فروزاں

ملک میں موسم قدرے ٹھنڈا، بارشیں معمول سے زیادہ

کمزور لا نینا کی صورتحال برقرار، موسم اور بارشوں کے اہم رجحانات، جنوری 2026 کی موسمیاتی رپورٹ جاری

پاکستان محکمۂ موسمیات نے جنوری 2026 کی موسمیاتی سمری جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں موسم مجموعی طور پر معمول سے قدرے ٹھنڈا رہا، جبکہ بارشوں کی مقدار اوسط سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سردیوں کے اس مہینے میں درجہ حرارت اور بارش دونوں میں نمایاں تغیرات دیکھنے میں آئے، جن کا تعلق عالمی موسمی رجحان لا نینا کی کمزور مگر برقرار صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ملک کا اوسط درجہ حرارت 11.08 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو طویل المدتی معمول 11.35 ڈگری کے مقابلے میں 0.27 ڈگری کم رہا۔

دن کے اوقات میں اوسط درجہ حرارت 17.82 ڈگری رہا، جو معمول سے 0.67 ڈگری کم تھا۔

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رات کے وقت درجہ حرارت مجموعی طور پر معمول سے قدرے زیادہ رہا۔ جنوری کے دوران کم سے کم اوسط درجہ حرارت 4.28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو سرد علاقوں کے علاوہ بیشتر میدانی حصوں میں نسبتاً معتدل رہا۔

بارشیں معمول سے نمایاں زیادہ

بارشوں کے حوالے سے محکمۂ موسمیات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسطاً 23.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول سے 19 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق 23 جنوری کو ایک ہی دن میں سب سے زیادہ بارش 110 ملی میٹر پارا چنار (خیبر پختونخوا) میں ریکارڈ کی گئی، جو اس مہینے کا سب سے نمایاں بارشی واقعہ رہا۔ ان بارشوں کے باعث بالائی اور مغربی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔

درجہ حرارت کی انتہائیں

جنوری کے دوران درجہ حرارت کی انتہائی قدریں بھی سامنے آئیں۔

  • 16 جنوری کو ملک کا گرم ترین دن 30.5 ڈگری سینٹی گریڈ مٹھی (سندھ) میں ریکارڈ ہوا۔
  • 11 جنوری کو سرد ترین رات منفی 13.6 ڈگری سینٹی گریڈ سکردو (گلگت بلتستان) میں رہی۔

پورے مہینے کے دوران سرد ترین مقامات سکردو اور گوپس (گلگت بلتستان) رہے، جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.3 ڈگری تک گر گیا۔ دوسری جانب جنوری کا مجموعی طور پر گرم ترین مقام مٹھی، سندھ رہا، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

لا نینا کا اثر برقرار

محکمۂ موسمیات کے مطابق وسطی بحرالکاہل میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں کمی کے باعث کمزور لا نینا کی صورتحال برقرار رہی۔ یہی موسمی رجحان پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں موسم پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے تحقیق اور کمیونٹی ریزیلینس کا آغاز

قراقرم یونیورسٹی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری کے دوران ملک میں چار مغربی ہواؤں کے سلسلے داخل ہوئے، جن کے نتیجے میں بالائی علاقوں میں بارش، برف باری اور بعض مقامات پر سردی کی شدت میں اضافہ ہوا۔

آئندہ مہینوں کا امکان

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں بھی لا نینا کے اثرات برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث موسم میں اتار چڑھاؤ، بارشوں کے رجحانات اور درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے موسمی پیٹرن زرعی منصوبہ بندی، پانی کے ذخائر اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے موسمی پیش گوئیوں اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔

admin

Recent Posts

گلگت بلتستان میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ای کیئر پروگرام شروع

جی بی آر ایس پی اور یو این ڈی پی کے درمیان معاہدہ، تین ہزار…

6 hours ago

چین کی آب گاہیں: ماحولیاتی بحالی کا ایک جامع ماڈل؟

چین کا تجربہ پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ پاکستان مخصوص قوانین اور…

1 day ago

شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے تحقیق اور کمیونٹی ریزیلینس کا آغاز

شدید گرمی کے اثرات پر آئی بی اے کراچی اور الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے درمیان…

1 day ago

ہالیجی جھیل : مہمان پرندوں کی پناہ گاہ آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث ویران ہو رہی ہے

ہالیجی جھیل کا سب سے بڑا مسئلہ تازہ پانی کی فراہمی میں کمی اور آلودگی…

2 days ago

دو فروری آب گاہوں کا عالمی دن : کیا پاکستان کی آب گاہیں ختم ہو رہی ہیں؟

پاکستان کی آب گاہیں تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں، وجہ شہری پھیلاؤ، آلودگی اور…

3 days ago

قراقرم یونیورسٹی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت غیر سرکاری تنظیموں کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیق کے…

5 days ago

This website uses cookies.