فروزاں

دنیا ہوموجینوسین کے دور میں داخل، حیاتیاتی تنوع کو خطرہ

ہوموجینوسین کے باعث مقامی انواع کے خاتمے اور چند عام اقسام کے پھیلاؤ سے جنگلات، دریا اور سمندر ایک جیسے ماحولیاتی نظام میں بدلنے لگے

موسمیاتی تبدیلی کو عموماً ہیٹ ویوز، سیلاب یا خشک سالی سے جوڑا جاتا ہے، مگر اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، سمندروں کی حدت میں اضافہ اور آلودگی قدرتی نظام کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اس دباؤ کے باعث ہزاروں اقسام ختم ہو چکی ہیں جبکہ بے شمار انواع اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

حالیہ عالمی مطالعات کے مطابق انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی دباؤ نے کئی علاقوں میں مقامی حیاتیاتی تنوع کو تقریباً 20 فیصد تک کم کر دیا ہے۔ اس سے قدرتی توازن اور ماحولیاتی ڈھانچے دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین ایک نئے رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے “ہوموجینوسین” کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد حیاتیاتی یکسانیت ہے۔ یعنی دنیا کے مختلف خطوں کی منفرد انواع ختم ہوتی جا رہی ہیں

ہوموجینوسین کیا ہے؟

ماہرین ایک نئے رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے “ہوموجینوسین” کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد حیاتیاتی یکسانیت ہے۔ یعنی دنیا کے مختلف خطوں کی منفرد انواع ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی جگہ چند عام اور مضبوط اقسام ہر جگہ پھیل رہی ہیں۔ یوں فطرت اپنی شناخت کھو رہی ہے۔

انواع کا خاتمہ اور یکسانیت میں فرق

انواع کا خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی جاندار مکمل طور پر ناپید ہو جائے۔
جبکہ ہوموجینوسین میں زندگی باقی رہتی ہے مگر اپنی مقامی خصوصیات کھو دیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ مختلف علاقے ایک جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔

موسمیاتی دباؤ کیسے اثر انداز ہوتا ہے

موسمیاتی تبدیلی ایک سخت انتخابی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ مخصوص ماحول کی عادی انواع بدلتے موسم کا مقابلہ نہیں کر پاتیں۔ وہ ختم ہو جاتی ہیں یا محدود ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس عام اور موافق جاندار تیزی سے پھیلتے ہیں اور نئے علاقوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

جنگلات کی کٹائی اور شہری پھیلاؤ نے مقامی پرندوں اور جانوروں کے مسکن ختم کر دیے ہیں۔

خشکی پر اثرات

جنگلات کی کٹائی اور شہری پھیلاؤ نے مقامی پرندوں اور جانوروں کے مسکن ختم کر دیے ہیں۔ کئی شہروں میں اب صرف کبوتر، کوّے، چوہے اور دیگر عام جانور دکھائی دیتے ہیں۔ نایاب انواع تیزی سے غائب ہو رہی ہیں۔

دریاؤں اور جھیلوں کی تبدیلی

دریاؤں کا درجہ حرارت اور پانی کا بہاؤ بدلنے سے مقامی مچھلیاں کم ہو رہی ہیں۔ ان کی جگہ بیرونی اور تیزی سے افزائش کرنے والی نسلیں لے رہی ہیں۔ اس سے آبی نظام کا قدرتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔

سمندروں میں خطرہ

سمندری درجہ حرارت میں اضافے سے مرجان کی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں۔ ہزاروں اقسام کا مسکن خطرے میں ہے۔ دوسری طرف کچھ جارحانہ انواع، جیسے شیر مچھلی، تیزی سے پھیل کر مقامی حیات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

شہروں میں اب صرف کبوتر، کوّے، چوہے اور دیگر عام جانور دکھائی دیتے ہیں۔ نایاب انواع تیزی سے غائب ہو رہی ہیں۔

یہ رجحان خطرناک کیوں ہے؟

ماہرین کے مطابق یکساں ماحولیاتی نظام زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔ ایک بیماری یا آفت پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس متنوع نظام زیادہ مضبوط اور بحالی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

قدرتی مساکن کا تحفظ، مقامی انواع کی بحالی، آلودگی میں کمی اور پائیدار زرعی و شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانا اس عمل کو سست کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی، شمالی اور مغربی علاقوں سے سردیوں کی ہجرت ایک نیا سماجی بحران

پانی، درخت اور صاف ہوا کو لامحدود قدرتی وسائل سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی

موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت کا مسئلہ نہیں۔ یہ فطرت کی شناخت کا بحران ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کے جنگلات، دریا اور سمندر باقی تو رہیں گے مگر اپنی اصل رنگا رنگی کھو دیں گے۔ یہی ہوموجینوسین کا خاموش خطرہ ہے۔

admin

Recent Posts

ہنزہ زلزلہ: بالائی علاقوں میں 5.5 شدت کے جھٹکوں سے نقصان، خوف کی فضا

ہنزہ زلزلہ سے چپورسن اور مسگر میں مکانات متاثر، لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند، مکین…

14 hours ago

واش سہولیات میں صنفی شمولیت اور موسمیاتی ہم آہنگی پر ملتان میں اہم ڈائیلاگ

واش سہولیات تک خواتین، بچوں، افراد باہم معذوری اور دیگر کمزور طبقات کو مساوی رسائی…

3 days ago

موسمیاتی تبدیلی کا اثر: باجوڑ کے تالاب خشک، آبی پرندوں اور وائلڈ لائف میں کمی

موسمیاتی تبدیلی کے باعث نشیبی علاقوں اور ویٹ لینڈز میں پانی کی کمی سے مرغابیوں…

4 days ago

پاکستان میں موسمیاتی بحران کا اصل حجم اب تک نامعلوم

پاکستان میں موسمیاتی بحران کبھی باقاعدہ ناپا ہی نہیں گیا۔ یہ وہ تباہی ہے جو…

5 days ago

ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش

ماحولیاتی تباہی موجودہ عالمی معاشی نظام میں سستی، قدرتی وسائل کا استحصال منافع بخش اور…

6 days ago

دنیا بھر میں پانی کا بڑھتا بحران اور پاکستان کے مستقبل پر خطرات

دنیا بھر میں 2.2 ارب افراد صاف پانی سے محروم، قلت، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی…

7 days ago

This website uses cookies.