہی گیروں کے روزگار کے لیے خاموش…
پاکستان اور فلپائن کے کسان فوسل فیول اخراج کنندگان کے خلاف عدالتوں میں۔ یہ موسمیاتی…
This website uses cookies.