فروزاں فروزاں کے مضامین

کنراج میں صاف پانی کا بحران

Women and children carrying water containers across rocky mountain paths in Kunraj, Balochistan due to clean water shortage

کنراج میں صاف پانی کا بحران انسانی صحت، تعلیم اور بقا کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، جہاں پیاس پسماندگی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

Women and children carrying water containers across rocky mountain paths in Kunraj, Balochistan due to clean water shortage

میں ایک پہاڑی گاؤں میں رات گزار رہا تھا۔ گاؤں کے ایک دوست کی بیٹھک میں سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی رات کٹی۔

صبح آنکھ کھلی تو کھڑکی سے باہر جھانکا سورج ابھی پہاڑوں کے پیچھے تھا، مگر گاؤں پہلے ہی جاگ چکا تھا۔

یہ جاگنا زندگی کی روانی کے لیے نہیں، بقا کی تلاش کے لیے تھا۔ بچے کمزور کندھوں پر برتن اٹھائے خاموشی سے چل رہے تھے، عورتیں سر پر ڈبے سنبھالے پتھریلے راستوں پر قدم رکھ رہی تھیں، اور بوڑھے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اسی سفر پر نکلے ہوئے تھے۔

کوئی گدھے پر خالی ڈبے لادے دور جا رہا تھا، جیسے پیاس کو بھی بوجھ بنا کر لے جا رہا ہو۔

معلوم ہوا کہ اس پورے پہاڑی علاقے میں کوئی حکومتی واٹر سپلائی اسکیم موجود نہیں، اس لیے لوگ کنوؤں اور دور بہتی ندیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

یہ منظر صرف کریم گوٹھ کا نہیں تھا، بلکہ کنراج کے سینکڑوں گاؤں کی روزمرہ کی کہانی تھی جو میں نے گزشتہ ایک ہفتے وہاں فیلڈ کے دوران دیکھی جہاں دن کا آغاز سورج سے پہلے اور پیاس کے ساتھ ہوتا ہے

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کا دوور دراز علاقہ کنراج ایک پسماندہ اور دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں قدرت نے بے پناہ حسن عطا کیا ہے، مگر انسانی زندگی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ، ان کے درمیان بل کھاتی ندیاں، مگر یہ ندیاں سال کے بیشتر حصے میں خشک رہتی ہیں۔

صرف سیلاب کے دنوں میں یہ ندیاں اچانک بپھر جاتی ہیں اور انسانی آبادی کے لیے تباہی کا پیغام بن جاتی ہیں۔ پانی تو آتا ہے، مگر پینے کے قابل نہیں ہوتا،یوں پانی زندگی کے بجائے خطرہ بن جاتا ہے۔

یہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں پہاڑوں کے کناروں پر آباد ہیں۔ ایک بستی ایک پہاڑ کے دامن میں ہے تو دوسری دوسرے پہاڑ کے کنارے، جس کے باعث آبادی ایک دوسرے سے کٹی ہوئی اور دور دراز نظر آتی ہے۔

ان بستیوں کو ملانے کے لیے مناسب سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔

لوگ آج بھی میلوں پیدل چل کر پانی، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ علاقہ بجلی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے شدید محرومی کا شکار ہے۔

اسکول کم ہیں، اساتذہ نایاب ہیں اور صحت کے مراکز بہت دور واقع ہیں۔ غربت، جہالت اور کم شرحِ خواندگی نے یہاں کے لوگوں کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔

سب سے سنگین مسئلہ کنراج میں صاف پانی کا بحران( پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی) ہے۔ کنویں خشک ہو چکے ہیں اور جو پانی دستیاب ہے وہ اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بیماریاں عام ہیں۔

پینے کا صاف پانی کسی بھی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔ آلودہ پانی ہیضہ، ٹائیفائیڈ، پیچش، اسہال، ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے، جو خصوصاً بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔

Women and children carrying water containers across rocky mountain paths in Kunraj, Balochistan due to clean water shortage
کنراج میں پانی کے حصول کے لیے خواتین اور بچے روزانہ میلوں پیدل چلتے ہیں

صاف پانی کی فراہمی سے ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور عوامی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

صاف پانی معاشی ترقی، سماجی مساوات اور ماحولیاتی استحکام کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

