Climate change, extreme heat, floods, and unemployment have placed Pakistan’s working class, especially in Karachi, under severe threat.
فروزاں رپورٹ
یکم مئی 2026 کو دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کا دن ’’لیبر ڈے‘‘ منایا جا رہا ہے۔ مگر اس بار ایک نیا اور سنگین سوال عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ کیا موسمیاتی تبدیلی مزدوروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے؟
یہ سوال اب صرف نظری بحث نہیں رہا۔ عالمی اداروں کی تازہ رپورٹس اور پاکستان، خصوصاً کراچی، کے زمینی حقائق واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی بحران اب مزدوروں کی صحت، روزگار اور بقا سے جڑ چکا ہے۔
بین الاقوامی محنت تنظیم کی سن 2024 کی رپورٹ ’’بدلتے موسم میں کام کی جگہ پر تحفظ اور صحت کو یقینی بنانا‘‘ کے مطابق، دنیا کے 70 فیصد سے زائد مزدور موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق، 2 ارب 40 کروڑ مزدور شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی محنت تنظیم کی 2025 کی رپورٹ ’’سماجی انصاف کی صورتحال، ایک جاری عمل‘‘ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے مزدور، جو عالمی اخراج میں صرف 12 فیصد حصہ رکھتے ہیں، موسمیاتی بحران سے ہونے والا 75 فیصد نقصان برداشت کریں گے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی۔ یہ عالمی محنت کش طبقے کا بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں،حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔
چند اہم حقائق صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں کہ
سال 2022 کے سیلاب سے 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
سال 2025 کے سیلاب سے 33 لاکھ نوکریاں متاثر ہوئیں۔
لاکھوں مزدور بے روزگار یا عارضی طور پر متاثر ہوئے۔
ملک کی 7 کروڑ سے زائد افرادی قوت موسمیاتی بحران کی براہِ راست زد میں ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی اثرات اب معیشت اور مزدور طبقے دونوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
کراچی اب دنیا کے ان شہروں میں شامل ہو چکا ہے جہاں گرمی انسانی برداشت کی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔
سن 2024 کی شدید گرمی کی لہر میں 500 سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔ ہزاروں افراد گرمی سے بے ہوشی اور جسمانی مسائل کا شکار ہوئے۔ متاثرین میں بڑی تعداد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی تھی۔
سال 2025 میں بھی درجہ حرارت اور گرمی کے اشاریے خطرناک حدوں تک پہنچ گئے۔ ماہرین نے انہیں ’’انسانی برداشت کی حد کے قریب‘‘ قرار دیا۔
کراچی کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں پر ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ صنعتی علاقوں میں ناکافی ٹھنڈک کے باعث مزدور شدید گرمی میں طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک مزدور کا کہنا ہے کہ ‘‘گرمی میں کام کرنا اب صرف مشکل نہیں، خطرناک ہو چکا ہے’’۔
ماہرین کے مطابق، شدید گرمی کا دباؤ پاکستان میں مزدوروں کے لیے تیزی سے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ گرمی سے بے ہوشی، پانی کی شدید کمی اور گردوں کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
شدید گرمی کے باعث مزدوروں کے کام کے اوقات کم ہو رہے ہیں۔ اس سے ان کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔
مختلف مطالعات کے مطابق عالمی سطح پر ہر ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھنے پر 2 سے 3 فیصد تک پیداوار کم ہو رہی ہے۔
زرعی مزدور اس صورتحال سے دوہری مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر زرعی مزدور کھلے میدانوں میں کام کرتے ہیں۔
شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس سے مزدوروں کی آمدنی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یہی طبقہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شکار بنتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب صرف گرمی تک محدود نہیں رہے۔
سیلاب، خشک سالی، خوراک کا بحران، شدید بارشیں، روزگار کی تباہی، آمدنی میں کمی اور شہری بنیادی ڈھانچے کی بربادی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں ان اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ مزدوروں پر پڑ رہا ہے۔
پاکستان میں کروڑوں مزدور غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں۔ انہیں کسی قسم کا سماجی یا قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
بین الاقوامی محنت تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں 60 لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ تاہم 2 کروڑ 40 لاکھ نئی ماحول دوست نوکریاں پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
تاہم پاکستان جیسے ممالک میں مہارت کی کمی، تربیتی نظام کی کمزوری اور پالیسی خلا بڑے چیلنجز ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزدور اس نئی معاشی تبدیلی میں پیچھے رہ جائیں گے۔
پاکستان میں تعمیراتی مزدور، زرعی کارکن، فیکٹری ملازمین، یومیہ اجرت والے افراد اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں
سپر ال نینو الرٹ: پاکستان میں نئی ہیٹ ویو ایمرجنسی کا خدشہ بڑھ گیا
آبنائے ہرمز کی بندش:کیا سمندری حیات کے لیے آخری وارننگ جاری ہو چکی؟
پاکستان جھلسنے کو تیار، گرمی، پانی کی قلت اور موسمیاتی قیامت کا خطرہ
ماہرین کے مطابق، شدید گرمی سے بچاؤ کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد ناگزیر ہے۔
کام کی جگہوں پر حفاظتی قوانین، بہتر ٹھنڈک کے انتظامات اور صاف پانی کی فراہمی جیسے اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ماحول دوست روزگار کی تربیت، موسمیاتی پالیسی میں مزدوروں کی شمولیت اور منصفانہ منتقلی کے ماڈلز پر بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔
لیبر ڈے ’’یومِ مزدور‘‘2026 کے حوالے سے ایک اہم سوال پوچھتا ہے
کیا ہم اپنے مزدوروں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے تیار ہیں؟
اگر جواب نفی میں ہے تو آنے والا وقت صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران لے کر آئے گا۔ اس کا سب سے بڑا بوجھ پاکستان کا محنت کش طبقہ اٹھائے گا۔
سپر ال نینو،عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وارننگ، پاکستان میں شدید ہیٹ ویو، پانی…
سپر ال نینو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں شدید گرمی، پانی کی قلت اور موسمیاتی…
ہیٹ ویو کی لہر سے سندھ کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کا خدشہ۔ محکمہ…
قدرت کا تحفظ اب انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ یونیسکو کی…
موسمی تبدیلی سے متعلق اہم عالمی رپورٹ جاری، درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ اور…
آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور نازک سمندری راستہ ہے۔ یہاں ڈولفنز، مرجان اور دیگر…
This website uses cookies.