خصوصی تجزیاتی رپورٹ
پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 پاکستان کیلئے ایسے بجٹ منصوبے تیار کریں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
اس بجٹ سازی میں ہر منصوبے کے اخراجات، آمدنی اور مالیاتی ذرائع کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے قومی بجٹ کی بنیاد کو ماحول دوست اور آفتوں سے محفوظ ترقی پر رکھا جا رہا ہے۔
اس غیر معمولی فیصلے کے پیچھے عالمی دباؤ، سیلابوں کا ذاتی تجربہ اور مستقبل کی معیشت میں اپنی جگہ بنانے کی خواہش شامل ہے۔
وزارتِ خزانہ کا یہ اعلان کہ 26/27کے بجٹ کی بنیاد موسمیاتی منصوبوں پر ہوگی لاکھوں پاکستانیوں کے لئے امید کی کرن ہے کہ ریاست خود بھی موسمیاتی بحران کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کی مشکلات کا ادراک رکھتی ہے۔
یورپی یونین نے جنوری 2026 میں اپنے’’کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم‘‘ (سی بی اے ایم) کے لیے ڈی-منی مس حد متعارف کروائی، جس کے تحت ایسی مصنوعات جو فی درآمد کنندہ سالانہ 50 ٹن سے کم وزن رکھتی ہیں، کاربن اخراج پر عائد جرمانوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔
فی الحال یہ حد لوہے، اسٹیل، سیمنٹ، کھاد، ایلومینیم اور ہائیڈروجن پر لاگو ہے، مگر ماہرین کے مطابق 2027 سے 2030 کے دوران ٹیکسٹائل کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ی
یاد رہے کہ ہماری برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل ہے، اس لیے نئی موسمیاتی شرطیں پوری نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو یورپی منڈیوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
اس خطرے نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ کاربن اخراج میں کمی کے منصوبوں کو سرکاری بجٹکا مرکز ی حصہ بنا تے ہوئے وزارتوں سے تفصیل طلب کرے کہ وہ ماحول دوست منصوبے کیسے نافذ کریں گی۔
وزارتِ خزانہ نے ہدایت دی ہے کہ ہر وزارت تباہی سے محفوظ اور سبز منصوبوں کی فہرست دے اور ہر منصوبے کا مالیاتی خاکہ پیش کرے۔
ان تفصیلات کا مقصد یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے منصوبوں میں کاربن اخراج کا جائزہ، موسم سے جڑے خطرات اور تابکاری کے اقدامات کو مرکزی حیثیت ملے۔
بجٹ سازی کے اس نئے ڈھانچے کی بدولت توقع ہے کہ قابلِ تجدید توانائی، سیلاب سے تحفظ، ٹرانسپورٹ کی اصلاح اور صنعتوں کی ڈی کاربنائزیشن جیسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر آئیں گے۔
پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جس کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں میں حصہ صرف تقریباً 1 فیصد ہے، مگر اس کے باوجود یہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید ہیں۔
سن2022 کے تاریخی سیلاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1,730 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں اور 8 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 14.9 ارب ڈالر کے نقصانات اور 15.2 ارب ڈالر کا معاشی خسارہ ہوا۔
اس آفت نے پاکستان کوبتا دیا ہے کہ موسمیاتی خطرات دور نہیں بلکہ ہم اس کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔
موسمیاتی بجٹ 26/27دراصل ایسے مستقبل
کے خوف کو دور کرنے کا ایک نیا عزم ثابت ہو سکتا ہے۔
صرف مقامی تباہیاں ہی نہیں، عالمی دباؤ بھی اس تبدیلی کا بڑا سبب ہیں۔ یورپی قوانین کے علاوہ، عالمی اداروں نے پاکستان کی موسمیاتی کوششوں میں مدد کیلئے رقوم مختص کی ہیں۔
عالمی بینک نے Country Partnership Framework کے تحت اگلے دس برس کیلئے 20 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے، جس کا بڑا حصہ صاف توانائی اور موسمیاتی لچک کے منصوبوں پر خرچ ہوگا۔
آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج میں موسمیاتی عوامل کو شامل کرتے ہوئے Resilience & Sustaninability Facility (RSF) کے تحت 200 ملین ڈالر کی پہلی قسط جاری کی ہے اور 1.3 ارب ڈالر کے ایک موسمیاتی قرض پر غور کر رہا ہے۔
اگر حکومت موسمیاتی بجٹ کے ذریعے واضح منصوبے پیش کر سکے تو یہ فنڈز نہ صرف دستیاب ہوں گے بلکہ مؤثر طریقے سے خرچ بھی کیے جا سکیں گے۔
موسمیاتی بجٹ کے دائرے میں زراعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ زراعت ہی سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
دسمبر 2025 میں حکومت نے’’زرخیز-ای‘‘نامی ڈیجیٹل قرض اسکیم شروع کی جس کا مقصد 750,000 غیر بینک شدہ کسانوں کو رسمی مالیاتی نیٹ ورک میں شامل کرنا اور تین برسوں میں دیہی معیشت کو تقریباً 300 ارب روپے کی سرمایہ کاری فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم میں ضمانت کی شرط نہیں ہے اور سیٹلائٹ امیجری و ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے کسانوں کی پیداواریت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
موسمیاتی بجٹ 26/27میں ایسے اقدامات کو مزید وسعت دینے کی توقع ہے تاکہ کسان عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق موسمیاتی لچک حاصل کر سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بننے والے منصوبوں میں اکثر مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کا کردار شامل نہیں ہوتا۔ ک
لائیمٹ ایکشن سینٹر کے ڈائریکٹر یاسر حسین نے نشاندہی کی کہ وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مکمل رابطے کا فقدان ہے اور بیشتر منصوبے لوکل سطح کی رائے لئے بغیر ہی تشکیل دے دیئے جاتے ہیں۔
اسی طرح، ایک مطالعے کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد منظور شدہ 68 قومی پالیسیوں میں سے صرف دو میں موسمیاتی تبدیلی کا ذکرہے، اور مالی سال 2024-25 میں منظور شدہ کئی منصوبوں نے جدید PC-1 قواعد پر عمل نہیں کیا۔
موسمیاتی بجٹ 26/27میں یہ خلا پُر کرنا ضروری ہے تاکہ منصوبے کمیونٹی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور بلدیاتی سطح پر بھی اس کا فائدہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی، شمالی اور مغربی علاقوں سے سردیوں کی ہجرت ایک نیا سماجی بحران
پانی، درخت اور صاف ہوا کو لامحدود قدرتی وسائل سمجھنا سب سے بڑی غلط فہمی
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ موسمیاتی بجٹ 26/27صرف سرکاری دستاویز نہیں بلکہ ہماری معیشت، خوراک، روزگار اور صحت سے جڑا ہوا روڈمیپ ہے۔
یورپی یونین کے نئے قوانین اور 2022 کے سیلابوں نے ہمیں یہ باور کرا دیا ہے کہ ماحول سے متعلق اقدامات اب اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہو گئے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم صنعتوں اور توانائی میں تبدیلی لاتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت اور گرین ٹیکنالوجی کو اختیار کر کے برآمدات کی راہ ہموار کریں۔
بجٹ سازی میں موسمیاتی تجزیہ کو شامل کریں اورہر منصوبے میں کاربن اخراج، موسم سے جڑے خطرات اور لچک پیدا کرنے والے اقدامات کو شامل کیا جائے،بلدیاتی اداروں کو شراکت دار بنائیں اورمنصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد میں مقامی حکومتوں اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
اس کے ساتھ زرعی اصلاحات کو فروغ دیں،”زرخیز-ای“ جیسی اسکیموں کو مضبوط کریں، موسمیاتی مزاحمت والے بیج اور جدید کاشت کاری پر تحقیق کریں اور انھیں مالیاتی مدد فراہم کریں۔
موسمیاتی بجٹ 26/27کے ذریعے حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ صرف موسمیاتی خطرات کا جواب نہ دے بلکہ اپنے شہریوں کو محفوظ، صحت مند اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بھی دے۔ اب یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم اس سبز روڈمیپ کو حقیقت بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
کلائمیٹ ویک کراچی میں ماہرین نے زور دیا کہ پالیسی سازی کافی نہیں، موسمیاتی چیلنجز…
موسمیاتی تبدیلی کے مارے ہزاروں موسمی مہاجرین کو ہرسال کراچی اپنے اندر سمو لیتا ہے…
چپورسن زلزلہ کے 48 گھنٹے بعد مرکزی شاہراہ بحال کردی گئی، امدادی سامان ارسال، نقصانات…
پانی کی مستقل ضرورت دریائے سندھ بھی پوری نہیں کرسکتا، پلاسٹک کا استعمال انسانی صحت…
گلگت بلتستان میں جی بی آر ایس پی اور یو این ڈی پی کے درمیان…
کمزور لا نینا کی صورتحال برقرار، موسم اور بارشوں کے اہم رجحانات، جنوری 2026 کی…
This website uses cookies.