موسمیاتی تبدیلی کے مارے ہزاروں موسمی مہاجرین کو ہرسال کراچی اپنے اندر سمو لیتا ہے تاہم موسمی ہجرت آہستہ آہستہ مستقل نقل مکانی میں بدل رہی ہے
تحریر: ڈاکٹر طہہ شبیر

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا ذکر عام طور پر ہیٹ ویوز، سیلاب اور خشک سالی تک محدود رہتا ہے۔ تاہم سردیوں میں ایک اور خاموش بحران جنم لے رہا ہے۔ شمالی اور مغربی علاقوں کی شدید سردی ہزاروں افراد کو روزگار اور بقا کی تلاش میں کراچی کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہی ہے۔
یہ موسمی نقل مکانی اب وقتی نہیں رہی بلکہ ایک مستقل سماجی اور معاشی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
شدید سردی اور طویل موسم
کوئٹہ، زیارت اور دیگر پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ برسوں میں سردیوں کی شدت اور دورانیہ دونوں بڑھے ہیں۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ریکارڈ برف باری سے کئی علاقے ہفتوں تک زمینی رابطے سے کٹ جاتے ہیں۔ اس سے خوراک، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

روزگار کے مواقع محدود
سرکاری و غیر سرکاری اندازوں کے مطابق بعض پہاڑی اضلاع میں 30 سے 40 فیصد گھرانے سردیوں میں روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں۔
سیاحت، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے پیمانے کی زراعت تقریباً مفلوج ہو جاتی ہے۔ ایندھن مہنگا اور بجلی کی فراہمی غیر یقینی ہو جاتی ہے، جس سے مشکلات مزید بڑھتی ہیں۔
کراچی کی طرف ہجرت
ان حالات میں بہت سے خاندان ایک یا دو افراد کو کراچی بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلا سکیں۔
کراچی ہر سال ہزاروں موسمی مہاجرین کو اپنے اندر سمو لیتا ہے، تاہم ان کی درست تعداد کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں۔
یہ افراد عموماً غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں، جن میں تعمیرات، بندرگاہی مزدوری، ریڑھی بانی، کچرا چننا اور گھریلو ملازمت شامل ہیں۔ یومیہ آمدن محدود ہوتی ہے اور رہائش غیر رسمی بستیوں میں اختیار کرنی پڑتی ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔
نئے خطرات، نئی مشکلات
سردی سے بچنے کی یہ ہجرت مہاجرین کو دوسرے خطرات سے دوچار کر دیتی ہے۔
کراچی کی کچی آبادیاں بارشوں، سیلاب، آلودگی اور بیماریوں کا شکار رہتی ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے جبکہ خواتین کو روزگار اور نقل و حرکت میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مستقل بے دخلی کا خدشہ
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بار بار کی موسمی ہجرت آہستہ آہستہ مستقل نقل مکانی میں بدل رہی ہے۔ کئی خاندان اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا کر دوبارہ زندگی شروع کرنے کے قابل نہیں رہے۔
بین الاقوامی مطالعات کے مطابق اگر موسمیاتی موافقت کے اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان میں موسمیاتی وجوہات کی بنا پر اندرونی ہجرت کرنے والوں کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
حل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق مسئلے کا حل صرف شہروں میں نہیں بلکہ آبائی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں سے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں
ملک میں موسم قدرے ٹھنڈا، بارشیں معمول سے زیادہ
پانی، درخت اور صاف ہوا کو لامحدود قدرتی وسائل سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی
موسم کے مطابق رہائش، مقامی روزگار، توانائی کے بہتر انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جبری ہجرت کو کم کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی کراچی جیسے شہروں میں شہری منصوبہ بندی اور لیبر پالیسی میں موسمی مہاجرین کو شامل کرنا ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی صرف گرمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ سردی، بے یقینی اور مجبوری میں کیے گئے سفر کی کہانی بھی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش ہجرت آنے والے برسوں میں ایک بڑے قومی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
