پاکستان اور ناروے کے درمیان پیرس معاہدہ آرٹیکل 6.2 کے تحت تاریخی معاہدہ
فرحین العاص، بیورو چیف اسلام آباد
پاکستان اور ناروے نے پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت پہلا تاریخی دوطرفہ معاہدہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن تجارت کے راستے کھل گئے ہیں۔ جبکہ کلائمیٹ فنانس، صاف توانائی اور کلائمیٹ اسمارٹ زراعت میں سرمایہ کاری کے لیے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے معاہدے کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ اور کہا کہ یہ پاکستان کو کاربن مارکیٹ کی تیاری سے عملی عمل درآمد کے مرحلے میں داخل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 6.2 کے تحت پاکستان کا پہلا دوطرفہ معاہدہ ہے۔ جو ماحولیاتی ترجیحات میں بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ فراہم کرے گا۔
مصدق ملک کے مطابق اس معاہدے کے تحت پاکستان صاف توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں ایسے منصوبے شروع کر سکے گا۔ جن سے کاربن کریڈٹس حاصل ہوں گے۔ اور ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی اخراج میں کمی ناروے کو فروخت کی جا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے۔ جب پاکستان سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی آفات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے یہ معاہدہ ملک میں بین الاقوامی مالی وسائل لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت جنوری 2025 میں کاربن ٹریڈنگ کے لیے قومی پالیسی رہنما اصول منظور کر چکی ہے۔ اور اب اس مارکیٹ کو فعال بنانے کے لیے قواعد، رپورٹنگ نظام اور دوطرفہ انتظامات تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
مینگروو جنگلات: ماحولیاتی خدمات اور معاشی مواقع
فوسل فیول اخراج کنندگان: جب فصلیں ڈوبیں اور منافع محفوظ رہا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ناروے کے سفیر پیر البرٹ الساس نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اور ناروے کو یقین ہے کہ یہ شراکت داری نہ صرف کاربن اخراج میں قابلِ پیمائش کمی لائے گی۔ بلکہ پاکستان میں حقیقی ترقی کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
نارویجن سفیر نے کہا کہ ناروے 2030 تک ماحولیاتی طور پر غیر جانبدار ملک بننے کے لیے پاکستان جیسے ممالک سے کاربن کریڈٹس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ناروے نے اس مقصد کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر مختص کیے ہیں جبکہ 2030ء تک ڈیڑھ کروڑ کاربن کریڈٹس خریدنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے زیر اہتمام تقریب میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کو عالمی کاربن مارکیٹ میں پاکستان کے باضابطہ داخلے کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ اسے ملکی ماحولیاتی سفارت کاری میں اہم پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان ماحولیاتی معاہدہ، بڑے دعوے اور اعلانات، مگر شراکت داری کی تفصیلات، اہداف، ٹائم…
فضائی آلودگی اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے سرحد پار “انگنگیٹک ایئر شیڈ…
مون سون سیزن میں ماہرین نے زور دیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے…
کراچی میں بارش کا امکان، محکمہ موسمیات نے 6 اپریل کو سندھ کے مختلف علاقوں…
جنگ کا ماحولیاتی چہرہ عالمی میڈیا کی ترجیحات میں اب بھی ثانوی، ماہرین نے جنگی…
پاکستان میں بڑھتے ہوئے آبی بحران، ماہرین کی وارننگ اور واٹر اسٹیورڈشپ کانفرنس 2026 میں…
This website uses cookies.