فروزاں ماحولیاتی خبریں ماحولیاتی رپورٹس

نِپاہ وائرس: سندھ میں ہیلتھ الرٹ، خطرہ کتنا سنگین؟

Nipah Virus health alert issued in Sindh Pakistan

نِپاہ وائرس کے کیسز پڑوسی ملک میں سامنے آنے کے بعد سندھ بھر میں ہیلتھ الرٹ جاری۔ اسپتالوں کو حفاظتی اقدامات اور نگرانی سخت کرنے کی ہدایت جاری

پڑوسی ملک میں نئے نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد سندھ بھر میں ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ نے نِپاہ وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر احتیاطی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں اب تک نِپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

تاہم صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو الرٹ رہنے، حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور وفاقی وزارتِ صحت کی گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

Nipah Virus health alert issued in Sindh Pakistan
پڑوسی ملک میں نِپاہ وائرس کے کیسز کے بعد سندھ بھر میں ہیلتھ الرٹ، عوام کو احتیاط اور آگاہی کی ہدایت۔

نِپاہ وائرس (Nipah Virus) ایک نہایت خطرناک اور جان لیوا زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس پہلی بار 1998–1999 کے دوران ملائیشیا اور سنگاپور میں اس وقت سامنے آیا جب سور پالنے والے کسانوں میں ایک پراسرار بیماری پھیل گئی۔

اس وبا کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ سینکڑوں افراد متاثر ہوئے۔

ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس کا اصل قدرتی مسکن پٹیروپس نسل کے پھل کھانے والے چمگادڑ (فروٹ بیٹس) ہیں۔

یہ چمگادڑ وائرس کو اپنے جسم میں بغیر بیمار ہوئے محفوظ رکھتے ہیں، تاہم ان کے لعاب یا پیشاب سے آلودہ خوراک کے ذریعے یہ وائرس جانوروں اور پھر انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

وائرس کی منتقلی میں تبدیلی ملائیشیا میں ابتدائی وبا کے دوران وائرس سوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا، تاہم 2001 کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت میں سامنے آنے والے کیسز میں ایک اہم تبدیلی دیکھی گئی۔

یہاں نِپاہ وائرس براہِ راست چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا، خاص طور پر کچی کھجور کے رس کے ذریعے جو چمگادڑوں کے لعاب یا پیشاب سے آلودہ ہو جاتا ہے۔

بعض مواقع پر انسان سے انسان منتقلی بھی ریکارڈ کی گئی، خاص طور پر قریبی جسمانی رابطے اور طبی عملے میں۔

جغرافیائی پھیلاؤ اب تک نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ کا دائرہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا تک محدود رہا ہے، جن میں: ملائیشیا, سنگاپور, بنگلہ دیش, بھارت, فلپائن خصوصاً بنگلہ دیش میں تقریباً ہر سال دسمبر سے مارچ کے درمیان نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آتے ہیں، جبکہ بھارت کی ریاست کیرالا میں 2018 کے بعد وقفے وقفے سے محدود مگر خطرناک وبائیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ ہ

لاکت خیزی اور خطرات نِپاہ وائرس کی سب سے تشویشناک بات اس کی انتہائی بلند شرحِ اموات ہے، جو مختلف وباؤں میں 40 سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ وائرس شدید سانس کی بیماری اور دماغی سوزش (Encephalitis) کا سبب بنتا ہے، جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

عالمی تشویش نِپاہ وائرس کے لیے اب تک کوئی مؤثر ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، جس کے باعث عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے ترجیحی خطرناک پیتھوجنز کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

چونکہ پٹیروپس چمگادڑ ایشیا، آسٹریلیا اور افریقہ کے بعض حصوں میں وسیع پیمانے پر پائے جاتے ہیں، اس لیے مستقبل میں نئے علاقوں میں وائرس کے پھیلنے کا خدشہ مسلسل موجود ہے۔

نتیجہ

ماہرین صحت کے مطابق نِپاہ وائرس اگرچہ کووِڈ-19 جتنا متعدی نہیں، تاہم اس کی ہلاکت خیزی، تیز علامات اور محدود علاج اسے ایک سنگین عالمی خطرہ بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کھرمنگ آئس اسٹوپا: موسمیاتی تبدیلی کے مقابل کسانوں کی امید

جنریشن ایلفا کی ساحلی صفائی مہم: امید اور تضاد

بروقت نگرانی، عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر ہی اس وائرس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ نِپاہ وائرس کا نام ملائیشیا کی ریاست نیگری سمبیلان کے گاؤں ’’کیمپونگ سنگائی نِپاہ‘‘ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

یہی وہ گاؤں ہے جہاں 1999 میں سور پالنے والے کسانوں میں دماغی سوزش اور شدید سانس کی بیماری کی وبا کے بعد پہلی بار اس وائرس کو علیحدہ کر کے شناخت کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں