فروزان ہیلتھ اسپیشل رپورٹ، روبینہ یاسمین
سندھ کے مختلف علاقوں میں ایم پاکس کے کیسز سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت الرٹ ہو گیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال قابو میں ہے، مگر عوامی آگاہی اور احتیاط نہایت ضروری ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
محکمہ صحت کے مطابق ایک 20 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد فوری طبی اقدامات کیے گئے۔
مریض کو آئیسولیشن میں رکھ کر علاج جاری ہے۔ اور ڈاکٹرز کی جانب سے مریض کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
فاروزاں روٹ
اطلاعات کے مطابق متاثرہ مریض میں ابتدا میں تیز بخار، سر درد اور جسمانی تھکن جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔
کچھ ہی دنوں میں جسم پر دانے اور چھالے نمودار ہوئے، جو ایم پاکس کی نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔
تشخیص کے لیے لیبارٹری میں پی سی آر ٹیسٹ کیا گیا، جس کے ذریعے وائرس کی تصدیق ہوئی۔
کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری اقدامات کیے۔
ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مریض کے قریبی رابطوں کا سراغ لگا رہی ہے۔ قریبی اہل خانہ اور رابطے میں آنے والے افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد میں تاحال کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم احتیاطی نگرانی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق ایم پاکس ایک متعدی وائرس ہے، جو انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے۔
یہ وائرس قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ جلد، جسمانی رطوبتوں یا آلودہ اشیاء کے ذریعے پھیلتا ہے۔ بعض صورتوں میں سانس کے قطروں کے ذریعے بھی اس کی منتقلی ممکن ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے متاثرہ افراد سے فاصلہ رکھنا نہایت اہم ہے۔
ایم پاکس کی علامات بتدریج ظاہر ہوتی ہیں، مگر انہیں نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
اہم علامات میں شامل ہیں
تیز بخار
سر درد
جسم میں درد اور شدید تھکن
جلد پر دانے یا چھالے
اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کو معمول بنائیں۔
متاثرہ افراد سے قریبی رابطے سے گریز کریں
ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں
ذاتی اشیاء مشترکہ استعمال نہ کریں
بیمار افراد سے فاصلہ رکھیں
علامات ظاہر ہونے پر فوری ہسپتال سے رجوع کریں
طبی نظام کی تیاری اور حکومتی اقدامات
محکمہ صحت کے مطابق، متاثرہ مریض کو آئیسولیشن میں رکھ کر مکمل طبی نگرانی فراہم کی جا رہی ہے۔
تمام طبی عملے کو انفیکشن کنٹرول کے معیاری طریقہ کار پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہسپتالوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں ایم پاکس کے زیادہ کیسز افریقی خطوں میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر اس کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی سفر اور قریبی انسانی روابط ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
خطرہ بڑھتا جا رہا ہے: جنوبی ایشیا اور پاکستان میں ایس ڈی جیز کی ناکامی کا خدشہ
گلیشیرز تیزی سے پگھلنے لگے،ماہرین کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، مگر احتیاط ضروری ہے۔
بروقت تشخیص، محدود رابطہ اور صفائی کے اصول اس بیماری سے بچاؤ کے بنیادی طریقے ہیں۔
عوامی آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی ایم پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس سے پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میںسیلاب، پانی…
مصدق ملک کے مطابق اس معاہدے کے تحت پاکستان صاف توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور ویسٹ…
خطرہ واضح ہے: پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو آنے والی نسلیں موسمیاتی بحران اور…
گلگت بلتستان ماحولیاتی معاہدہ، بڑے دعوے اور اعلانات، مگر شراکت داری کی تفصیلات، اہداف، ٹائم…
فضائی آلودگی اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے سرحد پار “انگنگیٹک ایئر شیڈ…
مون سون سیزن میں ماہرین نے زور دیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے…
This website uses cookies.