موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی کو صرف دستاویز ی نہیں بلکہ فعال نظام کی صورت دینا ہوگی، کمزور طبقات کی شمولیت لازمی
اداریہ
عالمی موسمیاتی اور ماحولیاتی صورتحال اب کسی سائنسی بحث تک محدود نہیں رہی۔ 2026 کے آغاز میں دنیا کے مختلف خطوں میں شدید برفباری، غیر معمولی بارشیں، طویل خشک سالیاں اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت دیکھنے میں آئے۔
یہ واقعات واضح اشارہ ہیں کہ موسمیاتی نظام خطرناک حد تک غیر متوازن ہو چکا ہے۔ عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ناقابلِ واپسی حدوں کو چھو سکتے ہیں۔

پاکستان کو درپیش دوہرا چیلنج
پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہایت کم ہے۔ اس کے باوجود وہ موسمیاتی اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
حالیہ برسوں میں سیلاب، ہیٹ ویوز، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، زرعی پیداوار میں کمی اور سمندری مداخلت جیسے مسائل نے صورتحال کو مزید سنگین بنایا۔ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی۔ یہ سماجی، معاشی اور قومی سلامتی کا چیلنج بن چکی ہے۔
عالمی وعدے اور زمینی حقائق
بین الاقوامی موسمیاتی کانفرنسوں میں مالی معاونت، لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اور موافقتی حکمت عملیوں پر بات ہو رہی ہے۔ تاہم عملی پیش رفت سست ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی وعدوں کے ساتھ اپنی داخلی پالیسیوں کو بھی حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مضبوط کرے۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پالیسی صرف دستاویز نہ ہو بلکہ فعال نظام کی صورت اختیار کرے۔

پالیسی اور عملدرآمد کی کمزوریاں
پاکستان میں موسمیاتی پالیسیاں اکثر فائلوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا ابہام، ڈیٹا کی کمی اور عملدرآمد کی کمزوری بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا مرکزی جزو بنایا جائے۔ توانائی، زراعت، پانی، شہری ترقی اور صنعت سمیت تمام شعبوں میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔
موافقت کو ترجیح دینا ہوگی
پاکستان جیسے ممالک کے لیے فوری ضرورت اخراج میں کمی سے زیادہ موسمیاتی اثرات سے بچاؤ ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں فطرت پر مبنی حل، ساحلی پٹی پر مینگرووز کا تحفظ، خشک علاقوں میں پانی کا مؤثر انتظام اور شہروں میں گرین انفراسٹرکچر اہم اقدامات ہیں۔
ارلی وارننگ سسٹمز کو جدید ٹیکنالوجی اور مقامی کمیونٹیز کے اشتراک سے مضبوط بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماحولیاتی انصاف اور عوامی شمولیت
موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا بوجھ کمزور طبقات اٹھا رہے ہیں۔ دیہی کسان، ماہی گیر، خواتین اور شہری غریب براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
پالیسی سازی میں ان طبقات کی شمولیت کے بغیر کوئی حکمت عملی مؤثر نہیں ہو سکتی۔ ماحولیاتی انصاف اسی میں ہے کہ متاثرین کو فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جائے۔
وعدوں سے آگے بڑھنے کا وقت
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو وقتی موسمیاتی بحران کے بجائے مستقل حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سیاسی عزم، سائنسی تحقیق، شفاف گورننس اور ذمہ دار میڈیا کا کردار اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی حدت کا فیصلہ کن دور: زمین کے لیے آخری انتباہ
وقت اب منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر عملدرآمد کا ہے۔ موسمیاتی پالیسی اگر زمین پر اثر نہیں دکھا رہی تو وہ محض ایک وعدہ ہے۔ اور وعدے قدرتی آفات کو نہیں روکتے۔