جب لوگوں کو پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑیں یا وہ آلودہ پانی کے باعث بار بار بیمار ہوں تو ان کی کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

صاف پانی کی کمی کا سب سے زیادہ اثر غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے، جس سے معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے۔

پانی کے ذرائع کی آلودگی نہ صرف انسانی صحت بلکہ آبی حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

Women and children carrying water containers across rocky mountain paths in Kunraj, Balochistan due to clean water shortage

افسوسناک امر یہ ہے کہ اسی پسماندہ پہاڑی

علاقے میں ایک چینی ملٹی نیشنل مائننگ

کمپنی سرگرمِ عمل ہے، جو قدرتی وسائل سے

بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے، مگر مقامی آبادی آج

بھی پیاس، غربت اور بیماری کی زندگی گزارنے

پر مجبور ہے۔

وسائل تو نکل رہے ہیں، مگر ان کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ رہا گوکہ دردر کمینی کے قرب و جوار کے گوٹھوں کے بنے پانی کے ٹینکوں میں پانی کے ٹینکر کے ز ریعے آٹے میں نمک کے برابر پانی کی سپلائی کررہے ہیں مگر اتنے سارے وسائل کی مار کے مقابلہ میں یہ پانی کے چند قطرے کچھ بھی نہیں۔

پاکستان میں پانی کے معیار پر نظر رکھنے کا نظام کمزور ہے۔ اداروں کی ناقص کارکردگی، قانون سازی کا فقدان اور عوام میں آگاہی کی کمی نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ایسے میں غیر ملکی اور نجی کمپنیاں بوتل بند پانی بیچ کر اربوں روپے کما رہی ہیں، مگر عام اور غریب آدمی کے لیے صاف پانی آج بھی ایک خواب ہے۔

ماضی میں شروع کیے گئے ان گوٹھوں میں فراہمی آب کے چھوٹے چھوٹے منصوبے اپنی افادیت برقرار رکھنے میں ناکام رہے، جس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے مراحل میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت کا فقدان تھا۔

سیاسی عدم استحکام، حکومتی عدم توجہی اور انتظامی نااہلی نے بھی ان منصوبوں کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی طرح ماضی میں حکومت اورغیر حکومتی اداروں جس میں این ار ایس پی کی جانب سے پانی کی فراہمی کے لیے کئی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں، مگر آج وہ یا تو خستہ حالی کا شکار ہیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں۔

بعض مقامات پر پائپ لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کہیں پانی کے ٹینک خراب پڑے ہیں،کنواں نمیکن ہوگئے ہیں اور کہیں معمولی فنی خرابیوں کے باعث موٹریں بند ہیں۔

یہ ایسی خرابیاں تھیں جنہیں بروقت توجہ اور مناسب دیکھ بھال کے ذریعے آسانی سے دور کیا جا سکتا تھا، مگر مسلسل حکومتی غفلت، بروقت مرمت کے فقدان اور مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ منصوبے تباہی کا شکار ہو گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کنراج میں صاف پانی کا بحران شدید ہوگیا ہے۔

کنراج کا سب سے بڑا گوٹھ، عمر گوٹھ، اس علاقے کا مرکزی مقام سمجھا جاتا ہے جہاں ہائی اسکول، لڑکیوں کا اسکول اور انسانی و حیوانی صحت کی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔

اس کے باوجود پینے کے صاف پانی کی کوئی جامع اور مؤثر اسکیم موجود نہیں۔حتی کہ لسبیلہ کے باقی اتنی بڑی آبادی کے گوٹھوں میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ ڈیپاریمنٹ کی کوئی اسیکم ضرور ہوتی ہے لیکن اس علاقے میں ان محکموں کی طرف سے ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا رہاہے۔

نتیجتاً یہاں کے رہائشی آلودہ اور غیر محفوظ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو صحت اور تعلیم دونوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

Women and children carrying water containers across rocky mountain paths in Kunraj, Balochistan due to clean water shortage
پہاڑ، پیاس اور پسماندگی — کنراج کی تلخ حقیقت

آلودہ پانی کے باعث اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، پیچش، آنتوں کی سوزش اور ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی بیماریاں عام ہیں، جن کا سب سے زیادہ شکار بچے، خواتین اور بزرگ افراد بنتے ہیں۔

ان علاقوں میں پانی کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین اور بچوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں روزانہ طویل فاصلے طے کرنے، بھاری برتن اٹھانے اور دشوار گزار راستوں سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اس مسلسل مشقت کے باعث خواتین کی جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے، جبکہ بچوں کی تعلیم، نشوونما اور ذہنی سکون بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح اور ندی نالوں میں پانی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کئی بورنگز نمکین ہو چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر پانی کی سطح میں کمی اور ذائقے میں واضح تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔

ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم ہونے کے باعث یہ پانی شدید حد تک آلودہ ہو گیا ہے اور محض ہلکے بہاؤ کی صورت میں بہہ رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا زیادہ تر بوجھ یہاں کی عورتوں اور بچوں پر پڑرہا ہے۔

کنراج کا علاقہ سماجی ترقی اور منصوبہ جاتی کام کے لیے موزوں ہے، کیونکہ یہاں آبادی چھوٹے چھوٹے گاؤں کی صورت میں بستی ہے۔

پہاڑوں میں قدرتی چشموں میں پانی موجود ہے،کنراج کی مختلف ندیاں ہیں جو آبادی کے قریب علاقے میں بہتی ہیں۔

زیر زمین پانی کی سطح بھی نزدیک ہے،حکومتی و غیر حکومتی اداروں کے لیے بہت کم لاگت میں صاف پانی کے منصوبہ بندی کے مواقع موجود ہیں۔

شمالی کنراج ہو یا جنوبی کنراج یہاں ہر گاؤں میں کم از کم پندرہ اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ گھر ہیں، جس کے باعث کمیونٹی کو منظم کرنا نسبتاً آسان ہے۔

اگر پانی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو شریک کیا جائے تو یہ منصوبے زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ ایک محنت طلب عمل ہے، جس کے لیے لوگوں کو متحد کرنا، انہیں اپنے مسائل کا شعور دینا اور اجتماعی مقصد کے تحت منظم و متحرک کرنا ناگزیر ہوگا۔

کنراج میں صاف پانی کا بحران جو ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے اس کے مستقل حل کے لیے ایک جامع ڈویلپمنٹ پلان تیار کیا جانا ناگزیر ہے، جس میں علاقے کے تمام بنیادی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کے قابلِ عمل حل اور دستیاب وسائل کو بھی واضح کیا جائے۔

اس منصوبے میں لسبیلہ میں سرگرم فلاحی این جی اوز، علاقے میں کام کرنے والی چینی مائننگ کمپنی اور حکومتِ بلوچستان کے کردار کا تعین کیا جائے۔

این جی اوز صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس، کنوؤں اور سولر واٹر اسکیموں کے ذریعے فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ چینی کمپنی اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت پانی کے ذخائر، پائپ لائنز اور مرمت شدہ واٹر اسکیمیں قائم کر سکتی ہے۔

حکومتِ بلوچستان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ منصوبہ بندی، نگرانی، بجٹ کی فراہمی اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنائے، تاکہ کنراج کے عوام کو مستقل بنیادوں پر صاف پینے کا پانی میسر آ سکے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پانی پلانا بہترین صدقہ ہے۔ اسی پیغام کو لے کر ’’صاف پانی محفوظ زندگی‘‘ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم نہ صرف پانی کی قدر کریں اور اسے آلودہ ہونے سے بچائیں بلکہ ان لوگوں تک بھی یہ نعمت پہنچائیں جن کے لیے یہ آج بھی نایاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرافی ہنٹنگ سیزن: ہمالیائی آئی بیکس شکار ہوگیا

جزیرہ استولا میں گھوسٹ نیٹ ریکوری: ان دیکھی ماحولیاتی جنگ

کیا بیلہ اور لیاری کا ثقافتی ورثہ مٹ رہا ہے؟

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ صاف پانی، بنیادی صحت اور تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا کسی بھی ذمہ دار حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

اگر اس پہاڑی اور پسماندہ علاقے سمیت پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے تو نہ صرف لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ایک صحت مند، خوشحال اور پائیدار معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔

صاف پانی صرف ضرورت نہیں، بلکہ محفوظ زندگی کی ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں