فروزاں رپورٹ
دنیا اس وقت جس ماحولیاتی دوراہے پر کھڑی ہے، وہاں موسم محض موسم نہیں رہا۔ کہیں ریکارڈ توڑ گرمی انسانی جانوں کو نگل رہی ہے، کہیں اچانک آنے والے سیلاب پورے پورے شہر بہا لے جا رہے ہیں، اور کہیں برسوں سے بارش کا انتظار کرتی زمین بنجر ہو چکی ہے۔
یہ سب واقعات اب اتفاقیہ قدرتی آفات نہیں سمجھے جا سکتے۔ عالمی سطح پر ماہرین، سائنس دان اور پالیسی ساز اس حقیقت پر متفق ہوتے جا رہے ہیں کہ شدید موسمی انتہائیں (Extreme Climate Events) موسمیاتی تبدیلی کی سب سے خطرناک اور فوری شکل بن چکی ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ماحولیاتی بحران مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ حال کا بحران بن چکا ہے اور انسانیت اس کا براہِ راست سامنا کر رہی ہے۔
گزشتہ صدی میں صنعتی ترقی نے زمین کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا۔ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج نے زمین کے درجہ حرارت کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا۔
نتیجتاً، موسمی نظام جو صدیوں سے نسبتاً متوازن تھا، اب بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔
یہی بگاڑ شدید موسمی انتہاؤں کو جنم دیتا ہے،یعنی ایسی گرمی، ایسی بارش، ایسی خشک سالی اور ایسی آندھیاں جو ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی تھیں۔
آج دنیا کا مسئلہ یہ نہیں کہ موسم بدل رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ موسم انتہاؤں کی طرف جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں زمین نے اپنی تاریخ کے گرم ترین دن، مہینے اور سال ریکارڈ کیے ہیں۔
یورپ، جو کبھی معتدل موسم کے لیے جانا جاتا تھا، شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں ہے۔
جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ہو چکا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے بعض علاقوں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب گرمی اب غیر معمولی خبر نہیں رہی۔
یہ گرمی صرف جسمانی تکلیف نہیں، بلکہ ایک خاموش قاتل ہے۔
ہیٹ اسٹروک، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں، پانی کی قلت اور بجلی کے نظام پر دباؤ،یہ سب مل کر انسانی صحت، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔
خاص طور پر بزرگ، بچے اور محنت کش طبقہ اس بحران کا سب سے بڑا شکار بن رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا ایک حیران کن مگر خطرناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بیک وقت سیلاب اور خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے۔
ایک ہی ملک، بلکہ ایک ہی خطہ، چند مہینوں کے فرق سے دونوں انتہاؤں کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ دہائی کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے،جہاں شدید بارشوں نے تباہ کن سیلاب پیدا کیے، مگر اس کے بعد بھی پانی کا بحران بدستور برقرار رہا۔
عالمی سطح پر یہی صورتحال افریقہ، لاطینی امریکا اور ایشیا کے کئی حصوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ بارشوں کا غیر متوازن نظام زرعی پیداوار کو متاثر کر رہا ہے، خوراک کی قلت بڑھ رہی ہے، اور دیہی آبادی کے لیے بقا ایک روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شدید موسمی انتہاؤں کا سب سے تلخ پہلو ماحولیاتی ناانصافی ہے۔
وہ ممالک جنہوں نے تاریخی طور پر فضا کو کم آلودہ کیا، آج سب سے زیادہ نقصان انہی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ افریقہ، جنوبی ایشیا اور جزائر پر مشتمل ریاستیں موسمیاتی تبدیلی کے فرنٹ لائن متاثرین ہیں۔
یہاں کسان کی فصل جل جاتی ہے، ماہی گیر کا روزگار ختم ہو جاتا ہے، اور غریب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ماحولیاتی مہاجرین (کلائمٹ ریفیوجیز) کی ایک نئی حقیقت جنم لے رہی ہے، جو عالمی سیاست اور سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
شدید موسمی انتہائیں اب عالمی سیاست کا بھی مرکزی موضوع بن چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں لاس اینڈ ڈیبیجز جیسے تصورات اسی حقیقت کا اعتراف ہیں کہ موسمیاتی بحران کے نقصانات ناقابلِ تلافی ہو چکے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اعتراف عملی اقدامات میں ڈھل رہیں ہیں؟ترقی پذیر ممالک آج بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ وعدے کیے گئے فنڈز کب اور کیسے حقیقت بنیں گے۔
عالمی شمال اور جنوب کے درمیان اعتماد کی خلیج بدستور موجود ہے، اور یہی خلیج موسمیاتی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
شدید موسمی انتہاؤں نے شہروں کو بھی محفوظ نہیں چھوڑا۔
غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ، درختوں کی کٹائی اور کنکریٹ کی بہتات نے شہروں کو’’ہیٹ آئی لینڈز‘‘میں بدل دیا ہے۔
دن کے وقت جذب ہونے والی گرمی رات کو بھی خارج نہیں ہو پاتی، جس سے شہری آبادی مسلسل دباؤ میں رہتی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف توانائی کے بحران کو بڑھاتی ہے بلکہ صحتِ عامہ کے مسائل میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
یوں شہر، جو ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب موسمیاتی خطرات کے مرکز بنتے جا رہے ہیں۔
یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ موسمیاتی بحران کا کوئی ایک سادہ حل نہیں۔
شدید موسمی انتہاؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے کاربن اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ موافقت (آڈاپٹیشن) کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
ارلی وارننگ سسٹمز، موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر، بہتر شہری منصوبہ بندی اور مقامی سطح پر لچکدار حکمتِ عملیاں وقت کی ضرورت ہیں۔
یہ سب اقدامات اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک ماحولیاتی مسئلے کو محض ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی مسئلہ تسلیم نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں
اسلام آباد کے جنگلات: کٹائی، تضاد اور سائنسی حقیقت
کیا گلگت بلتستان سونے کی چڑیا ہے؟
شدید موسمی انتہائیں انسانیت کے لیے ایک اجتماعی امتحان ہیں۔
یہ ہمیں مجبور کر رہی ہیں کہ ہم ترقی، طاقت اور ذمہ داری کے اپنے تصورات پر نظرِ ثانی کریں۔
سوال اب یہ نہیں کہ موسم کیوں بدل رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس بدلتے موسم کے سامنے کس طرح کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر دنیا نے بروقت، منصفانہ اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں اس خاموش بحران پر خاموش رہنے کا مجرم ٹھہرائیں گی۔
اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں آج دینا ہے، کل نہیں
کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان…
جنگلاتی مصنوعات کے شعبے میں بحالی ایف اے او رپورٹ 2024 کے مطابق عالمی تجارت،…
گلگت بلتستان میں 5.9 شدت کا زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین…
گلگت بلتستان سونے کی چڑیا بنتا جا رہا ہے، جہاں قدرتی وسائل، سیاحت اور معدنیات…
اسلام آباد کے جنگلات میں کٹائی، شہری پھیلاؤ اور سائنسی حقائق پر مبنی تحقیقی رپورٹ،…
کنراج میں صاف پانی کا بحران انسانی صحت، تعلیم اور بقا کے لیے سنگین خطرہ…
This website uses cookies.